سرینگر//حریت (گ)نے انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے آزادی پسند قائدین اور کارکنوں کو مسلسل گھروں اور تھانوں میں نظربند رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں عملی طور پر مارشل لاءنافذ ہے اور یہاں سیاسی سرگرمیوں اور لوگوں کے آزادی¿ اظہارِ رائے پر مکمل طور پابندی عائد ہے۔ موصولہ بیان کے مطابق اس خطے میں شہریوں کے بنیادی اور پیدائشی حقوق کا کوئی احترام نہیں کیا جارہا ہے اور جمہوریت کا بھی گلا گھونٹھا جارہا ہے۔ بیان کے مطابق گیلانی 2010 سے گھر میں قید کرلیے گئے ہیں، میر واعظ عمر فاوق اور محمد اشرف صحرائی کو گھروں میں دوبارہ نظربند کیا گیا ہے ، جبکہ حریت ترجمان غلام احمد گلزار، مولوی بشیر احمد عرفانی، محمد یٰسین عطائی اور سید امتیاز حیدر کو تھانوں میں بند کردیا گیا۔ حریت کانفرنس نے پولیس کی طرف سے بار بار آزادی پسند قائدین اور کارکنان کو گرفتار کرنے کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد رکھنا ریاست کے حالات کو بد سے بدتر بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ حریت کے مطابق جب سے بی جے پی، پی ڈی پی کی مخلوط حکومت برسرِ اقتدار آگئی ہے، ریاست کو عملاً جیل خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے اور عام شہریوں پر ڈھائے جارہے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔