سرینگر//مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کے دورانحریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے لوگوں سے تلقین کی کہ جتنی شدت کے ساتھ حکومت اور دیگر ایجنسیاں اس تاریخی جامع مسجد کی مرکزیت کوکمزور کرنے کی کوشش کریں اتنی ہی زیادہ تعداد میں یہاں اپنی حاضری یقینی بنائیں تاکہ ان سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ہم کیا چاہتے آزادی ، یہ ملک ہمارا ہے اس کا فیصلہ ہم کریں گے، جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے کے فلک شگاف نعروں کے بیچ میرواعظ نے اعلان کیا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی اسی روحانی مرکز سے شروع ہوئی ہے ، یہیں پہ پروان چڑھی ہیں اور یہیں پر کامیابی کے ساتھ اپنی اختتام کو پہنچے گی۔میر واعظ عمر فاروق نے کہاکہ جموںوکشمیر کے عوام نے جب سے اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کی تحریک شروع کی ہے تب سے مرکزی جامع مسجد کا منبر و محراب یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتا رہا ہے ۔ چاہے وہ سکھ دور ہو یا ڈوگرہ راج جس دوران جامع مسجد کو متعدد بار بند کیا گیا کے مظالم کیخلاف آواز ہو یا ۱۹۳۱ء سے شروع کی گئی تحریک آزادی۔ یہ جامع مسجد کے منبر ومحراب ہی ہیں جہاں سے حق و صداقت کی آواز بلند ہوتی رہی ہے اور گزشتہ ادوار سے لیکرآج تک کئی بار کشمیری مسلمانوں کے اس عظیم روحانی اور دینی مرکز کو کمزورکرنے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ شہید ملت کے دور میں 25؍ اگست1989ء کو بدنام زمانہ آپریشن جامع مسجد کے ذریعہ اس مرکز کی بے حرمتی کی کوشش کی گئی اور آج تک درجنوں بار اس روحانی مرکز کو طاقت کے بل پر مقفل کیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے کیونکہ یہ مرکز اُن قوتوں کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا ہے جو چاہتے ہیں کہ یہاں سے کشمیریوںکے حقوق کے حق میں آواز بلند نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اس مرکز کی اہمیت اور مرکزیت کو ختم کرنے کے جو منصوبے رچائے جارہے ہیں بار بار شہر خاص میں کرفیو، بندشیں ، قدغنیں لگائی جارہی ہیں اور آج بھی لوگوں کو گاڑیوں سے زبردستی اتار کر یہاں آنے سے روکا گیا اور یہ سب حربے صرف اور صرف جامع مسجد کی مرکزیت کو کمزور کرنے کیلئے کئے جارہے ہیں اور عوام کو ان تمام حربوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم بہ بانگ دہل حکومت وقت کو بتانا چاہتے ہیں کہ جامع مسجد کی مرکزیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔اس مرکز سے یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہیگی۔