مکہ مکرمہ کے صحراؤں کی خاک سے اٹھی یہ تحریک یثرب کے ریگزاروں میں جا بسی اور الہٰی ہدایات کی روشنی میں قیل و قال سے ارباب جہاں کو کن فیکون کا تصور دیتی رہی۔ شب ِظلمت کی سیاہ کاریوں کے وہ دیو جو اپنی دنیائے سلطنت کے لئے اس تحریک کو سم قاتل سمجھتے تھے ،نے اب یثرب میں اسے پروان چڑھتے ہوئے اسے مٹانے کی سعی لاحاصل کرنے کے لئے محو سفر ہوگئے ۔ہم دیکھ سکیں تو دیکھ لیں کہ جو تحریک کے اولین نقوش ہیں، وہ انتہائی عظیم ہیں کہ انسانوں کو انسانی خداؤں کے نرغے سے نکالنے کے لئے محو جدوجہد ہیں، وہ اپنی سادگی اخلاقی قدروں کی بحالی معاشرے میں پیدا ہوئی نابرابری کی مخالفت میں کمر بستہ حیاء سوز حالات کے بدلاؤ ،بدی کی آماجگاہ بنی محافل کا طلسم توڑنے کے لئے پوری قوت سے مٹانے کی سعی کر رہی ہے اور قائد تحریک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لا مثال کردار و گفتار کے ساتھ اس تحریک کو مسلسل مقبولیت کی معراج کرائے جارہے ہیں۔ اب کفر نے ایک وار سے اس عظیم کارواں کو مٹانے کا ارادہ باندھ لیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی زندگی کو عزت دینے والے جو چرند و پرند کے حقوق کے پاسباں بنے ہوئے تھے، وہ کبھی بدر میں تو کبھی احد میں ،کبھی حنین میں تو کبھی خندق جیسے محاذ پر کھڑے ہیں ،انسانی عقل دھنگ رہ جاتی ہے جب قائد انقلاب مرشد اعظم مکہ مکرمہ کی وادی میں فاتح کی صورت میں واپس آتے ہیں تو سر اقدس جھکا ہوا ہے۔ معافیوں کے پروانے ان کو بھی دئے جاتے ہیں جنہوں نے جینے کی راہیں تک مسدود کر چکے تھے، جو ہر قسم کا جور جبر تشدد آزما چکے تھے ،پر آج قائد انقلاب محمد الرسول اللہ لا تثریب علیکم کا مژدہ محبت سنا کر ظلم و جبر کے سودا گروں کے دل دھل رہے ہیں، وہ شرمندہ ہو ہو کر اپنے کئے پر پشیماں ہو کر معافیاں مانگ رہے ہیں اور دل سے کلمہ طیبہ کا اقرار کر رہے ہیں۔
قائد انقلاب ، امام ِ کائنات ؐ کا ذکر ِ خیر
اب کے حق نے کیا ایسا ایک رسول
جس نے سروں کے ساتھ دلوں کو جھکا دیا
اور در محبت و عظمت سے ان کی ہر خطا سے ان کے ہر جبر سے یک طرفہ معافی کے پروانہ عطا کئے جارہے ہیں ۔یہ وہ تحریک تھی جسے مٹانے کی سعی کرنے کے لئے اہل ظلمت نے کیا کیا تدابیر نہ کیں، پر رب کریم نے اسے ترقی دینی تھی یہ اپنی منزل تک پہنچ ہی گئی۔
فاتح اعظم کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے ۔ان کی اخلاقی فتح یہی کہ ظلم و جبر کے فرستادے بھی جب سامنے آئے نادم ہوکر تو عفو و درگزر کے اس عظیم کارواں کے قائد نے معاف کردیا کسی قسم کا بدلہ تو دور کوئی سرزنش تک نہ کی ،نہ ہی انہیں ان کے لئے پر عار دلایا کبھی کہ تمہارے ظلم و ستم کے برسائے تیروں کے زخم اب بھی یاد بن کر موجود ہیں ،ہمارے ساتھ کیا زمانے میں ایسا کوئی فاتح ہے، جس کی مثال دی جاسکے۔ نہ ہے نہ ہوگا تا قیامت۔ یہاں تک پہنچنے کے بعد مناسب ہے کہ سیرت کا وہ باب بھی سمجھنے کی سعی کی جائے جو لازم ہے سمجھنا اور جس کے ماننے کے سوا کوئی راہ ہے ہی نہیں ۔
آمد کا مقصد:سنت الٰہیہ کے مطابق انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا اولین مقصد بندگان اللہ کو ہر شرکیہ اور کفریہ نظریہ سے نکال کر توحید باری سے جوڑنا ہوتا ہے۔ اثبات کے لئے قرآنی آیات موجود ہیں ۔
رسالت کی تصدیق: سنت الٰہیہ یہ بھی کہ کسی عظیم شخصیت کا انتخاب کرکے اس کی طرف وحی کی جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا ہوا نبی ہوتا ہے، جس کا کام الٰہی احکامات کے ساتھ ساتھ رسالت کا تعارف بھی ہوتا ہے تاکہ انسان ایک قائدکے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور بندگی کا حق ادا کرسکے، اجتماعیت کے ساتھ اور اس اس اجتماعیت کا جو امام ہو، وہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا ہوا نبی ہی ہو، جو پوری قوم میں سب سے بہتر ہو۔
معاشرے کی اصلاح :معاشرے میں بگاڑ اخلاقی دیوالیہ، تشدد ظلم و جبر، تہذیبی جارحیت انسانوں میں بھید بھاؤ اونچ نیچ، حد سے زیادہ گناہوں کی آمد ایسے ہی مختلف اسباب ہوتے ہیں جن کے لئے سنت الٰہیہ یہی ہے کہ ان میں رب العزت کے احکام کی پیروی کی جائے اور نبوی ہدایات کی اتباع کی جائے کیوں کہ جب بھی کسی قوم میں بگاڑ آیا وہ تو ابتداء میں معاشرے اور سماج میں برائی کے ورود سے ہی شروع ہوا ،اس کے لئے کافی یہی ہے کہ زمانہ رسالت سے قبل کے عرب کے حالات کو پڑھا جائے ،وہاں کی تہذیبی اور ثقافتی روایات کی غلاظت کو پڑھا جائے، پورے عالم کے حالات ایسے ہی تھے، مرد و خواتین کے انسانی حقوق میں تفریق ، اونچ نیچ، مار دھاڑ، ظلم و جبر، بدکاری و فحاشی کا عام ہونا حیاء سوز حالات، ان کی اصلاح بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا ایک سبب ہوتا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں پر توجہ دی اور صالح معاشرے کی داغ بیل ڈال دی اور اس پر عمل کی اور کرنے کی ترغیب دی۔ کچھ باتیں عرض ہیں :
بڑائی اور اپنے قد کی اونچائی اپنے مرتبے کا نشہ انسان سے کیا کیا نہیں کراتا، حسن و خوبصورتی یا جسمانی قوت کا مظاہرہ انسان کی عقل میں یہ فتور پیدا کر دیتا ہے کہ تو سب سے فائق و لائق ہے، پر اسلام میں ایسی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں تقوی شعاری ہی سب سے مقدم و فائق ہے۔ ایک ایسا واقعہ جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے .
ایک بار حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے منہ سے نکل جاتا ہے :’’آئے کالی کلوٹی ماں کے بیٹے! اب تو بھی میری غلطیاں نکالے گا‘‘۔
بلال یہ سن کر غصے اور افسوس سے بے قرار ہو کر یہ کہتے ہوے اُٹھے۔ خدا کی قسم! میں اسے ضرور بالضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اٹھاؤں گا!
یہ سن کر اللہ کے رسولؐ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپؐ نے ارشاد فرمایا: ابوذر! کیا تم نے اسے ماں کی عار دلائی؟ تمھارے اندر کی جہالت اب تک نہ گئی؟
اتنا سننا تھا کہ ابوذر یہ کہتے ہوے رونے لگے: یا رسول اللہؐ! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئے اور پھر روتے ہوے مسجد سے نکلے۔باہر آکر اپنا رخسار مٹی پر رکھ دیا۔
اور بلال سے مخاطب ہو کر کہنے لگے.'بلال! جب تک تم میرے رخسار کو اپنے پاْوں سے نہ روند دوگے، میں اسے مٹی سے نہ اٹھاؤں گا۔ یقیناً تم معزز و محترم ہو اور میں ذلیل و خوار!
یہ دیکھ کر بلال روتے ہوے آئے اور ابوذر سے قریب ہو کر ان کے رخسار کو چوم لیا اور بے ساختہ گویا ہوئے: خدائے پاک کی قسم! میں اس رخسار کو کیسے روند سکتا ہوں، جس نے ایک بار بھی خدا کو سجدہ کیا ہو۔ پھر دونوں کھڑے ہو کر گلے ملے اور بہت روئے۔ اور آج ہم میں سے ہر ایک دوسرے کی دسیوں بار ہتک کرتا ہے مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ ’’بھائی! معاف کریں۔ بہن! معذرت قبول کریں‘‘۔ یہ سچ ہے کہ ہم آئے دن لوگوں کے جذبات کو چھلنی کر دیتے ہیں مگر ہم معذرت کے الفاظ تک زبان سے ادا نہیں کرتے اور ''معاف کر دیجیے'' جیسا ایک عدد لفظ کہتے بھی ہمیں شرم آتی ہے۔
معافی مانگنا عمدہ ثقافت اور بہترین اخلاق ہے۔ جب کہ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خود کی بے عزتی اور اہانت ہے۔ ہم سب مسافر ہیں اور سامانِ سفر نہایت تھوڑا ہے۔ ہم سب دنیا و آخرت میں اللہ سے معافی اور درگزر کا سوال کرتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں تاریخ اسلامی کے پنوں پر بکھری ہوئی مل سکتی ہیں تو کیا ہم اس زمانے میں ایسی مثال کی کوئی مثال دکھا سکتے ہیں اہل جہاں کو، یہ تاریخ اسلامی کے وہ دو درویش ہیں جن کے تقوی شعاری، پرہیزگاری، دیانت داری پر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ ان کی آپسی تعلق میں کوئی کجی پیدا نہ ہو ا،ایک دوسرے پر یوں وارے جاتے ہیں تو آئے اہل ایمان ہم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے ۔یہ تو ایک مثال ہے۔ ہمارا حال بھی کسی بگڑی ہوئی سابقہ قوم سے کوئی کم نہیں ہے ۔ہمارے معاشرے میں جو بگاڑ ہے، اسے مسجد میں مانگی دعائیں ہی ٹھیک نہیں کرسکتی ہیں بلکہ اس کے لئے اسلام کو معاشرے میں بھی ،سماج سوسائیٹی میں بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم صرف مصلے کی حدود تک نبی مبعوث نہیں کئے گئے بلکہ گود سے لحد تک جتنے مراحل آتے ہیں یا آئیں گئے ہر جگہ کے قائد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو کیا سبب کہ ہمیں اپنے صاحب ایمان ہونے کے لئے اپنے نام کے ساتھ نمازی، حاجی، روزہ دار وغیرہ جوڑنے پڑھتے ہیں۔ کیا اخلاقی قدروں کی پامالی کرکے ہم خود کو نبوی منہج کے متبعین گرداں سکتے ہیں۔ زنا بدکاری، حیاء سوز حالات معاشرے میں بگاڑ ،انسانیت سے دشمنی، آپسی رسہ کشی، ہمسائیگی کے معاملات سے صرف ِنظر احکام الٰہی کی اعلانیہ نافرمانی، عقائد باطلہ، نظریاتی پستی، فکری دیوالیہ، بیٹی کے تولد ہونے سے نفرت، چوری چکاری یہ سب معاشرے کے مسائل ہیں ۔اس کے علاوہ ہماری عبادت گاہوں کا خالی ہونا بھی ہمیں دعوت فکر دیتی ہے ۔تو آیئے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام! کیا اب بھی وقت نہیں کہ ہم بدلاؤ لائیں، اپنے حالات و کوائف میں ۔
(سوپور کشمیر)