بانہال //ضلع ترقیاتی کونسل رام بن کی چیئرپرسن شمشادہ شان نے کہا ہے کہ اگر حکام نے حیدر پورہ انکائونٹر میں مارے گئے نوجوان عامر ماگرے کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے نہیںکی تو وہ احتجاجی مظاہرہے کریں گے۔ انہوں نے ہفتہ کو رام بن میں پریس کانفرنس میں کہا کہ سنگلدان کے تیسرے مہلوک نوجوان کے والد اور رشتہ داروں کا دعوی ہے کہ وہ بے قصور تھا ۔ ڈاکٹر شمشادہ شان نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے مجسٹرئیل جانچ کے حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں لیفٹیننٹ گورنر سے امید ہے کہ وہ مہلوک کے پسماندگان کو انصاف دینگے ۔ ڈاکٹر شمشادہ شان نے کہا کہ ہم مایوس نہیں ہیں کیونکہ ہمیں لیفٹیننٹ گورنر پر پورا بھروسہ ہے، ہم ان کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ہفتے کی شام تک لاش کی واپسی کے بارے میں حکم دینگے تاکہ عامر کی آخری رسومات ان کے گھر والے ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عامر ماگرے کی لاش کی واپسی کے بارے میں اگر وہ کوئی فیصلہ نہیں لیتے ہیں تو حالات ہمیں احتجاج پر کرنے پر مجبور کر دیں گے،''۔ ڈاکٹر شمشادہ نے کہاکہ حکومت کو عامر ماگرے کی لاش واپس کرنی چاہئے کیونکہ قانون تمام شہریوں کے لیے برابر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی رام بن کے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لطیف ماگرے کا خاندان قوم پرست ہے ، جنہوں نے ملیٹنٹوںکا مقابلہ کیا اور حکومت کی جانب سے بہادری کیلئے اعزازات سے نوازا بھی گیا ہے۔11برسوں سے ماگرے کا کنبہ سیکورٹی کے تحفظ اور نگرانی میں ہے اور یہ سوچنا مشکل ہے کہ ان کے اپنے بیٹے کو دہشت گرد قرار دیا جائے گا۔ جمعہ کے روز محمد لطیف نے اپنے بیٹے کی لاش کی واپسی کیلئے رام بن کے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی رام بن سے ملاقات کی تھی ۔رام بن کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہربنس لال شرما نے 17 نومبر سے اگلے احکامات تک سنگلدان اور سری پورہ کے ساتھ عامر ماگرے کے فمروٹ گا ئوں میں دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کرنے کا حکم دیا ہے ۔