نگاہ بھر کے وہ اکثر نہارتا ہے مجھے
یہ کون شیشے میں اپنے اتار تا ہے مجھے
ہے یہ بھی نفرت و قربت کا باہمی سودا
نہ جیتتا ہے کوئی اور نہ ہارتا ہے مجھے
نہ جانو تم ہو کہ یہ گردشِ زمانہ ہے
بدل کے لہجہ کوئی تو پْکارتا ہے مجھے
میں آب و گِل سے بنا پیکِرحقیر سہی
تمھارا حْسِن نظر ہی سنوارتا ہے مجھے
تو کیوں نہ سچ کے لئے یہ زبان کٹ جائے
سکوتِ لب بھی تو بے مو ت مارتا ہوا مجھے
ڈاکٹر سید شبیب ؔرضوی
اندرونِ کاٹھی دروازہ ،رعناواری سرینگر
موبائل :-9906885395
سوالوں کے جوابوں میں تو آئے
وہ ہم خانہ خرابوں میں تو آئے
جو امکاں سے پرے ہے ایک پیکر
وہ کم سے کم سرابوں میں تو آئے
بسانا ہے نواح جاں میں جس کو
خیالوں اور خوابوں میں تو آئے
اگر ڈر ہے اسے رسوائیوں کا
وہ سو پردوں ‘ حجابوں میں تو آئے
مجھے مدہوش رکھے وہ ہمیشہ
نشہ بن کر شرابوں میں تو آئے
مری قسمت میں جو لکھا نہیں ہے
دعاؤں کے ثوابوں میں تو آئے
سبھی ہیں منتظر بلراج جس کے
زباں بن کر کتابوں میں تو آئے
بلراج ؔبخشی
عید گاہ روڑ ادھمپور، جموں
موبائل :-9419339303
اب تو امید و ضبط کا پیمانہ بھر گیا
بادِ صبا بتادے مسیحا کدھر گیا
اے دوست ضبطِ ہجر کی کوشش کے باوجود
محسوس اک خلا سا ہوا میں جدھر گیا
کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کیا گذر گئی
بس آپ کی بلا سے جیا یا کہ مر گیا
میں تو سنا رہا تھا کسی با وفا کی بات
یہ کیا ہوا کہ آپ کا چہرہ اُتر گیا
راہ ِ وفا کا بس یہی انجام ہے بشیرؔ
کوئی تباہ ہو گیا ، کوئی سنور گیا
اتنی ہوئی ہیں بارش ِ الطاف و التفات
دامن ہمارا اشکِ ندامت سے بھر گیا
آثمؔ ہیں ذہن میں ابھی سرمستیاں وہی
گو التفاتِ خاص کا عالم گذر گیا
بشیر آثمؔ کشمیری
راط؛جے پور،موبائل نمبر9829340787
ذرا سی بُھول کی ہم کو ملی سزا برسوں
عجب یہ کیسے طور سے چلتی رہی ہوا برسوں
ہمارے شہر میں کیوں موت اب بھی رقصاں ہے
نہ جانے کون سے کرموں کی ہے سزا برسوں
ہر ایک شام تری یاد لے کے آتی ہے
ہر ایک صبح ترے نام سے روا برسوں
یہ کس مقام پہ آکے رُکا سفر اپنا؟
لگے ہے جیسے میں بیٹھا یہاں رہا برسوں
جو ہم نے غیر کی تعریف یونہی کر ڈالی
اسی خطا پہ وہ بیٹھے رہے خفا برسوں
بڑھالئے ہیں مرا سم مرے رقسوں سے
وہ آزماتے رہے ہیں مری وفا برسوں
جو نغمے ہم نے کبھی مل کے ساتھ گائے تھے
چمن میں گونج رہی ہے وہی صدا برسوں
تُم اس جہان میں جاوید کس کو ڈھونڈتے ہو؟
وہی جو رنگ بدلتا یہاں رہابرسوں ؟
جاوید شبیرؔ
اولڈ ایئر پورٹ روڈ۔راولپورہ سرینگر
941911881
زندگی کا حساب ہو جائے
بندگی پُر شباب ہو جائے
دِل کی قیمت بڑے گی کیا غم ہے
ٹوٹ جائے خراب ہو جائے
ہے اشارہ بہک گیا ایمان
جب بھی شربت شراب ہوجائے
حُسن اہلِ ہوس کے گھیرے میں
عشق نذرِ شباب ہوجائے
ڈالے جاتے ہیں آگ میں انسان
دور کب یہ عذاب ہو جائے
ہے یہ اعزاز کی کُھلی توہین
چور عزت مآب ہو جائے
شہرِ غربت کی شانتی دیگا
کاش ہادیؔ نواب ہوجائے
حیدر ہادیؔ
رابطہ؛زیارت بتہ مالو،موبائل نمبر؛8803032970
جو ڈوبا ہے محبت میں وہ آخر مر کے نکلے گا
رگوں میں دوڑنے والا اثر تو کر کے نکلے گا
کھلے کا زخم، ہے خطرہ اُسے اس موسم گُل میں
مجھے یہ خوف میرے گھائو کو وہ بھر کے نکلے گا
بہت خاموش بیٹھا ہے میرے اندر جنوں میرا
ڈرا دے گا زمانے کو،یاخود ہی ڈر کے نکلے گا
جسے تْم ڈوبتی کشتی میں تنہا چھوڑ آئے ہو
وہی اک دن سمندر سے پیالہ بھر کے نکلے گا
کِسے لائے ہو میرے جاں نثارو مْنصفی کرنے
یہ میرے خون کی تہمت مْجھی پہ دھر کے نکلے گا
سردار جاوید خان
رابطہ؛مینڈھر،پونچھ
موبائل نمبر؛ 9697440404
خواہش نہ جستجو ہے، نہ ہوں اپنے روبرو
گزری ہے رات آنکھ میں، تب جاکے ملی ضو
تو میرا ہے میں تیرا، سُنی ہے یہی صدا!
لیکن کبھی نہ دیکھا میں نے تجھ کو روبرو
ہے چاہتوں کی بھیڑ بہت میرے چاروں اور
ان دیکھی اور ان سُنی کیا ہوگی ہوبہو؟
بیزار نہیں زندگی کی کلفتوں سے میں
ہیں میرے ساتھ جامِ جہاں، ساغر و صبو
اے آسماں یہ تیری مہربانیاں ہیں بس!
ورنہ مرا وجود کیا اور میرا یہ وضو؟
آزاد ؔشوکت حسین ملک
زلنگام کوکرناگ
موبائل نمبر؛9596481278