سرینگر//متحدہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے عام شہریوں کو جاں بحق کرنے کی کارروائیوں میںآئے روز اضافہ ہونے ،کاکہ پورہ پلوامہ کے بلال احمد گنائی کو فورسز کی طرف سے شہید کرنے، جامع مسجد سرینگر اور دیگر مذہبی مقامات کے گردونواح میں تسلسل سے فوجی جماؤ سے خوف وہراس قائم کرکے مذہبی امورات میں مداخلت بے جا، شوپیان میں عسکریت پسند کمانڈر زینت الاسلام کے باغ ثمردار کی بے دریغ کٹائی اور ان کے رہائشی مکان کوتباہ وبرباد کرنے اور مال وجائیداد کو لوٹنے، عسکریت پسندوںکے مقبروں کی بے حُرمتی اور قیدیوں کی ریاست اور ریاست سے باہر کی جیلوں میں جسمانی تشدد اور غیر انسانی سلوک کے خلاف 2جون بروز سنیچر ریاست گیر ہڑتال کے ذریعے اپنا پُرامن احتجاج درج کرنے کے لئے عوام سے دردمندانہ اپیل کی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے حریت پسندوں کے رہائشی مکانوں کو مسمار کرنے اورمیوہ باغات کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بدترین قسم کی سامراجیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی افواج کو عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم ہوسکتا ہے، لیکن ان کے گھروالوں کو بھی جنگی کارروائیوں کا ہدف بنادینا نہ صرف جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بلکہ انتہائی بزدلی کا مظاہرہ ہے۔ قائدین نے عسکریت پسندوںکے مقابر کو اکھاڑنے اور ان پر لگے ہوئے کتبوں کی توڑ پھوڑ کرنے کی بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انسانی سماج میں مرنے والے کے جسد خاکی کا تقدس اور احترام لازم سمجھا جاتا ہے، لیکن بھارتی افواج جموں کشمیر کی سرزمین پر ان تمام اخلاقی، انسانی، روحانی اور مذہبی اقدار کی بے حرمتی کرنے کی مرتکب ہورہی ہے۔مزاحمتی قیادت نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے سوگن شوپیان میں زینت الاسلام کے تلف شدہ میوہ باغات کے علاوہ دیگر انسانی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کا از خود مشاہدہ کرنے کے لیے اپنا ایک نمائندہ وفد نامزد کرنا چاہیے اور ان خلاف ورزیوں کا سنگین نوٹس لے۔