سہیل سالم
“وہ ایک پرچھائی تھی جس نے لوگوں کی آنکھوں میں خوف بویا تھا ۔کئی لوگ اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے ۔یہ پرچھائی کس کی تھی اور کہاں سے آئی تھی ۔کسی کو اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی ۔”
پھر اس نے کینوس پر رنگوں سے پرچھائی کی پرچھائی بنائی ۔اس نے ایسا کیوں کیا اور کس کے لئے کیا ۔اسے خود بھی پتہ نہیں ۔
“کھڑکی سے اندر آنے والی روشنی نے کہا؟”
رنگوں سے بنائی گئی پرچھائی اپنا راستہ تلاش کر رہی ہے ۔میرا من چاہتا ہے کہ تمہارے رنگ کا حصہ بن جاؤں ۔اس نے پھر اپنے سارے رنگ روشنی کے سامنے رکھ دیئے۔
جب سورج غروب ہوگیا ۔اس کے کینوس پر آگ کی تصویر ابھر آئی لیکن وہ اس سے بجھا نہ سکا کیونکہ اس کا ماضی آگ میں ہی کھو گیا تھا۔اگ میں سب کے ارمان جل گئے ،سب کے خواب راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے اور سب کی ہنسی کو خوف نے نگل لیا ۔
آگ نے چاروں طرف انتشار کو فروغ دیا ۔یہ وہ لمحہ تھا جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں رہا۔اسی آگ میں اس کا سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔
وہ آنکھوں میں اشکوں کا سیلاب لے کر صحرا کی جانب تیزی سے دوڑ پڑا اور راکھ سے بنائی ہوئی مورتی کو صحرا میں دفن کیا۔
پھر وقت نے نیا روپ دھار لیا ۔اس کے زخمی ہاتھوں میں صرف اور صرف راکھ آئی ۔پھر اس نے راکھ سے گلستان ،بیابان اور آبشاروں کے دلکش مناظر بنائے ۔یہ کبھی چنار اور کبھی جھیل کو کینوس پر اُبھارتا لیکن اس کے وجود اور آنکھوں میں بسنے والی وہ پرچھائی ابھی تک کینوس پر ابھر کر نہیں آئی۔
مسلسل کوشش کے بعد آخرکار وہ پرچھائی کو کینوس پر اُتارنے میں کامیاب ہوگیا۔پھر مسلسل اسے دیکھتا رہا اور عجیب و غریب کیفیت میں گرفتار بھی ہوگیا ۔اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھا ۔
“پھر وہ لمحہ آیا کہ جب پرچھائی بولنے لگی اور وہ ڈر گیا ۔جب اسے پہلے بار معلوم ہوا کہ پرچھائی کی زبان بھی ہوتی ہے-”
“یہ زبان کہاں سے آئی ۔اس نے پوچھا؟”
“پرچھائی بول پڑی….”
“پرچھائی اور روشنی کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔”
“نہ جانے کیوں وہ اب روشنی کو ڈھونڈنے نکلا۔وہ پرچھائی کے خدو خال کو روشنی سے سنوارنے لگا۔”
“یہ سارا کھیل رنگوں کا ہے”
“رنگ بکھر جاتے ہیں ،رنگ نکھر جاتے ہیں-”
“پرچھائی جو کل ایک سفید تصویر تھی ….”
“آج پھر سے سیاہ ہوگئی-”
ایک بار پھر وہ عجیب وغریب وہم میں مبتلا ہوا۔اسے نے راکھ سے بنائی ہوئی پرچھائی کو اپنے کمرے میں دفن کیا۔
وہ زندگی کے کس مقام پر کھڑا تھا اسے کچھ پتہ نہیں ۔وہ رنگ کے ساتھ کھیلتا رہا ،وہ رنگ کے ساتھ جیت بھی گیا اور وہ رنگ کے ساتھ ہار بھی گیا۔
اب اس کے رنگ ختم ہونے لگے۔
“جانے کب اور کہاں سے پرچھائی اس کے سامنے نمودار ہوئی…..”
“کون ہو تم؟”
“پرچھائی ”
“اس نے پھر سے پوچھا؟”
“پرچھائی یا روشنی”
“پرچھائی نے اس کی آنکھوں کو دیکھ اور بولی”
“اپنے رنگ میرے ہاتھ میں دے دو”
“اس نے جب اپنے سارے رنگ اس کے ہاتھ میں دے دئیے-”
“اس کے سارے رنگ روشنی میں نکھرنے لگے”
“پھر کمرے میں آہستہ آہستہ روشنی پھیلنے لگی اور وہ اسی کے ساتھ نئے سفر پر نکلا۔”
���
رعناواری سرینگرکشمیر،موبائل نمبر؛ 9103938114