یواین آئی
اقوام متحدہ// اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے، فلسطین کے شہر غزہ کے قحط بحران میں جان لیوا اضافے کی وجہ سے، علاقے میں انسانی امداد کی رسائی میں فوری بہتری کی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔ نیویارک میں سلامتی کونسل اجلاس سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا ہے کہ بحیثیت ایک قابض قوّت کے اسرائیل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے، انسانی امداد کی رسائی کو بہتر بنائے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرے۔گوتریس نے کہا ہے کہ خوراک، پانی اور صحت کے نظاموں کی منظم شکل میں تباہی’ایسے دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں‘۔واضح رہے کہ قحط کے اعلان نے اسرائیل پر ، کہ جو 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کش جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔اسرائیل نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ نیتان یاہو حماس کی قبول کردہ فائر بندی تجویز کو لٹکا رہے ہیں اور غزہ شہر پر مکمل قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ بھوک کے نگران عالمی ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن ‘IPC’ نے غزہ میں قحط کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اسرائیل نے اس اعلان کو مسترد کر دیا اور بدھ کے روز باضابطہ طور پر IPC سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں داخل کی جانے والی خوراک اور دیگر اشیاء کی امداد 22 ماہ کی لڑائی، رواں سال کے اوائل میں امداد کی ناکہ بندی اور غزہ میں خوراک کی پیداوار کے خاتمے کے بعدنا کافی ہے۔ عالمی خوراک پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مک کین نے کہا ہے کہ اس ہفتے غزہ کے دورے کے دوران علاقے میں خوراک کی شدید قلت “بہت واضح” دِکھائی دے رہی تھی۔خوراک کے بحرانوں پر دنیا کے سب سے بڑی اتھارٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ غزہ کے سب سے بڑے شہر میں قحط کا سامنا ہے، اور اگر جنگ بندی اور انسانی امداد پر پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو یہ قحط پورے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ “میں نے ذاتی طور پر غزہ میں ماؤں اور بچوں سے ملاقات کی جو بھوک سے مر رہے تھے۔ یہ سب کچھ حقیقت ہے اور اس وقت درپیش ہے۔اسرائیل اب غزہ شہر پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں لاکھوں فلسطینی پناہ لئے ہوئے ہیں۔