جموں// صوبہ جموں کے پراچین پرسِدھ ، دھارمک تیرتھ استھانوں میں سُدھ مہادیو ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی ارتقا اور ویدوں کے زمانہ سے بھی پیشتر سُدھ مہادیو کانام ہندو دھرم کے گرنتھوں میں ملتا ہے۔ سُدھنت راکشش کا شوجی مہاراج کے ہاتھوں خاتمہ۔ماتا پاروتی کادیوک کاروپ دھارن کرکے سُدھ مہادیو میںپرکت ہونا ۔ راجہ کرن کے گئو کے کان دیوک اشنان سے گرنے ، ماتا گوری کاگوری کنڈ میں 12سال تک گھو تپسیا کرنا اور پھر مانتلائی میں شوجی مہاراج کے ساتھ شادی ہونا دھارمک تاریخ بھول نہیں سکتی ۔ جموںسے 115 کلومیٹر پورب کی طرف شو گڑھ پہاڑ کے دامن میں بستی کانامہے شوجی مہاراج نے گوری ماتا کی پُکار پر سُدھنت کاخاتمہ یہاں کیا۔ اس یاد میں ہزاروں سالوں سے جیٹھ پورنما شی کو ہرسال تین روزہ میلہ لگتا ہے ۔ اس سال یہ میلہ 16جون چودش کو شروع ہوکر 18جون تک جاری رہے گا۔ یاتری 16جون کو گوری کنڈ میں اشنان کرکے شام تک سُدھ مہادیو پہنچ جاتے ہیں ،رات بھر چاندنی رات میںمیلہ چلتا ہے۔ 17جون پورنماشی کو یاتری دیوک ندی، ناڑہ ’’ بڈھی سُدھی‘‘ اور پاپ ناشتی میں اشنان کرنے کے بعد 3000 ہزار سال سے زائد پرانا مندر میںشوجی مہاراج کی زمین سے ملی مورتی ۔ لوہے کے بارہ فُٹ اُونچے ترشول، بابا گورکھ ناتھ ، بابا بھیروں ،بابا روپ ناتھ کی لی گئی زندہ سمادھی ،ہزاروں سالوں سے جل رہی دھونی کے درشن کرکے مانتلائی کے تالاب میں اشنان او رمندر میں درشن کریںگے۔ 19جون کو دنگل کا اہتمام ہوتا ہے ۔ ہزاروں سالوں کے پرانے اتہاسک دور کے ماخذ سدھ مہادیو نے بدلتے کئی دھارمک اور تہذیبی دور دیکھے ہیں۔ مندر کے اندر شولُدری (ہیرا ) اور جلہیر ی بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔ سُدھ مہادیو کاسارا علاقہ بڑا رماٹنک ، صحت افزا مقام ہے۔ ٹھنڈے صاف پانی کے چشمے ،کل کل بہتے ندی نالے ، سایہ دار درخت ، بہلاتے کھیت ، دلفریب پہاڑی اور گھنے جنگلات ،سہاونی آب وہوا گوری کنڈ ، چوکانالہ،مانتلائی، ماتا نینا ، ہردوار ،بینی سنگھم اور م انتلائی کا یوگا آشرم سُدھ مہادیو کی اہمیت کو دوبالا کرتے ہیں۔ سُدھ مہادیو کی جتنی اہمیت دھارمک ہے اُتنی ہی اہمیت کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہاں سال کے آٹھ ماہ یاتریوں اور سیاحوں کاتانتا بندھا رہتا ہے۔