سرنکوٹ// سب ڈویژن سرنکوٹ کے درجنوں دیہات میں پینے کے صاف پانی شدید قلت کی وجہ سے بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگ بالخصوص خواتین اور لڑکیاں کئی گھنٹوں تک قدرتی چشموں پر پانی بھرنے کی اپنی باری کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ محکمہ جل شکتی دیہات میں پانی سپلائی کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہو گیا ہے ۔سرنکوٹ کے مکینوں نے بتایا کہ بھاجپا کی مرکزی حکومت لوگوں کے گھروں میں پینے کا صاف پانی سپلائی کرنے کیلئے بلندو بانگ نعرے بازیاں کررہی ہے لیکن سب ڈویژن کے پسماندہ دیہات میں پانی کی شدید قلت لوگوں کیلئے ایک بڑی مصیبت کے طورپر سامنے آرہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سرنکوٹ کی 3پنچایتیں جن میں کلو کٹل اپر ،کلر کٹل لوہر اور لٹھونگ وغیرہ کے درجنوں دیہات میں اس وقت 15ہزار سے زائد کی آبادی پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ محکمہ کی جانب سے قائم کر دہ واٹر سپلائی سکیم کی موٹر گزشتہ 1ماہ سے خراب ہوئی ہے اور محکمہ اس کی مرمت میں پوری طرح سے ناکام ہو گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پانی کی سپلائی بند ہونے کے بعد علاقہ میں اس وقت خشک موسم بھی چل رہا ہے جس کے چلتے علاقائی قدرتی چشموں پر بھی پانی کی قلت پید ا ہو گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ کے ملازمین موٹر کی خرابی کا بہانہ بنا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عام لوگوں کو گھریلو ضروریات کے تحت پانی پورا ہی نہیں ہورہا ہے ۔مقامی معززین نے بتایا کہ ان دیہات میں لڑکیوں کی تعلیم کا قیمتی وقت قدرتی چشموں پر پانی کی انتظار میں ہی ضائع ہو رہا ہے لیکن مقامی اور ضلع انتظامیہ عوامی مشکل کو حل کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہو گئی ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کے لاپرواہ ملازمین کیخلاف کارروائی عمل میں لاکر پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔