شوپیان // قصبہ کے مضافاتی گائوں میں فوج کی طرف سے افطار پارٹی منعقد کرنے پر تشدد بھڑک اٹھا جس کے دوران ایک2بہنیں سمیت 4لڑکیاں گولیاں لگنے سے زخمی ہوئیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق 34آر آر کیمپ امام صاحب سے وابستہ اہلکار درد کالی پورہ (ڈی کے پورہ )گائوں میں افطار پارٹی کا اہتمام کرنے کیلئے آئے تھے اور انہوں نے گائوں میں کھانے پینے کے سٹال سجائے تھے۔ لیکن مقامی لوگوں نے اسکے خلاف احتجاج کیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باوجود فوجی اہلکار گائوں سے نہیں گئے۔ اس موقعہ پر لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے سٹال تہس نہس کئے اور پتھرائو بھی کیا۔ جواب میں فورسز اہلکاروں نے ہوا میں گولیاں چلائیں ، جس کے بعد مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 14سالہ لڑکی اقصیٰ جان دختر محمد ایوب ماگرے ،شوبی جان دختر عبدالقیوم حجام ، دو بہنیں شاکرہ اختر اور شافی جان دختران عبدالحمید بٹ گولیاں لگنے سے شدید طورپر زخمی ہوئیںجن میں سے ایک کو شوپیان اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ تین کوکولگام ہسپتال میں داخل کیا گیا ۔ڈاکٹروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اقصیٰ نامی لڑکی کو گہرا زخم نہیں لگا تھابلکہ گولی اُس کے پیٹ کو چھو کر نکلی تھی ۔ اس سلسلے میں پولیس کی طرف سے جو بیان دیا گیا اس کے مطابق 34آر آر کی گشتی پارٹی جامع مسجد ڈی کے پورہ میں افطار پارٹی کا اہتمام کرانے کیلئے گئی تھی اس دوران شر پسند عناصر نے اُن پر پتھرائو کیا جس کے بعد فوجی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی جس کے باعث چار افراد زخمی ہوئے ۔ اُن سبھی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پولیس نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی ہے۔مقامی لوگوںنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے فوجی اہلکاروں سے کہا تھا کہ وہ گائوں کا امن درہم برہم نہ کریں لیکن انہوں نے افطار پارٹی کا اہتمام کرنے کے دوران مقامی لوگوں کی تصاویریں کھینچنا شروع کیں جس پر لوگ احتجاج کرنے لگے اور اُن سے کہا گیا کہ وہ پر امن طور پر گائوںسے چلے جائیں ۔