سوندھی مٹی کی مہک چھپر کی دھوپ
بھیگتی بارش میں اکتوبر کی دھوپ
گاؤں میں پردیس جیسا غم نہیں
یہ تاثر دے رہی ہے گھر کی دھوپ
جنوری کی صبح بر فیلی ہوا
ایسے میں بے فیض بام و در کی دھوپ
ایک دھوکا ہے سرابوں کی چمک
دل شکن آمیز صحرا بھر کی دھوپ
امرِ مشکل چشمِ بینا کے لئے
سایۂ دیوار سے باہر کی دھوپ
کیوں نہ تبدیلی نظر کو بھائے گی
رمز سے معمور پس منظر کی دھوپ
مبتلا کب سے پریشانی میں ہوں
سایۂ ابرِ گریزاں سر کی دھوپ
خیر کا ماحول پیدا کیجئے
زہر لگتی ہے ادب میں شر کی دھوپ
میری قسمت ہے ستائش میں غیاثؔ
اوڑھ کر جیتا ہوں صحرا بھر کی دھوپ
غیاثؔ انور شہودی
ہوگلی، مغربی بنگال
موبائل نمبر؛9903760094
[email protected]
یار کب یار سمجھتے ہیں مجھے
پیشِ اغیار سمجھتے ہیں مجھے
دیکھ سرحد نشیں ہوں کب سے پڑا
چرخ غدّار سمجھتے ہیں مجھے
پارۂ دل کہاں سے ڈھونڈے مجھے
تیغِ خونخوار سمجھتے ہیں مجھے
دشمنی جن سے نبھائی تھی ہم نے
یاروں کے یار سمجھتے ہیں مجھے
آتشِ لمعہ فگن کہہ رہا ،سب
نقش دیوار سمجھتے ہیں مجھے
آئے گا دور مکافات کا وقت
جان سالار سمجھتے ہیں مجھے
عالمِ تاب و تواں نے کی مجال
لائقِ کار سمجھتے ہیں مجھے
چھن گیا مجھ سے مرا صبر و قرار
غم کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
پھر کوئی آکے سمائے گا اِدھر
سینۂ افگار سمجھتے ہیں مجھے
یاورؔ حبیب ڈار
بٹہ کوٹ ہندوارہ ،کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
نا محبت نہ کوئی اعتبار ہے
نا ترا اب کوئی بھی انتظار ہے
نا گلہ ہے کوئی نہ شکوہ بھی کوئی
اب ترے عشق پہ نہ اعتبار ہے
خوب تھی یاد گاریں بھی حسیں تری
اب نہیں کوئی بھی یاد گار ہے
یاد میں اُس کی بے قرار دل بھی تھا
اب مرا دل تو فقط کوئی مزار ہے
جب نہیں ہے کوئی بھی واسطہ تجھے
آنکھ کیوں پھر تری بھی یوں اشکبار ہے
اب جفا ہو وفا کوئی نہ حق تمہیں
مُجھ پہ نا اب کوئی بھی اختیار ہے
کیسر خان قیس
ٹنگواری بالا ضلع بارہمولہ کشمیر
تیری گفتار ہے چاشنی کی طرح
تیرا انداز ہے راگنی کی طرح
اب پرانا وہ ناطہ ختم بھی کرو
مجھ سے ملنا ذرا اجنبی کی طرح
تم کو محسوس ہونے نہ دوں گا مگر
تیرے پیچھے چلوں گا چھبی کی طرح
ہو کے تم غیر کے بھول جانا مجھے
کل بھی ہنس کھیلنا تم ابھی کی طرح
تم سمندر کی تہہ میں ہو سانسیں میری
تم ہو زندان میں روشنی کی طرح
اے فلکؔ یہ عبادت تیری ،اُف خدا
گویا ملحد کی ہو بندگی کی طرح
فلکؔ ریاض
حسینی کالونی چھترگام کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109
اُنکے چاہنے والے اُن سے کیوں اَب دستبرار ہوئے
ایسا ہونے سے پہلے کیوں نا ہم سب بیدار ہوئے
کیوں آنکھوں کے ملنے، ہونٹوں کے کھلنے پہ جشن کیا
حال ہے اب سوچا کرتے کیسے ہم تب افکار ہوئے
اُنکی محفل سے جس جس نے بھی وہ ہاتھوں سے جام لیا
جسکو پی کر ڈوبے ساری عمر سبھی سرشار ہوئے
یونہی اُنکے گیسو کے سائے میں سب لمحات کٹے
تانے بانے وقت کے سب چھوٹے اب ہم احرار ہوئے
گذری راتیں کھوئے خوابوں میں دن نکلے یادوں میں
دیکھئے اَن گنت شب و روز وہ شمسیؔ کے بیکار ہوئے
شفیع شمسیؔ
ہمہامہ، ہائٹس، سرینگر ،کشمیر
موبائل نمبر؛9541413537
دُکھ اُٹھا کر دُکھ چھپانا یہ بھی دنیا داری ہے
لب پہ شکوہ تک نہ لانا یہ بھی دنیا داری ہے
غم کو پلکوں پر سجانا یہ بھی دنیا داری ہے
کرب میں بھی مسکرانا یہ بھی دنیا داری ہے
آنسوؤں سے رات بھر تکیے بِگھونا جابجا
صبح دنیا کو دِکھانا یہ بھی دنیا داری ہے
پیار میں رُسوائیاں ہو، دل ہو زخمی اور فنا
پھر بھی رشتے کو نبھانا یہ بھی دنیا داری ہے
چاہ کر بھی لب پہ اپنے سچ نہ لانا عمر بھر
بات دل میں ہی دبانا یہ بھی دنیا داری ہے
زندگی کی راہ میں جب ساتھ چھوڑیں ہم نشیں
غم کی شدت کو چھپانا یہ بھی دنیا داری ہے
ہجر کو تسلیم کر کے آگے عذرا ؔبڑھنا تم
جو گیا اس کو بھُلانا یہ بھی دنیا داری ہے
عذراؔ حکاک
گوجوارہ، سرینگر، کشمیر
[email protected]