سرینگر//مرکزی حکومت کی طرف سے ماہ رمضان کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں کو معطل کرنے کے باوجود اس ماہ وادی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا،تاہم گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں اموات کے گراف میں کمی واقع ہوئی۔ ماہ رمضان میں6اہلکار اور14جنگجوئوں کے علاوہ4 عام شہری لقمہ اجل بن گئے۔ کشمیر میںامسال ماہ رمضان غیر معمولی ثابت ہوا،جس کے دوران وزیر اعظم ہند اور وزیر داخلہ نے بھی وادی کا دورہ کیا۔عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنوں کو معطل کرنے کے باوجود ماہ مقدس میں گولیوں اور گرینیڈوں کے علاوہ پیلٹ کا قہرجاری رہا،جبکہ سرحدوں پر گولیوں کی گن گرج کے دوران ایک درجن سے زیادہ عسکریت پسند جان بحق ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ17مئی کو ماہ مقدس کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں جنگجوئوں کے خلاف فوجی آپریشن بند کرنے کا اعلان کیا گیا وہی18مئی کو کپوارہ میں چھڑپ کے دوران3عساکر کو جان بحق کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر ماہ رمضان میں14عسکریت پسندوں کو جان بحق کیا گیا،جن میں سے2کی شناخت کولگام اور پلوامہ کے ایک ایک شہری کے بطور ہوئی۔ مہینہ بھر میں6 اہلکار بھی لقمہ اجل بن گئے جبکہ20کے قریب پولیس اور نیم فوجی دستوں سے وابستہ اہلکار زخمی ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کا سلسلہ ماہ مقدس میں بھی جاری رہا ،جس کے دوران مجموعی طور پر4عام شہریوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے ماہ رمضان میں بھی ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا،اور مجموعی طور 3دنوں کیلئے ہڑتال کی کال دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ18مئی کو شمالی کشمیر کے ویلگام کپوارہ میں جھڑپ کے دوران3 جنگجو جان بحق ہوئے،جبکہ19 مئی کو ایک اور جنگجو جان بحق ہوا،جس کے ساتھ جھڑپ میں جان بحق عساکرکی تعداد4ہوگئی۔19مئی کو وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے وادی کا مختصر دورہ کیا،جبکہ مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے لالچوک چلو کی کال اور ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔17مئی کو حاجن کے پرے محلہ میں ہلال احمد پرئے نامی ایک شہری کو اغو کرنے کے بعد نزدیکی باغ میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔20 مئی کو پونے کے فوجی اسپتال میں اسلام آباد جھڑپ میں10اپریل کو زخمی ہوا،اہلکار زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔21مئی کو شہداء کی برسی پر عید گاہ چلو اور ہڑتال کی کال سے وادی کے جنوب و شمال میں عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔25 مئی کی رات کو حاجن کے گنڈ پرنگ علاقے میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے محمد یعقوب وگے کو اغو کر کے انکی سر کٹی لاش کو نزدیک علاقے میں پھینک دیا۔26مئی کو کیرن اورٹنگڈار میں دراندازی کے دوران5جنگجوئوں کو فوج نے مارنے کا دعویٰ کیا،جن میں سے بعد میں کولگام اور پلوامہ کا ایک ایک جنگجو بھی شامل تھے۔27 مئی کو شام کو عسکریت پسندوں نے کاکہ پورہ پانپور میں فوجی کیمپ پر حملہ کیا،جس کے دوران ایک اہلکار ہلاک ہوا،جبکہ فوج کی فائرنگ سے ایک سو مو ڈرائیور بلال احمد گنائی ساکنہ لاجورہ جان بحق ہوا۔28مئی کو صبح شوپیاں میں زینہ پورہ روڑ پرجنگجوئوں کی طرف سے بچھائی گئی سرنگ سے فوج کی کیسپر گاڑی ٹکرائی،جس میں سوار3اہلکار زخمی ہوئے۔31مئی کوکپواڑہ کے کرالہ گنڈ علاقہ میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان خونین تصادم آرائی کے دوران 2جنگجوجاں بحق ہوئے،اسی روز کولگام میں سی آر پی ایف اہلکار پر کلہاڑی سے حملہ ہوا،اور وہ زخمی ہوا۔یکم جون کو جامع مسجد سرینگر کے باہر احتجاجی مظاہرے کے دوران فورسز کی ایک گاڑی نے کئی شہریوں کو کچل کر شدید زخمی کیا،جن میں سے قیصر امین ساکن فتح کدل نامی نوجوان جان بحق ہوا۔یکم جون کو پلوامہ ، ترال اور انت ناگ میں 4الگ الگ گرنیڈ حملوں میں 2سی آر پی ایف اہلکاروں سمیت 4عام شہری زخمی ہوئے۔2جون کو مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکت، جنوبی کشمیر میں فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں اورقبرستانوں کی بے حرمتی سمیت عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف مکمل کشمیر بند رہا ۔2جون کو ہی کنگن گاندربل ربل میں قائم ایک فوجی کیمپ میں ایک اہلکار نے اپنی سروس رائفل کا استعمال کرتے ہوئے خود پر گولی چلا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر ڈالا۔ اس روز پلوامہ میں 29 مئی کو حملے کے دوران زخمی ہوا ایس پی ائو عاقب وگے بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔4جون کو شوپیان بس اسٹینڈ کے نزدیک نامعلوم اسلحہ برداروں نے پولیس پر ہتھ گولہ داغا جس کے نتیجے میں 4پولیس اہلکاروں اور12عام شہریوں سمیت 16افرادزخمی ہوئے۔6جون کو فوج نے کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک مژھل سیکٹر میں دراندازی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 3جنگجوئوں کو ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا۔12جون کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور انت ناگ میں جنگجوئوں کے پے در پے حملوں میں 2پولیس اہلکارلقمہ اجل جبکہ 1پولیس اہلکارکے علاوہ 10سی آر پی ایف اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ نے بھی تاہم ماہ رمضان مین جنگ بندی کو اطمنان بخش قرار دیا،اور اس میں توسیع کرنے کا فیصلہ بھی ممکنہ طور ہر عنقریب ہی لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں کا بھی ماننا ہے کہ79فیصد کے قریب جنگ بندی کا فیصلہ کامیاب ہوا۔