ایسے لگتا ہے وہ ہزاروں میں
چاند ہوتا ہے جیسے تاروں میں
میری آنکھوں میں جھانک کر اس نے
کہہ دیا حالِ دل اشاروں میں
کون مرتا ہے تم پہ میری طرح
ڈھونڈئیے اپنے جاں نثاروں میں
جانے کیسی ہوا چلی اب کے
پھول مرجھا گئے بہاروں میں
ان کے حسن و جمال کا اکثر
ذکر ہوتا ہے دین داروں میں
جائیں گے ایک دن وہ کاندھوں پر
لوگ جو پھر رہے ہیں کاروں میں
ڈوبتوں کو بچا سکیں اے رفیق
وصف ، اتنا کہاں کناروں میں
رفیق عثمانی
سابق آفس سپرانٹنڈٹ BSNL
آکولہ ، مہاراشٹرا
نہ اپنے عیب نہ اُس کی خطا پہ رونا ہے
ہمیں تو بخت میں لکھی سزا پہ رونا ہے
عبادتیں بھی کریں کیا، کہ ہم حقیروں کو
کبھی دعا کبھی دستِ دعا پہ رونا ہے
تمام عمر مناظر کریں گے پیاس کے یاد
تمام عمر ہمیں کربلا پہ رونا ہے
کچھ ایسی درد میں لذت رکھی ہے جانِ جاں
دوا ملے بھی اگر تو دوا پہ رونا ہے
مرے حبیب نمائش کی شے یہ ہجر نہیں
یہ غم وہ ہے جسے اپنی جگہ پہ رونا ہے
مسرتیں ہوں اداسی ہو اِس سے کیا مطلب
ہمیں تو زیست کی ہر ہر ادا پہ رونا ہے
سکھا دیا ہے ہمیں زندگی نے اب ممتازؔ
کہاں پہ ہنسنا ہے اور کس جگہ پہ رونا ہے
ممتازؔ چودھری
راجوری، جموں
پاک دل کو بدی سے کرنا تھا
تب گلہ زندگی سے کرنا تھا
پار اترنے کی اس کو جلدی تھی
کیا کنارہ ندی سے کرنا تھا
تجزیہ پہلے خود ہی کر لیتے
تذکرہ تب کسی سے کرنا تھا
پیاس کی رفعتوں کا اندازہ
نامِ ابنِ علیؓ سے کرنا تھا
آنسوؤں کی سواری آئی تھی
خیر مقدم خوشی سے کرنا تھا
تھا سمندر تو سامنے لیکن
تَر گلا تشنگی سے کرنا تھا
کس نے روکا تھا شور کرنے سے
ہاں مگر خامشی سے کرنا تھا
شاہراہیں اثر میں آ جاتیں
راستہ اک گلی سے کرنا تھا
بے رُخی پاش پاش ہو جاتی
بس گلہ عاجزی سے کرنا تھا
سب سے ملتا ہے بے حجاب قمرؔ
اس کو پردہ مجھی سے کرنا تھا
عمران قمرؔ
رکن پور، شکوہ آباد ، اتر پردیش
موبائل نمبر؛8920472523
زیست! پہچان کھو رہی ہے تُو
قحط سالی میں سو رہی ہے تُو
ہجر کی شاخ یاد کر کر کے
دشت سارا بِھگو رہی ہے تُو
کہتے ہیں بن گئی ہے تُو دھوبن
کہتے ہیں کپڑے دھو رہی ہے تُو
چاندنی! پاسِ آبرو رکھ اب
چاندنی! سب ڈبو رہی ہے تُو
آب و گِل کی حسین آنکھ بتا
بات کیا ہے جو رو رہی ہے تُو
اے مری سانولی جدائی سن
کانٹے ہر دم چبھو رہی ہے تُو
ہے تذبذب کہ لاشِ بسملؔ پر
ہنس رہی کے کہ رو رہی ہے تُو
سید مرتضیٰ بسملؔ