اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ضلع ڈوڈہ کے طول و عرض میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی اور محکمہ بجلی کی جانب سے مرتب کردہ شیڈول کی صریح خلاف ورزی نے عوامی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ایک طرف جہاں بجلی کی سپلائی کا کوئی مقررہ وقت نہیں، وہیں دوسری طرف ماہانہ کرایوں میں بے تحاشہ اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے. ڈوڈہ، بھدرواہ ،ٹھاٹھری و گندوہ بھلیسہ سے آئے کئی وفود نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ بجلی نے جو کٹوتی کا شیڈول جاری کیا ہے، اس پر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا. چوبیس گھنٹوں میں سے بیشتر وقت بجلی غائب رہتی ہے، جس کی وجہ سے طلباء کی تعلیم اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں. عوام کے مطابق 33 کے وی کی مین سپلائی لائنوں میں آئے روز آنے والی تکنیکی خرابیاں صارفین کے لیے درد سر بنی ہوئیں ہیں. ذرا سی ہوا یا بارش ہوتے ہی پورا ضلع گھنٹوں بلکہ دنوں کے لیے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے. سیاسی و سماجی کارکن ریاض احمد زرگر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ پہلے ہی پریشان ہیں اور اس پر محکمہ کی تانا شاہی نے اور مصیبت کھڑی کی ہے. انہوں نے کہا بجلی کی ماہانہ فیس میں اضافہ کیا گیا ہے اور غریب لوگوں کو محکمہ دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے.
ادھر عوام نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، لیکن بلوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے. لوگوں کا سوال ہے کہ جب بجلی میسر ہی نہیں تو بڑھا ہوا کرایہ کس بات کا وصول کیا جا رہا ہے؟ڈوڈہ کی عوام نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور وزیر اعلی عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں. عوام نے انتباہ دیا ہے کہ اگر بجلی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی اور فیسوں میں غیر ضروری اضافہ واپس نہ لیا گیا تو وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے. مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ ضلع ڈوڈہ جو کہ بجلی کی پیداوار کا مرکز ہے، وہاں کے عوام کو اندھیروں میں رکھنا اور ان پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا ناانصافی کی انتہا ہے.انہوں نے محکمہ بجلی سے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے کی بھی مانگ کی. محکمہ کے افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ماہانہ فیس میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ کچھ صارفین 270 روپے ماہانہ ادا کرتے ہیں کوئی 508 اور کوئی 780 روپے ادا کرتا ہے. انہوں نے کہا کہ حکام کی ہدایت پر گھر گھر ٹیمیں جا کر معاینہ کررہے ہیں اور جو جتنی بجلی استعمال کرتا ہے اس کو اسی کے مطابق بل دیا جارہا ہے.