Facebook Twitter Youtube
  • تازہ ترین
  • کشمیر
  • جموں
  • شہر نامہ
  • برصغیر
  • بین الاقوامی
  • سپورٹس
  • صنعت، تجارت
  • کالم
    • مضامین
    • گوشہ خواتین
    • خصوصی انٹرویو
    • جمعہ ایڈیشن
    • تعلیم و ثقافت
    • طب تحقیق اور سائنس
  • ملٹی میڈیا
    • ویڈیو
    • پوڈکاسٹ
    • تصویر کہانی
  • اداریہ
  • ادب نامہ
    • نظم
    • غرلیات
    • افسانے
  • تازہ ترین
  • کشمیر
  • جموں
  • شہر نامہ
  • برصغیر
  • بین الاقوامی
  • سپورٹس
  • صنعت، تجارت
  • کالم
    • مضامین
    • گوشہ خواتین
    • خصوصی انٹرویو
    • جمعہ ایڈیشن
    • تعلیم و ثقافت
    • طب تحقیق اور سائنس
  • ملٹی میڈیا
    • ویڈیو
    • پوڈکاسٹ
    • تصویر کہانی
  • اداریہ
  • ادب نامہ
    • نظم
    • غرلیات
    • افسانے
Kashmir Uzma
  • تازہ ترین
  • کشمیر
  • جموں
  • شہر نامہ
  • برصغیر
  • بین الاقوامی
  • سپورٹس
  • صنعت، تجارت
  • کالم
    • مضامین
    • گوشہ خواتین
    • خصوصی انٹرویو
    • جمعہ ایڈیشن
    • تعلیم و ثقافت
    • طب تحقیق اور سائنس
  • ملٹی میڈیا
    • ویڈیو
    • پوڈکاسٹ
    • تصویر کہانی
  • اداریہ
  • ادب نامہ
    • نظم
    • غرلیات
    • افسانے

Kashmir Uzma

Latest Kashmir News | Kashmir Urdu News | Politics, India, International, Opinion

Font ResizerAa
Search
Follow US
مضامین

سماجی تقسیم اور شادیوں میں تاخیر معاشرت

Towseef
Last updated: December 17, 2024 11:08 pm
Towseef
Share
8 Min Read
SHARE

مختار احمد قریشی

شادی ایک مقدس بندھن ہے جو دو افراد اور ان کے خاندانوں کو جوڑتا ہے، لیکن آج کے دور میں یہ بندھن سماجی دباؤ، فضول خرچی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ شادی، جو کبھی سادگی اور محبت کا مظہر ہوا کرتی تھی، آج ایک معاشرتی نمائش کا ذریعہ بن گئی ہے۔ نتیجتاً یہ مہنگائی اور مالی دباؤ کا باعث بن رہی ہے جو کئی خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔لوگوں پر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اپنی شادی کو یادگار بنائیں اور دوسروں سے بہتر دکھائیں۔ یہ مقابلہ بازی اکثر فضول خرچی کی طرف لے جاتی ہے۔چنانچہمعاشرے میں کئی غیر ضروری رسومات شامل ہو گئی ہیں، جنہیں پورا کرنا مالی لحاظ سے ایک بوجھ بن گیا ہے۔دولہا اور دلہن کے لباس اور زیورات کی قیمت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام شادی کے لیے بھی لاکھوں روپے خرچ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔مہنگے پنڈال، بڑے پیمانے پر مہمانوں کو مدعو کرنا اور کھانے پینے کے اعلیٰ انتظامات بھی شادی کی مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہیں۔فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی شاندار شادیاں لوگوں کے ذہنوں میں غیر ضروری توقعات پیدا کرتی ہیں۔شادی کے اخراجات پورے کرنے کے دباؤ کی وجہ سے خاندانوں میں ذہنی تناؤ اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ بڑھتے ہوئے اخراجات کے سبب اپنی شادیوں کو مؤخر کر دیتے ہیں، جو سماجی اور نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔غریب خاندانوں کے لیے اپنی بیٹیوں کی شادی کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جو انہیں سماجی بدنامی کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔مہنگائی کی وجہ سے معاشرے میں طبقاتی فرق بڑھ رہا ہے، کیونکہ امیر لوگ مہنگی شادیاں کرتے ہیں جبکہ غریب طبقہ خود کو پیچھے محسوس کرتا ہے۔شادی کو سادگی سے منانے کا رجحان عام کیا جانا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی کو آسان اور سادہ بنایا جائے۔لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے کہ وہ غیر ضروری رسومات اور فضول خرچی سے گریز کریں۔حکومت کو شادیوں میں فضول خرچی کو روکنے کے لیے قوانین نافذ کرنے چاہئیں، جیسے مہمانوں کی تعداد اور تقریب کے اخراجات کی حد مقرر کرنا۔شادیوں کو خاندانوں کے درمیان مشترکہ طور پر منانے کی روایت کو فروغ دیا جائے تاکہ اخراجات کم ہوں۔غریب خاندانوں کی شادیوں میں مدد کے لیے خیراتی تنظیموں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔نوجوان نسل کو سادگی کی اہمیت اور غیر ضروری اخراجات کے اثرات کے بارے میں تعلیم دی جائے۔کئی خیراتی تنظیمیں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کرتی ہیں، جہاں کئی جوڑے ایک ہی تقریب میں نکاح کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف مالی بوجھ کم کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کا سبب بھی بنتا ہے۔ میڈیا کو بھی اس مسئلے پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ فلموں اور ڈراموں میں شادیوں کو شاندار اور غیر ضروری طور پر مہنگا دکھانے کے بجائے سادگی کی مثالیں پیش کرنی چاہئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ایسے مواد کو فروغ دیا جانا چاہیے جو لوگوں کو کم اخراجات میں شادی کرنے کی ترغیب دے۔ علماء کرام اور سماجی رہنما عوام کو اس حوالے سے اسلامی تعلیمات اور سادگی کے فوائد کے بارے میں آگاہ کریں۔ اسلام میں شادی کو آسان بنایا گیا ہے اور رسول اللہؐ کی زندگی میں اس کی بہترین مثالیں موجود ہیں۔ حکومت کو شادی کی تقریبات کو کم خرچ اور سادہ بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گےاور غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے پریشان نہ ہوں۔

نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی کا مقصد دکھاوا نہیں بلکہ دو دلوں کا ملاپ اور خاندانوں کی خوشی ہے۔ اگر وہ فضول خرچی اور سماجی دباؤ کو مسترد کریں گے، تو معاشرے میں مثبت تبدیلی ممکن ہوگی۔ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ خوشی کا تعلق مہنگے زیورات، شاندار تقریبات، یا بڑی دعوتوں سے نہیں، بلکہ دلوں کے ملاپ اور باہمی محبت سے ہے۔ اگر معاشرہ یہ سبق سیکھ لے، تو شادیوں کی مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس روایت کو فروغ دیں جو ہر طبقے کے لیے قابل قبول ہو اور جس سے معاشرتی خوشحالی کو فروغ ملے۔ اگر ہم شادیوں کی مہنگائی کے خلاف عملی اقدامات کریں اور سادگی کو فروغ دیں، تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔فضول خرچی سے گریز کرنے سے خاندانوں پر مالی بوجھ کم ہوگا اور وہ اپنی آمدنی کو زندگی کے دیگر اہم معاملات میں خرچ کر سکیں گے۔سادگی کے رجحان سے خاندانوں میں بےجا دکھاوے اور تنقید کا خاتمہ ہوگا، جس سے تعلقات مضبوط ہوں گے۔شادی کی تقریبات میں کم خرچ ہونے سے معاشرے کے افراد اپنی بچت کو فلاحی کاموں اور تعلیم و تربیت پر خرچ کر سکیں گے، جس سے مجموعی طور پر معاشرہ ترقی کرے گا۔ ہر فرد اپنی جگہ پر یہ فیصلہ کرے کہ وہ شادی کو سادہ رکھے گا۔ والدین کو اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کرنی چاہیے کہ وہ دکھاوے کی بجائے حقیقی خوشیوں کو اہمیت دیں۔شادی کے بجٹ کو محدود رکھیں۔غیر ضروری رسومات سے گریز کریں۔سادہ لباس اور زیورات کو ترجیح دیں۔دعوت میں قریبی لوگوں کو شامل کریں۔ سادگی کو فروغ دینے کے لیے ہمیں ایک تحریک کی ضرورت ہے۔ یہ تحریک تعلیمی اداروں، مساجد، کمیونٹی سینٹرز، اور میڈیا کے ذریعے چلائی جا سکتی ہے۔علماء کرام کو خطبات میں سادگی پر زور دینا چاہیے۔اساتذہ کو طلبہ کو ان کی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا چاہیے۔میڈیا کو سادگی کو خوبصورتی کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔شادی کی مہنگائی کے خلاف یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے، لیکن اگر ہم سب مل کر قدم اٹھائیں تو اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سادگی کو اپنانے اور اپنی زندگیوں کو دین اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ایک ایسی معاشرت تشکیل دینی ہے جہاں شادی خوشی اور برکت کا ذریعہ بنے، نہ کہ پریشانی اور قرض کا بوجھ۔ اس لئےسادہ زندگی اپنائیں، سادہ شادیوں کو فروغ دیں اور اپنے معاشرے کو حقیقی خوشیوں سے بھرپور بنائیں۔

اگر ہم عزم و استقلال کے ساتھ اس معاملے میں متحد ہو جائیں، تو ایک خوشحال، پُرامن اور متوازن معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔ سادہ شادیاں نہ صرف انفرادی خوشی کا ذریعہ ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے برکت اور سکون لاتی ہیں۔
رابطہ۔8082403001

Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp Copy Link Print
ڈاکٹر جتیندرکاآئی آئی ایم جموں میں 5روزہ جامع واقفیت پروگرام کا افتتاح
جموں
نائب تحصیلداربھرتی میں لازمی اردو کیخلاف بھاجپاممبران اسمبلی کا احتجاج اردو زبان کی شرط کو منسوخ کرنے کامطالبہ، احتجاج میں شدت لا نے کا انتباہ
جموں
کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا کا ایل او سی کی اگلی چوکیوں کا دورہ فوجی جوانوں سے ملاقات، آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت کو قائم رکھنے کی ہدایت
پیر پنچال
۔4گاڑیوں کے روٹ پرمٹ معطل، 51گاڑیاں بلیک لسٹ،9ڈرائیونگ لائسنس معطل| ڈیڑھ ماہ میں230گاڑیوں کے چالان، 31گاڑیاں ضبط، 9.65لاکھ روپےجرمانہ وصول
خطہ چناب

Related

کالممضامین

’’چاول کی آخری وصیت‘‘ جرسِ ہمالہ

July 14, 2025
کالممضامین

! اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑھتا ہوا عالمی دباؤ | غذائی تقسیم کے مراکز پر بھی بھوکے فلسطینیوں کو قتل کیا جارہاہے

July 14, 2025
کالممضامین

چین ،پاکستان سارک کا متبادل پیش کرنے کے خواہاں ندائے حق

July 13, 2025
کالممضامین

معاشرے کی بے حسی اور منشیات کا پھیلاؤ! خودغرضی اور مسلسل خاموشی ہمارے مستقبل کے لئے تباہ کُن

July 13, 2025

ملک و جہان کی خبروں سے رہیں اپڈیٹ

نیوز لیڑ ای میل پر پائیں

پالیسی

  • ڈیٹا پالیسی
  • پرائیویسی پالیسی
  • استعمال کرنے کی شرائط
  • ڈیٹا پالیسی
  • پرائیویسی پالیسی
  • استعمال کرنے کی شرائط

سیکشن.

  • اداریہ
  • برصغیر
  • بین الاقوامی
  • تعلیم و ثقافت
  • اداریہ
  • برصغیر
  • بین الاقوامی
  • تعلیم و ثقافت

مزید جانیں

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
  • فیڈ بیک
  • اشتہارات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ
  • فیڈ بیک
  • اشتہارات
Facebook

Facebook

Twitter

Twitter

Youtube

YouTube

Instagram

Instagram

روزنامہ کشمیر عظمیٰ کی  ویب سائٹ  خبروں اور حالات حاضرہ کے حوالے سے جموں وکشمیر کی  اردو زبان کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹ ہے۔ .. مزید جانیں

© GK Communications Pvt. Ltd.. All Rights Reserved.
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?