عمارت گر چْکی لیکن ابھی آثار باقی ہیں
گئی گزرْی محبت کے کئی اسرار باقی ہیں
صداقت پْھول سے لہجے میں ہم نے کیا بیاں کردی
ہماری راہ میں اب عْمر بھر کے خار باقی ہیں
خزانہ داد کا خالی ابھی مت کیجئے صاحب
میری زنبیل میں کچھ اور بھی اشعار باقی ہیں
جو رنگوں سے بیاں کر دیں ستم کی ہر کہانی کو
ہمارے شہر میں ایسے کئی فنکار باقی ہیں
پرندے کر کے ہجرت اس لئے آئے ادھر شاید
ابھی کچھ آشیانوں کے لئے اشجار باقی ہیں
اگر چھت لے گئی آندھی تو اب بھی کچھ سہارا ہے
کہ سائے کے لئے گھر کے در و دیوار باقی ہیں
بنا کر دیکھ لے یوسف، مجھے مل جائے گی قیمت
خریداری کی خاطر مِصر کے بازار باقی ہیں
کہاں منصور و سرمد سا کوئی سر مست ہے پیدا
فراِز ِ عشق پر لیکن صلیب و دار باقی ہیں
ادب کی اس زبوْں حالی میں اے مانوسؔ اب بھی کچھ
مہذب شاعری اور شعر کے معیار باقی ہیں
نٹی پورہ سرینگر ،موبائیل :- 9622937142