سوپور//سوپور میںنامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں پیپلز لیگ کے سینئر لیڈر محمد مقبول صوفی کے 25سالہ فرزند کی ہلاکت سے خوف و دہشت کے ماحول کے بیچ مہلوک نوجوان کی تدفین کے موقعے پرآزادی کے حق میں نعرے بلند کئے گئے اور اس کی نماز جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔نامعلوم بندوق برداروں نے بدھ کی شب بومئی سوپور کے ہارون علاقے میں 25سالہ عارف احمد صوفی ولد محمد مقبول ساکن یونسو وہی پورہ ہندوارہ کو گولیاں مار یں جس کے نتیجے میں اس کی موقعہ پر ہی موت واقع ہوئی۔اسے اسپتال بھی منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔عارف کو ہارون میں اس کے ننیہال میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور اسلحہ بردار وں نے مکان کے اندر داخل ہونے کے بعداس پر گولی چلائی۔معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ نوجوان ادویات کی ایک ایجنسی کے ساتھ سیلز مین کی حیثیت سے کام کرتا تھا اور تین بہنوں اور دو بھائیوں کے ساتھ ساتھ اپنے معذور باپ کی کفالت کرتا تھا۔اس واقعہ کے بعد بومئی اور یونسو وہی پورہ میں رات بھرخوف و ہراس اورماتم کا ماحول رہا۔عارف احمد کی تجہیز و تکفین جمعرات کی صبح کو انجام دی گئی اور اس کی نماز جنازہ میں سینکڑوںکی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی۔اس کی میت کو ایک جلوس کی صورت میں مقبرے کی طرف لیجایا گیا جس میں مردوزن اور بچوں نے شرکت کی۔جلوس کے شرکاءنے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔اس کی تدفین تک علاقے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرلیا گیا ہے اور واقعہ میں ملوث مسلح افراد کی شناخت کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ (مشمولات کے ایم این)
ہارون کا محاصرہ ،گھر گھر تلاشی کارروائیاں
کشمیر وائر
سوپور// فورسز نے جمعرات کی صبح سوپور کے ہارون علاقے کامحاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کارروائی شرع کی ۔ ذرائع کے مطابق فورسز اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے جمعرات کی صبح جنگجوﺅںکی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سوپور کے ہارون گاﺅںکا محاصرہ کیااور گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی ۔ فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کیا تھا اور ہارون کی طرف جانے والے تما م چھوٹے بڑے راستوں کو بند کیا گیا تھا ۔ کسی بھی امکانی پر تشدد صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے بھاری تعدادمیں فورسز کو گاﺅں کے ارد گرد تعینات کیا گیا تھا۔ گزشتہ رات ہارون بمئی میں نامعلوم بندوق برداروں نے عارف احمد صوفی نامی ایک نوجوان پر گولیاں چلائی تھیں جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لانے کے باعث ہسپتال میں جاں بحق ہوا اور بندوق بردار اندھیرے کافائدہ اُٹھا کر فرارہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔
مزاحمتی جماعتوں کی مذمت، ہلاکت بزدلانہ حرکت سے تعبیر
سرینگر//حریت (ع)،پیپلز لیگ،ماس مومنٹ،پیپلز پولیٹکل فرنٹ ، سالویشن مومنٹ ، ینگ مینز لیگ اورتحریک استقلال نے سینئر مزاحمتی رہنما اور پیپلز لیگ قائد محمد مقبول صوفی کے فرزند کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ کسی بھی نہتے انسان کا قتل ہر صورت میں بزدلانہ حرکت ہے۔حریت (ع) کے چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے مذمت کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا” سوپور میں 25سالہ نوجوان کی نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاکت پر میں بہت مغموم ہوں،میں اس ہلاکت کی پُر زور مذمت کرتا ہوں کیونکہ کسی بھی انسان کا قتل ہر صورت میں انسانیت سوز اور بزدلانہ حرکت ہے“۔پیپلز لیگ چیئرمین اےڈوکیٹ بشیر احمد طوطا نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔انہوں نے اس موقعہ پر کہا کہ اس بہیمانہ قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ماس مومنٹ سربراہ فریدہ بہن جی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ملوثین کو عوامی عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ محمد مقبول صوفی نے عمر بھر جدوجہد میں جو رول ادا کیااور قربانیاں دیں،وہ نا قابل فراموش ہیں۔ پیپلز لیگ کے ایک اور دھڑے نے زبردست رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ لیگ کا ایک وفد جنرل سیکریٹری غلام نبی درزی کی قیادت میں یونسووہی پورہ گیا جہاں انہوں نے محمد مقبول صوفی کی ڈھارس بندھائی اور دیگر لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔پیپلز پولیٹکل فرنٹ سرپرست فضل الحق قریشی اور چیئرمین محمد مصدق عادل نے عارف کی نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاکت کو قتل ناحق قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ انہوں نے مزاحمتی رہنما محمد مقبول صوفی اوردیگر سوگواروں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔سالویشن مومنٹ چیئرمین ظفر اکبر بٹ ،ینگ مینز لیگ،تحریک استقلال کے چیئرمین غلام نبی وسیم نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
ملوثین کو بے نقاب کیا جائے:نیشنل کانفرنس
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے ہلاکت پر زبردست تشویش اور گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ پارٹی کے ترجمان جنید عظیم متو نے مرحوم کے اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس قتل کے ملوثین کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور مار دھارڈ کسی بھی مہذب قوم کی نشانی نہیں ہوسکتی۔