ہم اُستاد کسے کہیں ،ہماری نظر میں استاد کون ہے ،کیا اُستاد ہم ہر ایک کو کہہ سکتےہیںاور اُستاد پر کون کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ؟یہ کچھ ایسے سوالات ہیں،جن کی طرف ہماری توجہ عام طور پر یومِ اُستاد کے موقعہ پر متوجہ ہوتی ہے۔اُستادی بس ایک ایسا پیشہ ہے جس کی وجہ سے اور بہت سارے پیشے وجود میں آتے ہیں۔دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں، ان سب میں سے مقدس رشتہ استاد اور شاگرد کا مانا جاتا ہے ۔دونوں رشتے اُس وقت تک ترقی نہیں کرتے جب تک دونوںا طراف سے ادب اور احترام اور محبت و شفقت نہ ہو۔ ؎
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
دنیامیں بہت سارے انسانی رشتے ہوتے ہیں، جن میں کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں اور کچھ روحانی رشتے ہوتے ہیں، ان ہی رشتوں میں سے ایک رشتہ اُستاد کا ہے۔ اسلام میں استاد کا رشتہ ماں باپ کے برابر ہے کیو نکہ یہ استاد ہی ہے جو والدین کے بعد شاگرد کواصل زندگی کے معنی سکھاتے ہیں، جینے کا مطلب بتاتے ہیں اور زندگی کا مقصد سکھاتے ہیں ،حق اور ناحق میں فرق کرنا سکھاتے ہیں۔ اُستاد کی اہمیت میں پیارے نبیؐ نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بیجھا گیا ہے ،جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ استاد کا مرتبہ کتنا بلند ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پنی تعریف خود کو مُعلم بتا کر کر رہے ہیں۔ نبی کریمؐ ہم سب کو علم سکھانے کے لئے اس دنیا میں آئے، لہٰذا وہ ایک اُستاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور استاد کے نظریے سے آپؐ کی شان و عزت اور بھی بڑھ جاتی ہے گویاایسا رُتبہ، ایسا مقام ہے ایک اُستاد کا۔والدین بھی بچے کے استاد ہی ہوتےہیں۔ بچہ بلوغت کی عمر تک اپنے والدین سے جو کچھ سیکھتے ہیں، وہ بھی ان کے کردار میں خاصا نمایاں نظر آتا ہے۔
اُستاد اور دور ِ جدید :
تدریسی پیشہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے مسلسل محنت ، upto date knowledge ، لگن ، جذبہ ، اخلاق ، انسانیت ، شعور ، روحانیت اور پرسکون انسانی رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُستاد دوسروں کو وہی علم اور وہی آگاہی فراہم کرسکتا ہے، جس پر اُسے دسترس حاصل ہو اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم کا بھی موجودہ دور میں خاصا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ علم بغیر اخلاقی تعلیم کے شجر بے ثمر کی طرح ہے،۔ سعی لاحاصل ہےاور کاوشِ بے نتیجہ ہے۔ صرف حرف شناسی کردار سازی نہیں، علم کا خُمار سر پر رکھ کر بھی انسان بدتمیز زمانہ ہی رہتا ہے۔ کتابوں کو دیمک کی طرح چاٹ کے بھی بدخلقِ دَھر ہی رہتا ہے۔ جو علم، تغیر اخلاق و تطہیر ِکردار کا باعث نہیں ،وہ ذہنی عیاشی تو ضرور ہے لیکن نتیجہ خیزی نہیں۔ قرآنی موضوعات میں مرکزی موضوع تعلیم الاخلاق ہے۔ کثیر آیات مقدسہ کا موضوع تشکیل کردار اور تجسیم اخلاق ہے۔
یوں تو اُم الکتاب میں 6236 آیات مقدسہ ایجابی اقدار (Positive values) یا منفی اقدار (Negative Values) کے متعلق ہیں، مگر ہر دو صورتوں میں حاصلِ تعلیم اخلاق ہے۔ ’’اخلاق الانبیاء والصالحین‘‘ موضوعات قرآنیہ میں اہم ترین موضوع ہے۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے دو کف جو!!!
تصور ِعلم، تصورِ اخلاق کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ علم جو صرف شکم پرسی کے لئے ہو، بلند معیار زندگی کے لئے نہ ہو یعنی علم برائے معاش ہو ،وہ زہر ِہلاہل ہے، وہ سم قاتل ہے۔ آپ جس علم کے داعی ہیں وہ انسان ساز، اخلاق ساز، کردار ساز ہونا چاہیے ۔
دورِ حاضر :
ہم نے ایسے اساتذہ کے بارے میں بھی بہت پڑھا اور سُنا ہے، جنہیں معمولی درخواست تک لکھنا نہیں آتا اور آج وہ بھی موٹی موٹی تنخواہیں لے کر اس عظیم پیشہ کے ساتھ وعدہ وفا نہیں کر رہے ہیں ۔ہم نے اس کروناکی وبائی بیماری میں ایسے اساتذہ بھی دیکھے، جو پچھلے تین سالوں سے مفت کی تنخواہ لے رہے ہیں اور آج وہ بھی فخر سے ٹیچرس ڈے منا رہے ہیں ۔ ہم نے ایسے بھی اساتذہ دیکھے جو Covid-19 میں ڈاکٹروں کے شانہ بہ شانہ کام کر کے اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور اپنی تنخواہ کا حق بھی ادا کر رہے تھے اور ہم نے ایسے اساتذہ بھی دیکھے، جو گھر گھر جا کر بچوں کو تعلیم مُہیا کرا رہے تھے واقعی ایسے اُستاد قابلِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں، جنہوں نے سرکاری اسکول کا تعلیمی معیار اونچائی کی منزلوں تک لے جانے میں اپنا کلیدی رول ادا کیا ہو، ورنہ بیشتر اساتذہ کودیکھا جارہا ہے جوخود سرکاری اساتذہ ہوتے ہوئےبھی اپنے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل دلوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔بغور دیکھا جائے تو زیادہ تر سرکاری اسکولوں کے امتحانی نتائج بھی قابل فخر نہیں ہوتے ہیں، جس کے پیچھے بہت سارے وجوہات کار فرما ہیں اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سرکاری اساتذہ اپنا بیشتر وقت اور صلاحیت پرائیویٹ کوچنگ انسٹیٹیوٹس میں صرف کرتے ہیں اوراُن کے پڑھانے کا جذبہ سرکاری اسکولوں تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتا ہے۔اساتذہ کو جدید تعلیم کے ساتھ آراستہ کرانے کے لئے اِن سروس ٹریننگ کورسز کو متعارف کرانااب وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اساتذہ بچوں کی توجہ جدید علوم کی طرف راغب کرا سکیں۔
(ساکنہ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی,)
������