پلوامہ//پلوامہ میںسابق حز ب کمانڈر کے مقبرے کی بے حرمتی کے خلاف لوگوں نے علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے کر کے شوپیان پلوامہ روڑ پرٹریفک کی نقل حمل روک کر ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔بعد میں ڈی سی کی یقین دہانے پراحتجاجی مظاہرین نے اپنا دھرنا ختم کیا تاہم دربہ گام میں مکمل ہڑتال رہی۔ جنوبی قصبہ پلوامہ کے مضافاتی علاقے دربہ گام میںبدھ کو مقامی آبادی نے معروف حزب المجاہدین کمانڈر سمیر ٹائیگر کے مقبرے کی بے حرمتی اوروہاں موجود بینر اور نام والی تختی فورسزکے ذریعے اپنے ساتھ لینے کے خلاف زبردست احتجاج کر کے علاقے میں مکمل ہڑتال کی ۔احتجاج میں شامل مقامی لوگوںنے بتایاکہ گزشتہ رات دیر گئے فورسز پارٹی گائوں میں داخل ہوئی جس کی طرف آبادی نے کوئی توجہ نہیں دی ہے لیکن بدھ کی صبح جب وہ مسجد سے نماز فجر ادا کرنے کے بعد واپس آرہے تھے تو اس دوران انہوں نے دیکھا کہ کہ مقامی شہید قبرستان میں حزب کمانڈر کے مقبرے کی بے حرمتی کے علاوہ وہاں موجود تمام بینر وں کو پھاڑ ڈالا گیا تھا ۔علاقے میں واقعہ کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی جس کے دوران نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شہیدقبرستان پہنچ گئی اور وہیں سے واقعہ کے خلاف جلوس نکال کر احتجاجی مظاہروںکا سلسلہ شروع ہوا ۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے گاڑیوں میں سوار ہو کر ڈپٹی کمشنر پلوامہ کے دفتر کے باہر دھر نا دیکر شوپیان پلوامہ سڑک بند کردی ۔مظاہرین کا کہنا تھا فورسزنے اس سے پہلے بھی کئی بار اس طرح کی کوشش کی تاہم اس وقت لوگوں نے کوشش کو ناکام بنا دیا اور گزشتہ رات ساڑھے دس بجے گائوں میں داخل ہو تے ہی یہ کام اس وقت انجام دیا جب لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ لوگوں نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ بعد میں ڈپٹی کمشنر پلوامہ جی ایم ڈار نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ واقعہ کی تحقیقات کریں گے جس کے بعدمظاہرین پر امن طور منتشر ہوئے ۔