جموں//’ایک ہفتے کے سکوت کے بعد اکھنور اور سیالکوٹ سیکٹر میں ہندوپاک افواج کے درمیان سنیچرواتوارکی درمیانی شب گولہ باری کاتبادلہ ہواجس کے نتیجہ میں آرپار2بی ایس ایف اہلکار،5سالہ بچی اور60سالہ خاتون جاں بحق اورایک فورسزاہلکارسمیت 40افرادزخمی ہوگئے ۔اس دوران تازہ سرحدی ٹکرائوپرقابوپانے کیلئے سوموارکی سہ پہر5بجے ہندوپاک نیم فوجی دستوں کے سرحدی کمانڈروں کے درمیان ایک ہنگامی ’فلیگ میٹنگ‘منعقدہوئی جس میں دونوں ملکوں کے کمانڈروں نے لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحدپر15سالہ پرانے سیزفائرمعاہدے کوروبہ عمل لانے پراتفاق کیا۔ اکھنورکے پرگوال سیکٹرمیں ہندوپاک افواج کے درمیان سنیچرواتوارکی درمیانی رات وقفہ وقفہ سے ہوئی گولہ باری کے نتیجے میں10 عام شہری زخمی اوربی ایس ایف کے 2جوان ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اس گولہ باری سے جموں کی بین الاقوامی سرحدپرسرحدی دیہات کے27000افرادمتاثرہوئے ہیں۔بی ایس ایف ترجمان کے مطابق پاکستانی رینجروں نے بی ایس ایف کی اگلی چوکیوں پرگولہ باری شروع کردی جس کے نتیجے میں دوجوان زخمی ہوئے جوبعدمیں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑبیٹھے۔ذرائع نے بتایاکہ پرگوال، کاہنہ چک، جھڑی،شاماچک، کھوڑاوراکھنوروسندربنی سیکٹرکے علاقوں میں یہ گولہ باری رات دوبجے تک جاری رہی جس کی زدمیں 25 سرحدی چوکیاں اور50سرحدی دیہات آئے۔اس فائرنگ ومارٹرشلنگ کی وجہ سے اکھنورکے پرگوال اور کاہنہ چک وکھوڑسیکٹروں میں 10 افرادزخمی ہوئے ہیں جن میں ایک پولیس اہلکاراوردوخواتین شامل ہیں۔پاکستان کی بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے سرحدی دیہات کے لوگوں میں خوف وہراس پیداہوگیااوروہ گھروں میں محصورہوکررہ گئے یامحفوظ مقامات کی طرف بھاگنے پرمجبورہوئے۔اے ڈی سی جموں ارون منہاس نے تصدیق کی کہ کاہنہ چک ،شاماچک ،جھڑی اورپرگوال علاقوں میں دس عام شہری زخمی ہوئے ۔اس دوران سوموارکی سہ پہر5بجے ہندوپاک نیم فوجی دستوں کے سرحدی کمانڈروں کے درمیان ایک ہنگامی ’فلیگ میٹنگ‘منعقدہوئی جس میں دونوں ملکوں کے کمانڈروں نے لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحدپر15سالہ پرانے سیزفائرمعاہدے کوروبہ عمل لانے پراتفاق کیا۔خیال رہے29مئی کوہندوپاک کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنزنے ہارٹ لائن پربات چیت کے دوران سیزفائرمعاہدے پرعمل کرنے کاقول وقرارکیاتھا۔اُدھر پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایاگیاکہ سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ایک بچی اور خاتون جاں بحق جبکہ25 افراد زخمی ہوگئے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق اتوراکو صبح شروع ہونے والی فائرنگ کا سلسلہ سارا دن جاری رہا اور زخمی ہونے والوں میں4 بچے اور8 خواتین بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کچی منڈ گاؤں میں بھارتی گولہ باری کے نتیجے میں 60 سالہ خاتون فضلنہ زوجہ رحمت علی جاں بحق ہوئیں۔5سالہ بچی نرگس فاطمہ بھی منڈ گاؤں میں بھارتی فائرنگ سے زخمی ہوئی جسے فوری طور پر سیالکوٹ سی ایم ایچ میں لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی۔بھارتی فورسز کی شلنگ سے کچ منڈ، پل بجوان، شونتی ڈیرہ سمیت دیگر علاقوں میں مجوعی طورپر 24 افراد زخمی ہوئے۔دریں اثناء سوموارکی صبح اکھنورسیکٹرمیں پھرآرپارگولی باری کاسلسلہ شروع ہوگیا۔جموں میں دفاعی ذرائع نے بتایاکہ پاکستانی رینجرس نے اکھنورسیکٹرمیں بی ایس ایف کی چارسرحدی چوکیوں کونشانہ بنانے کیلئے اتوارکو شدیدفائرنگ اورمارٹرشلنگ کی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی رینجرس کوبروقت اوربھرپورجواب دیاگیاجسکے بعداُنکی بندوقیں خاموش ہوگئیں ۔تاہم دفاعی ذرائع نے بتایاکہ اتوارکورات 2بجے سے جموں میں سرحدوں پرخاموشی پائی جاتی ہے ،اورپاکستان کی جانب سے سیزفائرمعاہدے کی کوئی تازہ خلاف ورزی نہیں کی گئی ۔