۔ 14اگست سےجموں خطے میں 130 ہلاکتیں،32ہنوز لاپتہ، جتیندر سنگھ، ایل جی اور وزیراعلیٰ مغموم
شاہ نواز+محمد تسکین
ریاسی+بانہال// جموں ڈویژن کے جڑواں اضلاع رام بن اور ریاسی میں موسم سے متعلق دو الگ الگ سانحات میں کم از کم 11افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعات میں ایک ہی خاندان کے7 افراد بشمول پانچ بچے اور ان کے والدین شامل ہیں۔ ریاسی ضلع کے دور افتادہ مہور سب ڈویژن کے بھدر گائوں میں شدید بارش کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 4مزید افراد ہلاک ہو گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ دو ہفتوں میں جموں خطے میں بادل پھٹنے، مٹی کے تودے گر نے اور بارشوں سے جڑے حادثات میں 130 افراد جاں بحق، 140 زخمی اور 32 یاتری لاپتہ ہو چکے ہیں۔اس سے قبل کشتواڑ میں سالانہ مچیلیاترا کے دوران پاڈر کے چشوتی گائوں میں بادل پھٹنے سے 65یاتری ہلاک ہو گئے، جبکہ 32 ابھی بھی لاپتہ ہیں اور جموں میںویشنو دیوی کے قریب مٹی کا تودہ گرنے سے 36 یاتری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ریاسی
ریاسی ضلع کے دور دراز مہور سب ڈویژن کے بڈرگائوں میں ایک المناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد، جن میں میاں بیوی اور ان کے پانچ کمسن بیٹے شامل تھے، مٹی کے تودے تلے دب کر لقمہ اجل بن گئے۔حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات اس وقت پیش آیا جب علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور نذیر احمد نامی شخص کا کچا مکان اس کی زد میں آ گیا۔ مکان پہاڑی ڈھلوان پر واقع تھا جس کو مٹی اور پتھروں کے ایک ریلے نے اپنے ساتھ بہا لیا۔پولیس حکام نے بتایا کہ حادثے کے وقت نذیر احمد معہ اہل خانہ گھر کے اندر گہری نیند میں تھے اور اچانک آنے والی آفت کے باعث سبھی ملبے کے نیچے دب گئے۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا جس میں بعد ازاں پولیس کی ٹیمیں بھی شامل ہو گئیں ۔انہوں نے ملبے میں دبے افراد کو بچانے کی انتھک کوشش کی، مگر صرف لاشیں ہی برآمد کی جا سکیں۔مرنے والوں کی شناخت نذیر احمد ولد بھر دین (41)، ان کی اہلیہ وزیرا بانو (35) اور ان کے پانچ بیٹوں میں بلال احمد (12)، محمد مصطفی (10)، محمد عادل (8)، محمد مبارک (6) اور وسیم احمد (4) شامل ہیں۔اس سانحے کے بعد بڈر اور مہور کے اطراف کا علاقہ کہرام کی کیفیت میں ہے۔
بانہال
جمعرات اور ہفتے کی آدھی رات کو ضلع رام بن میں تحصیل راج گڑھ میں بادل پھٹنے کے بعد سیلابی ریلوں نے کئی رہائشی مکانوں کو اپنی زد میںلایا ، جس کے نتیجے میں ایک ہی کنبے کی دو خواتین سمیت پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ مہلوکین میں دو بہن بھائی بھی شامل ہیں ۔ اس دلخراش حادثے میںچار لاشیں برآمدکی جاسکیں جبکہ ایک خاتون لاپتہ ہے ۔ ایک سال قبل راج گڑھ کے گڑگرام گائوں میں ہی26اگست 2024کو بادل پھٹنے کے ایسے ہی ایک واقع میں تین کنبوں کے7 افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے تھے اور درجنوں رہائشی مکان ، دکانیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوئی تھیں ۔ ضلع ہیڈکوارٹر رام بن سے قریب 27 کلومیٹر دور افتادہ تحصیل راج گڑھ کے گڑ گراممیں آدھی رات پیش آئے اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان ، ایس ایس پی نے بچائو اور راحت رسانی کیلئے کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان نے کہا کہ جمعہ کی رات بارشوں کے دوران تحصیل راج گڑھ کی پہاڑی پر بادل پھٹنے کے نتیجے میں پانی کا ایک بڑا ریلہ نیچے کی طرف آیا اور پرائمری سکول کو تباہ کرنے کے بعد یہ ریلہ قریب تین سو میٹر نیچے دو رہائشی مکانوں اور ایک گاو خانے کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقع میں ترلوکی ناتھ شرما اور موہن لعل شرما کے مشترکہ کنبے کے5 افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر ملبے اور پتھروں کے نیچے دب گئے ۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ وہ ایس ایس پی کے ہمراہ جمعہ کی رات دیر گئے سے ہی بچائو اور راحت کاروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔مقامی رضاکاروں، پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی انتھک کوششوں کے بعد ملبے سے چار افراد کی لاشوں کو برآمد کیا جا سکا جبکہ ایک لاپتہ خاتون کی تلاش جاری ہے ۔پولیس حکام نے راج گڑھ سانحہ میں مہلوکین کی شناخت55 سالہ دواریکا ناتھ ولد رام چند ،24 سالہ اشونی شرما اوران کی26 سالہ بہن ورتا دیوی ساکن گڈ گرام راج گڑھ اور ان کے48 سالہ مہمان رشتہ دار اوم راج ولد رگھوناتھ ساکن بن شارا راج گڑھ کے طور کی ہے جبکہ55سالہ ِبدیا دیوی زوجہ ترلوکی ناتھ شرما کی تلاش جاری ہے ۔ورتا دیوی بی ایڈ کی تعلیم حاصل کررہی تھی جبکہ اسکا بھائی اشونی شرما جموں یونیورسٹی میں ایم ایس سی میں زیر تعلیم تھا۔
وزیر اعلیٰ /ایل جی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے ‘ایکس’ ایک پوسٹ میں کہا ‘ ریاسی کے بھدر گاؤں میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ پر گہرا دکھ ہے، جس میں ایک ہی خاندان کے7 افراد کی موت ہو گئی’۔وزیر اعلیٰ نے مسلسل بارشوں کے پیش نظر لوگوں سے الرٹ رہنے کی اپیل کی۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ان علاقوں جہاں ایسے واقعات پیش آنے کے خطرات رہتے ہیں کے نزدیک جانے سے گریز کرنے اور سیفٹی ایڈوازئریز پر عمل کرنے کی تاکید کی۔ عمر عبداللہ نے خطرے کے شکار علاقوں سے مکینوں کا بروقت انخلاء کرنے کی ہدایات دیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ریاسی اور رام بن اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور بادل پھٹنے کے واقعات سے انسانی جانوں کے زیاں پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے ۔منوج سنہا نے ان دونوں واقعات پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔انہوں نے ‘ایکس’ پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ‘ ریاسی اور رام بن اضلاع میں بادل پھٹنے اور بارش کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہونے سے دکھ ہوا’۔انہوں نے سوگوار کنبوں کے ساتھ تعزیت کی۔ مرکزی وزیر مملکت جتندر سنگھ نے اپنے پیغامات میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن مدد کی یقین کی ہے ۔