تجلیات ِ ادراک
ڈاکٹر عریف جامعی
زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر شئے رب ارض و سمٰوات کی تسبیح و تحمید بیان کررہی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ کسی کی تسبیح قولاً جاری ہے تو کوئی فعلاً خدا کی ثناء میں مشغول ہے۔ کئی مخلوقات ایسی ہیں جو قولاً اور فعلاً دونوں طرح سے خدائے رحمٰن کے شکر و سپاس میں مصروف ہیں۔ رب تعالیٰ کی یہ حمدوثناء محض چند الفاظ کی تکرار نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس کی بڑائی اور عظمت کا اعتراف اور اظہار ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اعتراف تمام مخلوقات تکوینی طور پر کرتی ہیں، جبکہ انسان یہی اعتراف اپنی آزاد مرضی سے کرتا ہے۔ جب انسان یہ اعتراف اپنے وجود اور وسیع کائنات پر غوروفکر کے بعد کرنے لگتا ہے تو اس سے انسان کا اصل جوہر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے عجز کو جان لیتا ہے، وہ کائنات کی اتھاہ وسعتوں کا تصور کرکے اپنے ضعف کو سمجھ لیتا ہے، اپنے عجز کا علم اسے خدا کی بڑائی کا معترف بناتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں سے خدا کی کبریائی کے نغمے جاری ہوجاتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں ربّ تعالیٰ غنی ہے، وہ اپنی مخلوقات کے شکر کا کسی صورت میں محتاج نہیں ہے۔ وہ آپ سے آپ محمود ہے، اس کی کبریائی میں مخلوقات کی حمد سے کوئی اضافہ نہیں ہوتا، وہ بے نیاز ہے، اس کی بڑائی میں بندوں کی ناشکری سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ البتہ خدا کا شکر کرنے سے اس کے فضل و کرم کے دروازے بندے کے واسطے کھل جاتے ہیں۔ بفحوائے الفاظ قرآنی: ’’اور جب تمہارے رب نے تمہیں آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا۔‘‘ (ابراہیم، ۷) یہی وجہ ہے کہ جب خدا کا کوئی بندہ رب تعالیٰ کی شان اور سطوت کا تصور کرتا ہے، تو وہ اس کے فضل و کرم کا اس طرح اعتراف کرتا ہے: ’’(سلیمان) فرمانے لگے، یہی میرے رب کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری۔‘‘ (النمل، ۴۰) ظاہر ہے ایسے بندے کی خو متکبرین سے جداگانہ ہوتی ہے، جو خدا کے انعامات کو اپنی کارکردگی کا نتیجہ گردانتے ہیں۔ انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ انہیں جو چیزوں کی تھوڑی بہت جانکاری دی گئی ہے وہ رب تعالیٰ کے لامحدود علم کی بدولت ہی ممکن ہوئی ہے۔ وہ (متکبرین) “لا یحیطون بشئ من علمہٖ الا بما شاء” (البقرہ، ۲۵۵) پر اپنی تھوڑی سی جانکاری یا علمی صلاحیت یا اور کسی خیر کو محمول کرنے کے بجائے ’’انما اوتیتہ علی علمٍ‘‘ (الزمر، ۴۹) کہہ کر اترانے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے دنیا ’’لہو و لعب‘‘ کا ایک کارخانہ بن جاتی ہے۔
پیغمبران کرام کے ذریعے جس کریمانہ اخلاق کی انسانیت کو تعلیم دی گئی، اس میں تکبیر (خدا کی بڑائی کے بیان) کی کلیدی اہمیت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ہر کسی شئے کو تسبیح رب سکھائی گئی (النور، ۴۱) وہیں جانوروں سے نفیس غذا کے حصول اور ان پر سوار ہونے کا طریقہ سکھائے جانے پر انسان کو خدا کی بڑائی بیان کرنے کا حکم بھی سنایا گیا: ’’اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارا مطیع کردیا ہے کہ تم اس کی راہنمائی کے شکریے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو۔‘‘ (الحج، ۳۷) چونکہ اصل میں جن و انس اور چرند و پرند اللہ تبارک و تعالی کے ہی محتاج و مطیع ہیں، اس لئے سبوں کو اس کی توصیف میں نغمہ سنج ہونا چاہئے: ’’اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندے بھی ایسا ہی کریں۔‘‘ (سبا، ۱۰) رب کی بڑائی کے انہی ترانوں کو تا ابد جاری و ساری کرنے کے لئے اللہ تعالی نے اپنے آخری نبیؐ کو مبعوث فرمایا۔ واضح رہے کہ اللہ کی بڑائی کا یہی اظہار بندوں کے درمیان مساوات اور مؤاخات کا باعث بنتا ہے۔ اس تصور کو رسالتمآبؐ کی دعوت کی بالکل ابتداء میں کچھ اس طرح واضح کیا گیا: ’’اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہوجا اور آگاہ کردے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔‘‘(المدثر، ۱۔۳)
اللہ تبارک و تعالی کی تکبیر کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ اس سے بندے کے تصورات اور فکر و خیال کی تطہیر اور تزکیہ ہوتا ہے۔ یہی تطہیر بندے کو توحید پر قائم رکھتی ہے اور یہی اسے جادۂ تقوٰی پر گامزن رکھتی ہے۔ اللہ کے یہی تقوٰی شعار بندے اللہ کی کتاب سے صحیح رہنمائی حاصل کرکے دنیا اور آخرت میں فائزالمرام ہوتے ہیں۔ (البقرہ، ۲) تقوٰی کے اسی عظیم مقصد کے حصول کے لئے رب تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کو اپنے مؤمن بندوں پر فرض کیا۔ (البقرہ، ۱۸۳) تاہم تطہیر، تزکیہ اور تقوٰی کا یہ پورا نصاب قرآن کریم کے ذریعے انسان کو عطا کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ تطہیر شدہ، تزکیہ یافتہ اور تقوٰی شعار بندہ خدا کی اس عظیم نعمت (یعنی قرآن کے ذریعے ہدایت) پر خدا کی بڑائی بیان کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے۔ قرآن کی رو سے: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اُتارا گیا ۔ اللہ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔‘‘ (البقرہ، ۱۸۵)۔تاہم بڑائی کے اس بیان کا نقطۂ عروج عید الفطر کو پہنچ جاتا ہے جب مؤمنین اجتمائی طور پر خدا کی تقدیس اور تکبیر کے لئے عید کی نماز ادا کرنے کے لئے جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ دراصل تکبیر رب کے اسی سلسلے کا نقطۂ کمال ہوتا ہے جو بندہ پورے رمضان المبارک میں جاری رکھتا ہے۔ رمضان کے پورے تیس ایام میں جاری رہنے والی تقوٰی کی مشق بھی اسی تکبیر کا حصہ ہوتی ہے۔ تزکیۂ نفس کا یہ منظم عمل بھی اسی تکبیر کو منتہائے کمال تک پہنچانے کے لئے انجام دیا جاتا ہے۔ بندہ دراصل خوش ہو ہو کے صوم کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف نزول قرآن کا مقصد ہے، بلکہ یہی پیغمبران کرام کی بعثت کا نصب العین رہا ہے۔ اس خوشی کا اظہار مؤمنین اگرچہ غیر رمضان میں بھی کرتے ہیں، تاہم رمضان میں یہ خوشی اس لئے دوبالا ہوجاتی ہے، کیونکہ بندہ رمضان کے روحانی ماحول میں تزکیہ اور تقوٰی کی صفات کا کامل نمونہ بن جاتا ہے۔
عید الفطر کے دن صبح سے تکبیر کی فرحت بخش صداؤں سے مؤمنین کی بستیوں کا گونج اٹھنا دراصل اسی خوشی کا اظہار ہوتا ہے، جس کی باپت قرآن کا ارشاد ہے: ’’آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت (یعنی نزول قرآن) پر خوش ہونا چاہئے۔‘‘ (یونس، ۵۸) اس خوشی میں اس وقت چار چاند لگ جاتے ہیں جب مؤمنین خدا کی تکبیر بلند کرتے ہوئے اظہار تشکر کے لئے اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ یہ اس بات کا عملی اظہار ہوتا ہے کہ تمام کی تمام تکبیر و توصیف کی مستحق اسی رب کی ذات والا صفات ہے جس نے انسانیت پر کرم کرکے اس کی ہدایت کا سامان فرمایا۔دراصل بندے پر اپنے رحیم و کریم رب کی تکبیر بلند کرنا رمضان کی آخری رات کو ہی واجب ہوجاتا جب اس کی مغفرت کا اعلان ہوتا ہے: ’’نبی ؐ نے فرمایا: رمضان کی آخری رات کو میری امت کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ، کیا یہی لیلتہ القدر ہے؟ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ مزدور کو اس کی مزدوری اس وقت دی جاتی ہے، جب وہ اپنا کام مکمل کرلیتا ہے۔‘‘(مسند احمد) دراصل اس رات، جسے ’’لیلتہ الجائزہ‘‘ (انعام کی رات) کہا گیا ہے، کو بندے کی طرف سے تزکیۂ نفس، صبر اور تعلق باللہ کی تکمیل ہوجاتی ہے۔ یہی راس المال لیکر بندہ اب علی الصبح (معبد) عید گاہ کی طرف جاتا ہے، تاکہ اللہ کی تکبیر کے ساتھ ہی ایک ’’نئی اور پاکیزہ‘‘ زندگی کی شروعات کرے، جو فضائل پر مبنی جبکہ رذائل سے بالکل پاک ہو۔
انہی پاک نفوس کا عید کے دن اللہ کے فرشتے استقبال بھی کرتے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ان کی مغفرت کا اعلان عام بھی کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ؐ نے فرمایا: جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو فرشتے راستوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر پکارتے ہیں: اے مسلمانوں کی جماعت! کرم والے رب کی بارگاہ کی طرف چلو! وہی تمہیں نیکی کی توفیق عطا فرما کر احسان فرماتا ہے۔ پھر اس نیکی پر بہت بڑا ثواب عطا فرماتا ہے۔ تمہیں راتوں کو قیام کا حکم دیا گیا، تو تم نے قیام کیا؛ دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا، تو تم نے روزے بھی رکھے، اور تم نے اپنے پروردگار کی اطاعت و فرمانبرداری کی۔ اب اس کا انعام حاصل کر لو۔ پھر جب لوگ نماز پڑھتے ہیں تو ایک ندا دینے والا ندا دیتا ہے: سن لو! تمہارے رب نے تمہیں بخش دیا ہے، خیرات و برکات سمیٹتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، کیونکہ یہ انعام و اکرام کا دن ہے۔ آسمانوں میں اس دن کا نام یوم الجائزہ (انعام کا دن) ہے۔‘‘ (الطبراني)
مؤمنین اس طرح خوش و خرم مغفرت کا مژدہ سن کر گھروں کو لوٹتے ہیں۔ ان کے لئے یہ دراصل دارین (دنیا اور آخرت) کی خوشی کی نوید ہوتی ہے، کیونکہ مؤمنین کے لئے اصل حیات دنیوی زندگی کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔ تاہم مؤمنین کو اس دنیا میں خوشی منانے کے جو مواقع میسر ہوتے ہیں، وہ ان سے ضرور محظوظ ہوتے ہیں۔ تفریح کے مواقع انہیں تکبیر کے جلو میں ہی فراہم ہوتے ہیں، کیونکہ تکبیر توحید کا ہی اظہار ہوتا ہے۔ خوشی، مسرت یا فرحت کا یہ احساس (لغوی طور پر اسی احساس کو تفریح کہتے ہیں) یہ اپنے متعلقین کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ مصافحہ، معانقہ اور ملاقات اسی شادمانی کا بہترین اظہار ہوتا ہے۔ اسی شادمانی کو دوبالا کرنے کے لئے یہ عید کو مجالس بھی سجاتے ہیں۔ تاہم ان کی یہ مجالس جنت میں منعقد ہونے والی مجالس کا ادنی سا تعارف پیش کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ ان (جنت کی) مجالس میں مؤمنین اپنے صالح آبا و اجداد، ازواج اور اولاد کے مصاحب ہوں گے (الرعد، ۲۳)، جہاں یہ کسی قسم کا لہو و لعب نہیں سنیں گے، بلکہ ہر طرف ان پر سلامتی اور رحمت برس رہی ہوگی (الواقعہ، ۲۵-۲۶) اور وہ مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔ (یٰس، ۵۶)رمضان کی رویت ہلال سے لیکر شوال کی رویت تک انہیں ہر روز افطار کے وقت فرحت کا یہ احساس مسلسل ہوتا رہتا ہے، کیونکہ اس وقت انہیں اس بات پر خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے خدا کی ’’زائد پابندیوں‘‘پر آمنا و صدقنا کہہ کر ان کو دل کی رغبت سے محض خدا کی رضا کے لئے پورا کیا۔ یہی افطار (روزہ کھولنا) اب زیادہ بڑی شکل اختیار کرکے عیدالفطر پر منتج ہوتا ہے۔ یعنی اس وقت مؤمنین کو یہ خوشی اور فرحت حاصل ہوتی ہے کہ اب یہ ’’زائد پابندیاں‘‘ اگلے رمضان تک اٹھالی گئیں۔ اب ان گیارہ ماہ میں پابندیوں کی اسی روح (اسپرٹ) کے تحت زندگی کو آگے بڑھانا ہے۔ انہیں آگے بڑھتے ہوئے اسی اطاعت شعاری کا سرمایہ لیکر رب تعالی سے ملاقی ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ رب تعالی ایسے راضی برضا مؤمنین کا ضرور استقبال کرے گا: ’’اے اطمینان والی روح! تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس طرح کہ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے خوش۔ پس میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا۔ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘(الفجر، ۲۷-۳۰) حدیث میں مؤمن کی اسی متقیانہ تفریح کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: ’’روزہ دار کے لئے دو فرحتیں ہیں؛ ایک فرحت افطار کے وقت کی اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔‘‘ (متفق علیہ)
رابطہ۔9858471965
[email protected]
���������������