ویب ڈیسک
سونے سے پہلے فون کا استعمال آپ کی نیند کی کیفیت اور مجموعی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق موبائل کی سکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی میلاٹونن کی پیداوار میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔میلاٹونن ایک ایسا ہارمون ہے جو نیند کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
فون کے ساتھ مشغول ہونے سے آپ کا دماغ متحرک ہو جاتا ہے اور اس کا چوکس رہنے کا عمل بھی بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے سکون حاصل کرنا اور سونا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا سکرولنگ اور خبریں پڑھنے، سننے یا دیکھنے ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ اور نیند کے اوقات میں خلل آتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ عادت ایسے اثرات مرتب کرسکتی ہے جو مجموعی طور پر انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔اس کی وجہ سے تھکاوٹ، توجہ میں کمی اور یہاں تک کہ موڈ میں اتار چڑھاؤ بھی جنم لے سکتا ہے۔آپ کو کچھ ایسے منفی اثرات کے بارے میں بتاتے ہیں جو سونے سے پہلے موبائل استعمال کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
موبائل فون کی سکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی میلاٹونن کی پیداوار کو کم کر دیتی دیتی ہے۔میلاٹونن ایک ایسا ہارمون ہے جو نیند اور جاگنے کے دورانیے کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔میلاٹونن کی کم سطح نیند کے غالب آنے میں تاخیر پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے فوراً سونے میں دشواری ہوتی ہے۔موبائل فون کا استعمال دماغ کو ایکٹیو رکھتا ہے۔سونے سے پہلے فون کا استعمال دماغ کو متحرک کر دیتا ہے۔خاص طور پر اگر آپ سوشل میڈیا پر سکرولنگ کر رہے ہوں یا موبائل فون سے جڑی کسی دوسری متحرک سرگرمی میں مشغول ہوں تو یہ عمل آپ کا دماغ پوری طرح چوکس رکھتا ہے۔یہ بڑھتی ہوئی دماغی سرگرمی سکون حاصل کرنے اور آرام کرنے میں مشکل پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے سونے میں دشواری ہوتی ہے اور آپ کی نیند کی گہرائی اور معیار میں کمی آتی ہے۔
پریشان کن یا جذباتی مواد کے ساتھ مشغول ہونا سونے سے پہلے اضطراب بڑھا سکتا ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ سونے سے پہلے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں یا خبریں پڑھنتے ہیں تو اس کی وجہ سے اضطراب کی کیفیت بڑھے گی جو آپ کی سونے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو گی اور نیند میں خلل ڈالے گی۔نوٹیفیکیشنز، پیغامات یا پھر کسی کا میسج موصول ہونے کی توقع آپ کی چوکسی یعنی کہ الرٹ رہنے کیفیت کی سطح کو بڑھا دیتے ہیں۔اور یہ عوامل آرام کرنے اور نیند کے لیے تیاری کرنے کی کوشش کے دوران نقصان دہ ہوتے ہیں۔موبائل فون کا استعمال آپ کے دماغ کو زیادہ دیر تک چوکس رکھ سکتا ہے جس سے نیند کے آغاز میں تاخیر ہوتی ہے اور نیند نہیں آتی۔کم روشنی میں سکرین کے سامنے طویل وقت تک رہنا آنکھوں میں تھکاوٹ اور تکلیف پیدا کرتا ہے۔اس عادت کے نتیجے میں سر درد، آنکھوں میں پانی آنا اور دھندلا نظر آنا، نظر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو نہ صرف نیند میں دشواری پیدا کرتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ آنکھوں کی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں موبائل فون کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ انسان ہر چند لمحوں بعد موبائل فون کی سکرین دیکھتا رہتا ہے۔یوں تو ٹیکنالوجی کو انسان کی زندگی آسان بنانے کے لیے بنایا جاتا ہے لیکن دوسری طرف اس کے استعمال کی وجہ سے انسانی زندگیوں پر کئی مہلک اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کا ایک سروے سامنے آیا ہے۔سروے کے مطابق انڈیا کے 84 فیصد موبائل فون صارفین جاگنے کے فوراً بعد یا پھر 15 منٹ کے اندر موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورت حال موبائل فون صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق جب انسان صبح جاگتا ہے تو اس کا دماغ ڈیلٹا سٹیٹ (گہرے سکون کی حالت) میں ہوتا ہے۔اس کے بعد دماغ الفا سٹیٹ میں چلا جاتا ہے یعنی یہ ایک ایسا سٹیج ہوتا ہے جس میں میں آپ جاگے تو ہوتے ہیں لیکن پوری طرح سے آپ کا دماغ ابھی چل نہیں رہا ہوتا۔اس کے بعد دماغ بیٹا حالت میں داخل ہوتا ہے جو کہ باقاعدہ پوری طرح سے فعال حالت ہوتی ہے۔جب آپ جاگتے ساتھ ہی موبائل فون کا استعمال شروع کر دیتے ہیں تو دماغ ڈیلٹا سے بیٹا حالت میں داخل ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے ذہن پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق تیزی سے رونما ہونے والی منتقلی کی وجہ سے بے چینی، چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے آپ دن بھر کام سے اُکتائے رہتے ہیں۔ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ماہرین کا خیال ہے کہ جاگنے سے 30 منٹ سے ایک گھنٹہ بعد موبائل فون استعمال کیا جانا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران سونے سے قبل موبائل فون کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اس عادت کی وجہ سے بھی آپ کے سونے کا معمول خراب ہو سکتا ہے جو بعد میں صحت کے متعدد مسائل کا باعث بھی بنتا ہے۔