شوپیان+پلوامہ//جنوبی کشمیرکے ضلع شوپیان میںایک خوفناک بارودی سرنگ دھماکے میں فوج کے تین اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک آفیسر بھی شامل ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔اس دوران کاکہ پورہ میں فوجی کیمپ پر ہوئی فائرنگ میں سومو ڈارئیور کی ہلاکت کے خلاف پلوامہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی۔اس واقعہ میں ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا ۔پیر کی صبح 44آر آر کی ایک کیسپرگاڑی جب سوگن ترکہ وانگام میں صبح کے قریب6بجے پہنچی تو وہاں جنگجوئوں نے واٹر ٹینکی کے قریب پہلے ہی سڑک پر ایک بارودی سرنگ بچھا رکھی تھی، جو زوردار دھماکے سے پھٹ گئی، جس کی زد میں آکر کیسپر گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار ایک آفیسر سمیت 3اہلکار زخمی ہوئے۔دھماکہ ہوتے ہی گاڑی میں سوار اہلکاروں نے زبردست فائرنگ بھی کی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔دھماکہ کے بعد آس پاس کے علاقوں میں تلاشی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی ۔ادھر سوگن ترکہ وانگام کے لوگوں نے فورسز پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ کے بعد فوجی اہلکاروں نے کئی مکانوں کے شیشے توڑ دیئے اور لاکھوں روپیہ املاک کی توڑ پھوڑکی ۔جن مکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ان میں معروف کمانڈر زینت الاسلام کا مکان بھی شامل ہے ۔اس موقعہ پر لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاج کرنے لگے۔علاقے میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔اس دوران کاکہ پورہ پلوامہ میںاتوار کی رات10.15 منٹ پر 50آر آرکے کیمپ پر جنگجووں نے حملہ کر کے پہلے گرینیڈ اور بعد میں شدید فائرنگ کی ۔ فائرنگ کا تبادلہ 20منٹ تک جاری رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران سومو ڈرائیور بلال احمد گنائی ولد محمد رمضان گنائی ساکن نورو کے علاوہ ایک فوجی اہلکار سپاہی وکرم سنگھ بری طرح زخمی ہوئے۔بعد میں دونوںزخموں کی تاب نہ کر دم توڑ بیٹھے ۔ سوموار کی صبح شہری کی ہلاکت کی خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے ساتھ ہی مقامی لوگ گھروں سے باہر آکر ہلاکت کے خلاف زبردست احتجای مظاہرے کرنے لگے ۔لوگوں کا الزام تھاکہ شہری کو فوج نے جان بوجھ کر اس وقت گولی مار کر جاں بحق کیا جب مہلوک اور اس کا بھائی اپنے پولٹری فارم سے گھر آرہے تھے۔ مہلوک نوجوان کا بھائی سوموار کی صبح تک لاپتہ تھا جو بعد میں گھر لوٹا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں جنگجوئوں کی جانب سے اتوار رات دس بجے فوجی کیمپ پر حملہ کیا گیا اور کراس فائرنگ میں سومو ڈارئیور مارا گیا۔مہلوک شہری کو دن کے تقریباً گیارہ بجے اپنے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا جہاں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔لوگ فوج کے خلاف اور اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔پولیس نے واقعے کے حوالے سے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ علاقے میں حالات کشیدہ دیکھ کر ضلع انتظامیہ نے پلوامہ،ترال ،پانپور اونتی پورہ وغیر ہ علاقوں کے تمام کالجوں، ہائیر سکنڈی سکولوںکے علاوہ سبھی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا،جبکہ ریل انتظامیہ نے ریل سروس کو معطل رکھا ۔ علاقے میں امن قانون کی صورت حال برقرار رکھنے اور افواہوں کو روکنے کے لئے ضلع میں انٹرنیٹ سروس روک دی گئی ۔شہری ہلاکت کے خلاف سانبورہ، کاکہ پورہ، پنگلنہ، پاہو، پلوامہ،رتنی پورہ، نورو، قوئل،لاجورہ، ملنگ پورہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران ہر قسم کی آمد و رفت معطل اور کاروباری و تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔