بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر،جموںشاہراہ، جو کشمیر کو بیرون ریاستوںسے جوڑنے والا واحد ہمہ موسمی راستہ ہے، گزشتہ8 برسوں میں تقریباً 10ماہ تک بند رہی ہے۔ یہ مسلسل بندشیں نہ صرف وادی کی معیشت پر کاری ضرب لگا رہی ہے بلکہ روزمرہ زندگی کو بھی مفلوج کر رہی ہے۔نیشنل ہائی وئے ٹریفک کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر2018سے20124کے آخر تک یہ شاہرہ 7,921 گھنٹے اور 17 منٹ بند رہی ،تاہم یہ صورت حال نئی نہیں ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے لے کر 2024 تک شاہراہ مجموعی طور پر 7 سال میں 282 دن بند رہی، جس میں سب سے زیادہ بندش 2023 میں 1,458 گھنٹے (58 دن) ریکارڈ کی گئی، جب کہ دیگر برسوں میں 2018 میں 41 دن، 2019 میں 54 دن، 2020 میں 47 دن، 2021 میں 23 دن، 2022 میں 41 دن، اور 2024 میں ہی 20.5 دن کی بندش ہو چکی ہے جبکہ2025میں قریب25روز تک بند رہی۔ سرینگر،جموں قومی شاہراہ (این ایچ-44) وادی اور جموں کے درمیان واحد کلیدی زمینی رابطہ ہے، مگر برف باری، بارش اور ڈھیلی چٹانی ساخت کے باعث خصوصاً رام بن،بانہال سیکشن پر بارہا بند رہتی ہے۔پسیاں گر آنے، چٹانیں کھسکنے اور’’شوٹنگ سٹونز‘‘ کیلئے سب سے زیادہ حساس مقامات میں پنتھیال، کیفیٹیریا موڑ،مہار، بیٹری چشمہ، ڈگڈول، ماروغ، رامسو،مگرکوٹ، شیر بی بی، شیطان نالہ، کیلا موڑ اور انوکھی فال شامل ہیں۔ یہاں بارش کے بعد پتھروں کے گرنے اور ڈھلوانیں کھسکنے کے واقعات معمول ہیں۔ اگرچہ حالیہ سرنگوںاور حفاظتی اقدامات نے خطرات کسی حد تک کم کیے ہیں، تاہم موسمی شدت کے دنوں میں اسی حصے میں پھسلان، ملبہ گرنے اور عارضی بندشیں زیادہ پیش آتی ہیں۔تجارتی انجمنوں کا کہنا ہے کہ سرینگر،جموں پر گاڑیوں کی نقل و حرکت بند ہونے سے کارباری حلقوں کو روزانہ کی بنیادوں پر کروڑوں روپے کے نقصانات ہوتے ہیں۔شاہراہ کی بندش نہ صرف تجارتی سرگرمیوں بلکہ صحت، تعلیم اور روزمرہ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ایندھن، خوراک اور ادویات کی فراہمی میں تاخیر کے باعث وادی میں قلت پیدا ہو جاتی ہے اور قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ مسافر، مریض، طلبہ اور تاجر اکثر گھنٹوں بلکہ دنوں تک سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں۔ اس شاہراہ کے بار بار بند ہونے کے نتیجے میں وادی میں اشیاء ضروریہ،اورخام مال کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات بھی متاثر ہوئی۔جموں کشمیر چونکہ ایک خریداری خطہ ہیں،اس لئے80 فیصد کے قریب اشیاء بیرون ریاستوں سے ہی جموں کشمیر میں آتی ہیں۔سری نگر،جموں قومی شاہراہ محض ایک سڑک نہیں بلکہ کشمیر کی اقتصادی شہ رگ ہے، جس کی بندش کے اثرات نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔