قہر سا چاروں سمت بپا تھا
سمجھ میں کیا آئے یہ کیا تھا
اُس کے لئے دنیا صحرا تھا
جو اِس دنیا میں تنہا تھا
ہونٹ ترستے تھے قطروں کو
آنکھوں سے بہتا دریا تھا
نہیں تھا نام ونشاں راحت کا
غم کا پھیلا اِک صحرا تھا
ہر اک بات میں طنزتھا شامل
اُس کا سلوک بہت اچھا تھا
دیکھ رہے ہیں آج وقت جو
ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا
چُھپا ہوا تھا میرے دل میں
دور دور جس کو ڈھونڈا تھا
چلو ہتاشؔ سے چل کر پوچھیں
آخر اُس کے دل میں کیا تھا
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
غلطی سے اک روز مرازن شہزادی سے پیار ہوا
ہونٹوں پر تو بات نہ آئی آنکھوں سے اِقرار ہوا
اپنا تن من دھن کیا سارا جیون اس پر وار دیا
برسوں تک اِقرار تھا راتوں رات وہی انکار ہوا
شال اسے جو بھیجا ہم نے برفیلے اک موسم میں
لوگوں نے افواہ اُڑائی، عشق نہیں بیوپار ہوا
میں بھی کتنا سیدھا سادہ سیدھے جال میں آبیٹھا
زلفوں کی اک لہراہٹ کی سازش سے دوچار ہوا
اُنکی ہر خواہش پر اپنی ہر خواہش قربان جو کی
قتل یوں اپنے آپ کا ہم سے ایک نہیں سو بار ہوا
جانے کیا تعویز کھلائی ساون کی بارش کے ساتھ
ساون اچھا خاصا گزرا بھادوں میں بیمار ہوا
انکے نام پہ کتنی غزلیں نظمیں لکھیں یاد نہیں
شیداؔ اپنی کشتی ڈوبی ان کا بیڑا پار ہوا
علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اسلام ا?باد، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
دوستوں کی دوستی کو اجر تک لے آئیے
پھر تمناؤں کی میّت قبر تک لے آئیے
مشکلیں آسان ہو جائینگیں ساری ایک دن
پہلے اس دل کو مقامِ صبر تک لے آئیے
کچھ نہیں بس آپ دو آنسو بہانے کے لئے
میرے قاتل کو بھی میری قبر تک لے آئیے
اُس طرح اردو زباں کو پھر بقاء مل جائے گی
آپ اپنا ذِکر نَظم و نثر تک لے آئیے
پھر کسی منصور کا چرچا کریں دار و رسن
بیخودی کو کم سے کم اس جبر تک لے آئیے
جس کو سجدوں سے نوازا تھا فرشتوں نے کبھی
آپ اپنے آپ کو اُس فخر تک لے آئیے
حضرتِ مصداقؔ جشنِ گلستاں ہونے کو ہے
دل کے ویرانے نگاہِ عصر تک لے آئیے
مصداقؔ اعظمی
جوماں، پھولپور، اعظم گڑھ،یو پی
موبائل نمبر؛9451431700
وصل کا جب نہیں کوئی امکاں آخر!
دل پہ ہوتا ہے کیوں دستک کا گماں آخر !
کاش !مجھ پہ بھی یوں کوئی مہرباں ہو جائے
میری جانمیں آ جائے گی سداجاں آخر!
دل میں خواہشوں کا اک ہجوم اُمڈ آتا ہے
تھم جائے گا کسی روز یہ طوفاں آخر!
یوں دولتِ حسن پہ تیرا اِترانا کیسا!
مٹ جائے گا کسی روز یہ جہاںآخر!
تمام عمر یوں کسی بات پہ رونا آئے گا
یاد جب آنے لگےکسی کا عہدوپیماں آخر!
ہجر کی کڑی دھوپ میںیوں جھلستے رہے برسوں
ہے یہ کیسی گھڑی ، یہ کیسا امتحاں آخر!
کوئی تو آئے گا مشتاقؔ تیری خاطر مدارت کیلئے
کوئی تو ہوگا تیرے درد کا درماں آخر !
خوشنویس میر مشتا قؔ
ایسو، اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9797852916
اب پُرانا وہ ناطہ ختم بھی کرو
توڑ ڈالو مجھے اِن سبھی کی طرح
تم کو محسوس ہونے نہ دوں گا مگر
تیرے پیچھے چلوں گا چھبی کی طرح
ہو کے تم غیر کے بھول جانا مجھے
کل بھی ہنس کھیلنا تم ابھی کی طرح
تم سمندر کی تہہ میں ہو سانسیں میری
تم ہو زندان میں روشنی کی طرح
ہاں غنیمت بھی ہو تم اور نایاب بھی
تم فلسطیں میں ہو زندگی کی طرح
اے فلکؔ یہ عبادت تیری ۔اُف خدا
گویا ملحد کی ہو بندگی کی طرح
فلک ریاض
حسینی کالونی چھترگام کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109