سرینگر//عدالت نے مزاحمتی لیڈر عبدالصمد انقلابی کو آئندہ تاریخ سماعت تک سینٹرل جیل سرینگر میں مقید رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کو اس بات کی تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیا ہے کہ،آیا مذکورہ نظر بند کو کھٹوعہ جیل میں قیدیوں یا جیل انتظامیہ کی طرف سے جسمانی طور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مزاحمتی لیڈر اور تنظیم اسلامی آزادی کے سربراہ عبدالصمد انقلابی نے عدالت میں2علیحدہ علیحدہ درخواستیں پیش کی ہے،جس میں انہوں نے کہا کہ وہ کئی عارضوں میں مبتلا ہے،اور سب ڈویژن اسپتال بانہال کے مشورے پر انہیں صورہ اسپتال منتقل کیاجائے،جبکہ درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں آپریشن کی ضرور ہیں۔ ایک اور درخواست میں انقلابی نے انہیں سرینگر سینٹرل جیل منتقل کرنے کی درخواست کی تھی،جبکہ اس بات کا الزام عائد کیا تھا کہ جولائی2017سے وہ کھٹوعہ جیل عام قیدیوں کے ساتھ نظر بند ہیں،جبکہ وہ ایک سیاسی قیدی ہے۔انہوں نے عرضی میں کہا تھا کہ10نومبر کو انہیں جیل میں قیدیوں نے سخت تشدد کا نشانہ بنایا،جس کی وجہ سے اسکی دائیں ٹانگ میں فریکچر ہوا۔ادھر پرنسپل اینڈ سیشن جج کپوارہ نے اس معاملے میں سرکاری وکیل کو اپنے عذرات پیش کرنے کی ہدایت دی،جبکہ جیل سپر انٹنڈنٹ کھٹوعہ کو درخواست سے متعلق اصل حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کا کا حکم صادر کیا۔ پرنسپل اینڈ سیشن جج کپوارہ نے کہا ملزم کو قانونی اور آئینی حقوق حاصل ہے،جبکہ وہ ایک انسان ہے،اور اس کے ساتھ انسانی رویہ اختیار کیا جانا چاہے۔جج موصوف نے کہا کہ جیل اتھارٹی پر یہ ذمہ داری عائد ہے کہ کہ وہ نظر بندوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنائے،جبکہ ملزم نے کی طرف سے جو تشدد کے حوالے سے الزامات عائد کیں گئے ہیں،ان کی تحقیقات کی جانی چاہے۔پرنسپل اینڈ سیشن جج کپوارہ نے ڈائریکٹر جیل خانہ جات کو ہدایت دی ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائے ملزم کو دوران حراست جیل عملے اور دیگر نظر بندوں کی طرف سے آیا،تشدد کا نشانہ بنایا گیا،جبکہ ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کو آئندہ تاریخ سماعت سے قبل اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ حکم نامہ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر رپورٹ کے مطابق ملزم کو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں طبی مشورے کی ضرورت ہے،جبکہ انہیں آئندہ تاریخ سماعت تک صورہ انسٹی چیوٹ میں ہی رکھا جائے،جبکہ سرینگر سینٹرل جیل کے سپر انٹنڈنٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مذکورہ قیدی کو ضروری طبی امداد دستیاب رکھیں۔اس کیس کی آئندہ شنوائی7فروری کو مقرر کی گئی ہے،جبکہ سرکاری وکیل کو اس روز گواہوں کو بھی پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔