یو این آئی
نئی دہلی//سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مسلم خواتین (شادی کے حقوق کے تحفظ)کے تحت ممنوع ‘تین طلاق کے ذریعے طلاق کے معاملات میں مسلم مردوں کے خلاف ایکٹ، 2019کے تحت دائر مقدمات اور چارج شیٹ کی تعداد کے اعداد و شمار پیش کرے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو یہ ہدایات دیں۔چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے تین طلاق کو جرم قرار دینے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا’’اب جب کہ تمام ٹرائلز سنٹرلائز ہو چکے ہیں… اب ہمیں بتائیں کہ کتنے کیس زیر التوا ہیں۔ کیا دیگر ہائی کورٹس میں کوئی چیلنج زیر التوا ہے؟‘‘ مہتا نے مرکز کی حمایت کرتے ہوئے قانون کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے یہ قانون ضروری ہے۔ اس میں روک تھام (طلاق) کی دفعات ہیں۔ اس پر بنچ نے کہا کہ مرکز نے ‘تین طلاق کہنے کے عمل کو ہی سزا دی ہے۔درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہا کہ اب قانون کے تحت محض اعلان پر بھی سزا دی جاتی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوکر دلیل دی کہ اس طرح کے بیانات اور جذباتی تشدد گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت آتے ہیں۔تاہم مہتا نے کہا “یہ ایسے ہی ہے جیسے اگلے ہی لمحے سے آپ میری بیوی نہیں رہیں اور ایک انسان ہیں جسے ایک آدمی کی زندگی سے اور یہاں تک کہ اس کے گھر سے بھی نکال دیا گیا ہے‘‘۔ بنچ نے مہتا سے کہا کہ وہ دیہی علاقوں کے اعداد و شمار سمیت دائر مقدمات کی تعداد کے اعداد و شمار فراہم کریں ۔ بنچ نے کہا ’’انہیں (مرکز)کو اعداد و شمار درج کرنے دیں تب ہمیں معلوم ہوگا کہ اصل صورتحال کیا ہے ‘‘۔