مقصوداحمدضیائی
جامعہ ضیاءالعلوم پونچھ جموں و کشمیر کی اپنی ایک تاریخ ہے؛ ایک عہد ساز تاریخ ؛ زمانے کے کٹھن اور دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے شیخ الجامعہ محسن قوم و ملت حضرت الاستاذ مولانا غلام قادر صاحب اور آپ کے رفقاء کار نے مشکل ترین حالات کا سامنا کرتے ہوئے غیر مانوس ماحول میں توحید و سنت کی شمع روشن کی اور مثالی قربانیوں سے طویل اور صبر آزما جدوجہد کے ذریعے حق تعالٰی کے فضل و کرم سے ایک توحید کے ادارہ کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کیا۔ یہ انہی مردانِ عزیمت کی آہِ سحرگاہی اور مخلصانہ محنت کا نتیجہ ہے کہ آج ہزاروں کی تعداد اس گلشن علمی سے کسب فیض کرکے اطراف اربعہ میں مختلف میدانوں میں باوقار طور پر خدمات انجام دے کر جامعہ کا نام روشن کر رہی ہے۔ 1974ء میں ویرانوں میں گل کھلانے کا جو خواب دیکھنے کی کوشش کی گئی آج وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوکر آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بنا ہوا ہے۔ جاننا چاہیے کہ ضیاءالعلوم کے گل سے گلشن تک کے سفر کی ایک طویل تاریخ ہے ؛ یہ عزم و ہمت کی ایک ایسی داستاں ہے کہ جہاں امید و رجاء کی ضیاء بھی نظر آتی ہے اور یاس و قنوطیت کی دھندلکے بھی۔ جہاں مخالفت میں ایک انبوہ بھی قدم بہ قدم اپنے مکائد کے جال بنتے نظر آتا ہے اور جہاں عقیدتوں کے گلدستے بھی پیش کرتے محبیین و مخلصین اپنی سعادتوں کو سمیٹتے محسوس ہوتے ہیں وہاں عداوتوں کے کانٹے بچھاتے کچھ اشقیاء بھی اپنی شقاوت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ غرضیکہ جامعہ ضیاءالعلوم ایک عہد ساز تحریک کی شکل لے چکا ہے جامعہ کے آغاز ترقی اور عروج کے حوالے سے جس قدر بھی لکھا جائے وہ کم ہے تاہم اس وقت شعبہ علوم عصریہ میں قائم شعبہ اسلامیات و دینیات کے حوالے سے لکھنے کا میرا ارادہ ہے۔ چونکہ اس حوالے سے لکھنے کا مجھے کبھی اتفاق نہیں ہوا ہے۔ مؤرخہ 25 نومبر 2025ء چیرمین اسکول مولانا سعیداحمدحبیب صاحب کے حکم پر جامعہ ضیاءالعلوم کے شعبہ تحفیظ القرآن کے جمیع اساتذہ و طلبہ کے ساتھ عاجز کی بھی “محفل حسن قراءت” میں شرکت کے لیے حاضری ہوئی احاطہ اسکول میں داخل ہوتے ہی انتہائی شاندار اسٹیج نظر نواز ہوا ؛ سامعین کے لیے عمدہ قسم کے صوفے اور سلیقے سے لگی خوبصورت کرسیاں اور ان پر براجمان سفید لباس میں ملبوس جامعہ کے اساتذہ و طلبہ اور بجلی کے روشن قمقموں کی دلکشی دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ کچھ ہی دیر میں مفتی وقاراحمدضیائی قاسمی مدرس شعبہ اسلامیات اسکول ہذا سامعین کے روبرو ہوئے اور بہترین انداز میں پروگرام کی غرض و غایت بیان کی موصوف کو قدرت نے خطابت میں ملکہ عطا کیا ہے نئی نسل علماء کے ذی استعداد لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کے انداز گفتگو نے متاثر کیا اور کسی عالمی سطح کے پروگرام کا احساس ہوا۔ طلبہ کے پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری میرے ہمدرس حافظ رشیداحمد بانڈے مرحوم کے بیٹے عزیزم حذیفہ رشید بانڈے کے مقدر کا حصہ بنی۔ خیال آیا کہ آج شبوبھائی باحیات ہوتے تو خوش ہوتے۔ (حق مغفرت کرے) لگ بھگ ١٤ طلبہ نے ترتیل و حدر میں تلاوت کی۔ مقام شکر ہے کہ بانی ادارہ حضرت مولانا غلام قادر صاحب نے آج سے پچاس برس قبل ایک ایسے تعلیمی ادارے کی بنا ڈالی کہ جہاں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا بھی نظم کیا گیا آج خطہ میں الحمداللّٰہ یہ دین و دنیا کا ایک ایسا سنگم ہے جو خاص و عام کی نگاہوں کا مرکز توجہ بنا ہوا ہے ؛ جہاں قوم کے نونہال کثیر تعداد میں کسب فیض کر رہے ہیں بلاشبہ یہ محسن قوم و ملت کا قوم پر احسان ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ محفل حسن قرآءت میں طلبہ نے اچھا مظاہرہ کیا جس کا سہرا بجا طور پر ان کے اساتذہ کرام بالخصوص مفتی وقاراحمدضیائی و حافظ ریاض احمد ضیائی ناز صاحبان کے سر جاتا ہے جو محنت شاقہ کے لیے تعریف کے مستحق ہیں۔ پرنسپل اسکول جناب وحیداحمد بانڈے صاحب بہ نفس نفیس پروگرام میں موجود رہے قدرت نے آں موصوف کو بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے منجملہ خوبیوں کے آپ کی بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ علماء و حفاظ اور اپنے تحت کام کرنے والے اساتذہ کے بے پناہ قدر داں رہے ہیں۔ یہ آپ کے حسن انتظام اور زبان کی احتیاط کا نتیجہ ہی ہے کہ آپ کا ہر پروگرام کامیاب ہوتا ہے سچ کہا ہے کہ زبان کی احتیاط بہادروں کا کام ہوتا ہے اور ہر کوئی بہادر ہوتا نہیں ہے۔ آنجناب جامعہ کے سالانہ انعامی پروگراموں انجمن “مدح رسولﷺ” “لجنة القراء” “النادئ الادبی” اور “انجمن احیاءالسنہ” میں تشریف لاتے ہیں اور طلبہ کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ وارثین انبیاء کی اس قدر دانی پر حق جل مجدہ موصوف کو دارین میں بہترین بدلہ عطا کرے۔ چنانچہ “محفل حسن قرآءت” کے اختتام پر پرنسپل صاحب نے انتہائی جاندار جامع اور مؤثر گفتگو فرمائی آپ نے دل لگتی بات یہ کہی کہ “اپنے بڑوں کی پیروی میں اپنے مقدر اور حصے کا کام کرنا ہے”۔ پروگرام کو کامیاب بنانے پر آں موصوف نے اساتذہ کرام کے ناموں کی صراحت کے ساتھ شکریہ ادا کیا نیز اساتذہ کرام کے ہاتھوں شرکاء کو انعام بھی دلوایا۔ آنجناب کے اس طریق کار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ماضی کے پروگراموں کی طرح یہ پروگرام بھی سنگ میل کی حیثیت سے سامنے آیا جس کی روشن مثال وزیراعلی جناب عمرعبداللّٰہ صاحب کا حقیقی اور قلبی تاثر کا اظہار ہے جو انہوں نے لگ بھگ ایک درجن اپنے وزراء کی موجودگی اور ہزاروں کی تعداد کے روبرو برسراسٹیج جلسہ عام میں کیا۔ پروگرام کا نظم و نسق معیاری رہا اس موقع پر ساؤنڈ سسٹم عدیم المثال تھا چونکہ ایسے موقعوں پر مائک کا نظام خراب ہوکر پروگرام بدمزگی کا شکار ہو جایا کرتا ہے مائک کے ذمہ دار مارکبادی کے مستحق ہیں بہ ہرحال معیاری نظم و نسق جامعہ کی پہچان ہے بانی جامعہ حضرت الاستاذ مولانا غلام قادر صاحب کے ساتھ جن لوگوں نے کام کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں حضرت والا نظم و انتظام کے حوالے سے اپنے دور کی معیاری شخصیت رہے ہیں بہت کم لوگ ہوتے ہیں کہ جو خوبیاں اپنی اولادوں میں منتقل کر پاتے ہیں حضرت والا کا یہ اختصاص ہے کہ آپ نے اپنی اولاد میں بھی خوبیاں منتقل کیں اور سبھی اپنے اپنے طور پر قابل تعریف کام کر رہے ہیں۔ بطور خاص چیرمین اسکول و نائب مہتمم جامعہ ہذا حضرت مولانا سعیداحمدحبیب صاحب کی شہسوار حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہماری یہی دعا ہے کہ ابنانِ حضرت کا ہر قدم خیر کی طرف اٹھتا رہے اور اسی کی توقع اور امید بھی ہے۔