سرینگر// عسکریت پسندوں کے خلاف فورسزآپریشن بند کرنے میں توسیع کو زمینی سطح کی صورتحال سے مشروط رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ حالات کا احاطہ کر کے اس ضمن میں معقول فیصلہ کریں گے۔ مذاکراتی عمل کو کشمیر سے خون خرابہ بند کرنے کے عمل کے ساتھ جوڑتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مزاحمتی جماعتوں کا نام لئے بغیر کہا کہ انہیں’’ سنہرے موقعہ کی پیشکش‘‘ سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔مہجور نگر،پادشاہی باغ پل کا افتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ جب سے فورسز نے جنگجوئوں کے خلاف آپریشنز کو معطل کیا،تب سے عام لوگوں نے اطمینان کی سانس لی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا’’روز کا مرنا مارنا بند ہوا،اور اچھا اثر پڑا‘‘۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو’’ سنہری موقعہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ علیحدگی پسندوں کو یہ موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیناچاہیے ۔انہوںنے کہا’’ سبھی لوگ جانتے اور مانتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کو سیاسی بنیادوں پرہی حل کیاجاسکتاہے ، اس لئے علیحدگی پسندوں سمیت تمام فریقین ،گروپوںکو آگے آکر مرکزی سرکار کی پیش کش سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔انہوں نے واضح کیا’’ کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ جموں وکشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کو فوجی وعسکری طریقوں سے نہیںبلکہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتاہے ۔وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ مذاکراتی پیش کش سے قبل مرکزی حکومت نے جموں وکشمیرمیں رمضان جنگ بندی کاجو اعلان کیا ، وہ ایک سیاسی عمل کی جانب ایک اہم پہل مانی جاسکتی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ انہیں محسوس ہورہاہے کہ کہیں سیاسی عمل کو آگے لیجانے کی کوششیں بڑے پیمانے پر ہورہی ہیں،تاہم یہ اس بات پر منحصرہے کہ زمینی صورتحال کس قدر ٹھیک رہتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ فورسز پر حملے،گرینیڈ حملے اور ہتھیار چھیننے کی کوششوں اور حرکتوں سے ماحول بگڑ جاتا ہے۔ ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر میں جو غیریقینی صورتحال اور امن وامان کے حوالے سے غیر مستحکم حالات دیکھنے کو ملتے ہیں ، اُن سے نجات پانے کے لئے علیحدگی پسندوں سمیت تمام فریقین کو مذاکرات کے حوالے سے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی حالیہ پیش کش پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سیاسی عمل میں شامل ہوناچاہیے ۔انہوںنے کہاکہ مرکزکی مذاکراتی پیش کش ایک سنہری موقعہ ہے اور تمام گروپوں کو اس موقعہ کافائدہ اٹھانا چاہیے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا’’علیحدگی پسندوں،فریقین اور دیگر گروپوں کو سوچنا چاہے کہ کشمیر میں خون خرابہ کس طرح بند ہو‘‘۔ان کا کہنا تھا’’انہیں سوچنا چاہئے کہ جموں کشمیر میں خون خرابہ کس طرح بند ہو،دیرپا امن قائم ہو اور باعزت امن ہو‘‘۔محبوبہ مفتی کاکہناتھا کہ 18سال بعد ریاست میں مرکز کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور پھر مذاکرات کی پیش کش بھی کی گئی ۔ انہوںنے کہا’’ اٹھارہ سال قبل اُس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے ریاست میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیاتھا اور اس کے بعد مرکزکی مذاکراتی پیش کش پر عمل کرتے ہوئے علیحدگی پسند اُس وقت کے نائب وزیراعظم اور مرکزی داخلہ ایل کے ایڈوانی سے نئی دہلی میں مذاکرات کے لئے گئے تھے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ آج بھی ویسی ہی صورتحال اور ویسا ہی موقعہ ہمارے سامنے ہے ، جس کا ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ کشمیر مسئلے کا حل نکالنے ، کشمیر میں امن قائم کرنے اور یہاں جاری خون خرابے کو بند کرانے کے لئے سب گروپوں کا رول بنتاہے اور ایسا رول نبھانے کے لئے ہمیں سیاسی عمل کا حصہ بننا پڑے گا۔وزیراعلیٰ کا مزیدکہناتھا کہ یہ تمام سیاسی گروپوں بشمول علیحدگی پسند وں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں دہائیوں سے جاری کشت وخون اور تباہی وبربادی کے سلسلے کو بند کرانے کے بارے میں سوچیں ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کو مذاکراتی عمل میں شامل کرانے کے لئے کی جارہی کوششوں کے بارے میں وزیراعلیٰ نے واضح کیاکہ ہم کسی کو مجبور نہیں کرسکتے لیکن ساتھ ہی محبوبہ مفتی نے اس امید کااظہار کیاکہ علیحدگی پسند اس موقعہ یعنی مذاکراتی پیش کش کا فائدہ اٹھائیں گے ۔