پھر کون چلا آیا مرے حرفِ یقیں تک
مضمون جو پہنچا تھا مکافاتِ نہیں تک
یوں جھاڑتا ہوں گردِ مسلسل میں بدن سے
لاتا ہوں یہ مٹی کا ہنر تیری زمیں تک
اغلب کہ دفن قیس مرا ہو تو یہیں ہو
سجدہ ہے پڑا قد میں برابر ہے جبیں تک
اب مجھ کو خلاؤں کی دھنک سے نہ پکارو
میں آہی گیا اپنے کسی خاک نشیں تک
ہیں فاصلے جو آنکھ کے منظر پہ یہ ٹھہرے
لے جائے کوئی میری دعا عرشِ بریں تک
گردش میں بہت دیر رہاچاک پہ پُرنم
آنسو ہے نکل آے تو جاے گا کہیں تک
شیدّاؔ ہے عبث کرلیں جو منزل کا تعیّن
رستہ ہے جہاں جائے چلیں ہم بھی وہاں تک
علی شیدّاؔ
نجدہ ون نپورہ اسلام آباد کشمیر
فون نمبر9419045087
مدت کے بعد آئے ہو، جانا نہ چھوڑ کے
کچھ پل خوشی کے لائے ہو، جانا نہ چھوڑ کے
آئی بدن میں تازگی، کھلتے ہیں دل میں پھول
کیا خوب مسکرائے ہو، جانا نہ چھوڑ کے
سرتا بہ پاء یہ پیکرِ نازک ہے پھول سا
قدرت نے خود بنائے ہو، جانا نہ چھوڑ کے
تیرے ہی واسطے سے چلے اپنی زندگی
ہر سانس میں سمائے ہو، جانا نہ چھوڑ کے
ہے بات تم میں کون سی وہ جانتے ہیں ہم
اپنے ہو یا پرائے ہو، جانا نہ چھوڑ کے
ٹھنڈک ہے مری آنکھ کی یہ دید تمہاری
صحرائے دِل کے سائے ہو ، جانا نہ چھوڑ کے
تیرے بغیر صحرا تھا گلشن یہ ہمارا
پھر سے بہار لائے ہوئے ، جانا نہ چھوڑ کے
اس وسعتِ فلک پہ خورشید ؔکے لئے
تم چاند بند کے آئے ہو ، جانا نہ چھوڑ کے
سید خورشید حسن خورشیدؔ
چھمکوٹ، کرناہ
موبائل نمبر؛9596523223
زمانے میں کہاں اب تو مروت رہ گئی یارو
ہمارے پاس لے دے کر ندامت رہ گئی یارو
ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں تقسیم کے لائق
فقط تلخی بچی ہے اور عداوت رہ گئی یارو
خلوص ِ دل سے چاہا اس گلِ شہکار کوہم نے
نہ جانے اس کے دل میں کیوں شقاوت رہ گئی یارو
رہِ الفت میں ہم نے زندگی کا ساتھ چھوڑا تھا
تو کیوں اس شخص اور ہم میں تفاوت رہ گئی یارو
بہت نزدیک آکر زندگی نے رخ بدل ڈالا
کہ جب دو ہاتھ کی ہم میں مسافت رہ گئی یارو
ا عجاز طالبؔ
حول جعفر بیگ، موبائل نمبر: 9906688498-
رونق چمن میں نہ آئی ہے
ہر سو اُداسی سی چھائی ہے
فاصلے خزاں نے قائم کئے ہیں
بہاروں نے دوستی نبھائی ہے
سنگدل کون تھا وہ کیسا تھا
شمعِ محفل کہ جس نے بجھائی ہے
پت جھڑ کے موسم میں آخر کیسے
پھول کھلا کلی مسکرائی ہے
فاروقؔ نفرت کی آندھیوں میں
الفت کی جوت کس نے جگائی ہے
فاروق احمد ملک کوٹی ڈوڈہ
زمیں پریشاں زمن بھی حیراں!
لہو کی ندیاں شباب پر ہیں، رَواں اِدھر بھی رَواں اُدھر بھی
مقامِ حسرت کہ مر رہے ہَیں، جواں اِدھر بھی جواں اُدھر بھی
زمین آتش اُگل رہی ہے، فلک سے شعلے برس رہے ہیں
ہَیںدونوں جانِب فِراق میں کیا، کِساں اِدھر بھی کِساں اُدھر بھی
اِدھر کہ مانا جمہوُریت ہے، ہے طرزِ ایسا ہی اُدھر بھی لیکِن
فرعوںؔ مزاجی کا سوز پرور، سماں اِدھر بھی سماں اُدھر بھی
زمیں پریشاں زمن بھی حیراں، یہ کُشت و خوں یہ تضاد کیا ہے
یہ کِس ہوَس میں بشر ہے غلطاں، مِیاں اِدھر بھی مِیاں اُدھر بھی
چلے گا ایٹم اگر اُدھر سے، چلے گا کیوں نہ وہی اِدھر سے
بنے گا ہیروشِماںؔ اِدھر گر، بنے گا ہیروشِماؔں اُدھر بھی
اے بندگانِ خُدائے برتر، بپا نہ محشر کرو زمیں پر
تصادموں سے جلے ہیں اکثر، مکاں اِدھر بھی مکاں اُدھر بھی
خلافِ قدرت کریں جو ہم کُچھ، اصولِ قدرت کے ہیں منافی
عمل سے ایسے نصیب ہوگا، زِیاں اِدھر بھی زِیاں اُدھر بھی
ہے مصلحت امن سے ہی رہنا، اسی سے تاباں جہان ہوگا
اِسی سے ہوگا عروج پر پھر، زماں اِدھر بھی زماں اُدھر بھی
ضِیائے مہر و مہ سے روشن، زمیں اِدھر کی زمیں اُدھر کی
اِنہیں کے فیض و کرم سے قائم ہے جہاں اِدھر بھی جہاں اُدھر بھی
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
رابطہ ـ: 9697524469