طرحی غزل
یہ تو سوچا ہی نہ تھا ایسا بھی منظر ہوگا
کوبکو شہر میں افواج کا لشکر ہوگا
اب کسی طور بھی راحت نہیں ملنے والی
خواب آنکھوں میں لییے کانٹوں پہ بستر ہوگا
اک ہری شاخ بھی مجھکو نہ کبھی دے پایا
’’وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر ہوگا‘‘
قائدِ قوم سے ہر روز یہ ووٹر پوچھے
کیا کوئی دن میرا اس ملک میں بہتر ہوگا
عدل و انصاف کو اقدار بنالو بھئی
ظلم سے باز نہ آوگے تو محشر ہوگا
زن مریدی کا یہ انداز نہ دیکھا تھا کبھی
دست بستہ کھڑا دروازے پہ شوہر ہوگا
چاک وچوبند تھے جب کھاتے تھے روکھی سوکھی
کس کو معلوم تھا گھی کھائیں گے شوگر ہوگا
تم بھی چپ چاپ گزر جاو یہاں سے بسملؔ
حق جو بولو گے تو ہر ہاتھ میں پتھر ہوگا
خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی، راجوری،9622045324
مدت سے لا پتہ ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
کھوئی ہوئی وفا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
پھر ہاتھیوں کے لشکر ہونے کوہیں منظم
یلغارِ ابرہہ ہے کیا آپ جانتے ہیں؟
ماحول کی نوازش ہم سب پہ آج کل ہے
بگڑی ہوئی فضاہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
بدنام بستیوں میںلٹتی ہے میکشی بھی
ساقی کا میکدہ ہے کیا آپ جانتے ہیں
اس شہر میں جو آیا پتھر کا ہو گیا وہ
جادو اثر ہوا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
سب اعتبار کھویا زلفوں کی وہ مہک نے
بے رت کی وہ گھٹا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
محکو م سے مہاجر ہر ملک میں ہیں اچھے
ہر ملک آ پ کا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
کچھ لوگ اس جہاں میں خود کے ہیں دشمنِ جاں
یہ زندگی بلا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
مانا کے یار ہو گا وہ آپ کا پرانا
پر وہ یہاں نیا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
وہ آپ سے ہیں چھوٹے لیکن جناب ان کا
حلقہ بہت بڑا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
قیصر ؔغزل کی قیمت لیتا نہیں کسی سے
شاعر کمال کا ہے کیا آپ جانتے ہیں ؟
قیصر ؔ الٰہ آبادی
A125 خسرہ نمبر 108 راج پور ایکس نئی دہلی
رابطہء صوطی۔9560476576
ناموسِ قلم، فِکر گہر باز نہ بیچو
اے دیدہ ورو! غیرتِ فن کار نہ بیچو
چُپ رہنا تو ہے ظلم کی تائید میںشامل
حق بات کہو جُراتِ اِظہار نہ بیچو
ورثہ ہے نبیوںؑ کا، امانت ہے خُدا کی
جاں ہارنے والو! دلِ خود دار نہ بیچو
کانٹے کبھی ہوتے نہیں پھولوں کے برابر
اے اہلِ چمن! حُسن کا معیار نہ بیچو
روشن ہے اسی نور سے قندیلِِ تمنا
افسردہ دلو! لذّتِ آزار نہ بیچو
راس آتی نہیں سب کو یہ آوارہ مزاجی
اے دشت نور دو! ابھی گھر بار نہ بیچو
اے شعلہ رُخو! حُسن کی پہچان تو رکھو
آنکھوں کی حیا، تابشِ رخسار نہ بیچو
کہنے دو وحیدؔ اُس کو جو کہتا ہے زمانہ
تم اپنا لب و لہجۂ اشعار نہ بیچو
وحید مسافرؔ
باغات کنی پورہ،9419064259
بول ائے برگِ آوارہ تیرا سفر
ختم ہوگا کہاں جاکے اندھا سفر
اجنبی راستے، بے نشان منزلیں
غم کی یہ تیز دھوپ اور جلتا سفر
کوئی منزل بھی تکمیل کی ہے کہیں؟
آج تک تو ہوا ہے اُدھورا سفر
دائرے سے اجل کے نہ نکلا کبھی!
زیر سقفِ فلک زندگی کا سفر
اک سوائے تجس کی کچھ بھی نہیں
میری تنہائیوں کا مچلتا سفر
اب نگارِ چمن بھی گھڑی دو گھڑی
ہے خزاں کی ہتھیلی پہ چلتا سفر
تلخیاں، کرچیاں، زحمتیں، حادثے
حاصلِِ زندگی اور ہے کیا سفر
چل پڑے ہو جو ساقیؔ، تو چلتے رہو
رک کے مت سوچو ہے کتنا لمبا سفر
امداد ساقیؔ
سرینگر،9419000643