سرینگر//وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز عیدالفطر کی تقریب سعید انتہائی مذہبی جوش و خروش اور تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی۔ تاہم کشمیری عوام نے بالعموم اور صحافی برادری نے بالخصوص سرکردہ صحافی سید شجاعت بخاری کی ہلاکت کے پیش نظر ’عید‘ انتہائی سادگی سے منائی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق نماز عیدین کے اجتماعات کے بعد قریب ایک درجن مقامات پر نوجوانوں اور فورسزکے مابین پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں ایک نوجوان جان بحق ہواجبکہ30سے زائد افراد زخمی ہوئے۔زخمیوں میں چند فورس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں عید کی نماز کی ادائیگی کے بعد نوجوانوں نے فورسز پر پتھراؤ کیا۔ جس کے جواب میں فورسز نے آنسو گیس کے شیل داغے اور چھرے والی بندوقوں کا استعمال کیا۔ سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں قریب دو درجن احتجاجی نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے شیراز احمد نامی ایک نوجوان زخمی کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ قصبہ اننت ناگ میں چھرے والی بندوقوں (پیلٹ بندوقوں) کے استعمال کے نتیجے میں 9 نوجوان آنکھوں میں چھرے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ انہیں علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کیصدر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔اس دوران اننت ناگ پولیس نے دعویٰ کیا کہ شیراز احمد سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں نہیں بلکہ ہتھ گولہ پھٹنے کی وجہ سے جاں بحق ہوا۔ اننت ناگ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قصبہ اننت ناگ میں ایک ہتھ گولہ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں شیراز احمد ولد غلام محی الدین ساکنہ براکپورہ کی موت واقع ہوئی‘۔ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں بھی عید کی نماز کی ادائیگی کے بعد احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جن میں کم از کم آدھ درجن احتجاجی نوجوان زخمی ہوئے۔ ادھر سرینگر میں بھی کئی مقامات پر عید نماز کے بعد پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں متعدد نوجوان زخمی ہوئے ہیں ۔صورہ میں ایک نوجوان شدید زخمی ہوا ہے جس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔اس دوران براکپورہ اننت ناگ میں تیسرے روز بھی ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران براکپورہ و اسکے مضافات میں تمام کاروباری ادارے ،دکانیں ،تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی ، ہڑتال کے سبب سڑکوںپر گاڑیوں کی آمدروفت بھی متاثر رہی ۔ مہلوک شیرازکے گھر تعزیت پُرسی کر نے والے افراد جن میں علیحیدگی پسند لیڈران و مذہبی رہنما بھی شامل تھے کا تانتا بندھا رہا اور مرحوم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔اس دوران کولگام کیلم علاقہ میں اتوار کی شام اس وقت خوف ود ہشت کی لہردوڑ گئی جب نامعلوم اسلحہ برداروںنے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری میں کام کررہے ایک ملازم گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔کولگام ضلع کے کیلم علاقہ میںاتور کی شام نامعلوم اسلحہ برداروں نے محمد اقبال کاوا نامی نوجوان پر نزدیک سے گولی چلاکر انہیں شدید زخمی کردیا گیا۔پولس کا کہنا ہے کہ مذکورہ کو خون میں لت پت چھوڑ کر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ زخمی کو اننت ناگ کے ضلع اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔مہلوک نوجوان محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری میں کام کرتا تھاکولگام پولیس نے بتایا کہ حملہ اآوروں کی تلاش کیلئے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعہ سے متعلق ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔