محمداشرف بن سلام
رمضان ہجری سال کا نواں مہینہ ہے، جس میں ایسے کئی واقعات رونماں ہوئے جو تاریخ بن کر رہ گئے ہیں۔اس مبارک مہینےمیں مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے اور یہ ما ہ دینی و روحانی حیثیت سے ہجری مہینوں میں سب سے افضل ہے۔ماہِ رمضان انفرادی و اجتماعی تربیت کا ایسا عملی نظام ہے جس میں رضائے الٰہی کے لئے برداشت، صبر، حوصلہ اور غرباءو مساکین کے ساتھ شرکت کا وہ احساس ہے جو ایک مومن کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ حضرت رسول اکرمؐ نے اس مہینے میں کئے گئے اعمال کا اجر ستر گنا دیئے جانے کی خوشخبری دی ہے۔ روزہ دین ِ اسلام کا بنیادی رُکن اور ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کی نفسیاتی تربیت میں اہم کراداکرتی ہے۔اس مہینہ میں عبادت کرنے کا حکم دیاگیا ہے ،جس میں جسم و روح کی اصلاح سمیت ایک فکر اور فلسفہ کارفرما ہے، ایسے مقاصد بھی منسلک ہیں ،جن کی تکمیل سے خالقِ کائنات اپنی شاہکار تخلیق انسان کی خاص نہج پر تربیت کرکے اسے مقامات عالیہ پر فائز کرنا چاہتا ہے۔ اس شہباز ِفطرت کو عالم ناسوت سے نکال کر عالم لاہوت و ملکوت میں محو پرواز کرنے کے لئے ظاہر و باطن کی تطہیر اور تزکیہ اولین شرط ہے۔ اس لئے خالق ِ عالم نے اپنی تخلیق کے اس شاہکار کو نظامِ عبادات کی صورت میں ایک ایسا تربیتی نظام دیا ہے جو کسی اور مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ نظام عبادت میں روزہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سال بھر میں ایک مہینہ کے روزے نفس انسانی میں پیدا ہوجانے والی روحانی امراض ،غفلت، ریاکاری اور تکبر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ روزے روح کی تقویت اور اخلاق فاضلہ و اعمال صالحہ کی ادائیگی اور ان کی لذت و کیف میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم ؐنے فرمایا: میری ا ُمت کو رمضان میں پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو اس سے قبل کسی اُمت کو عطا نہیں کی گئیں۔اول ، روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ دوم ، فرشتے روزہ دار کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ افطار کر لیں۔سیوم، اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ عنقریب میرے صالحین بندے دنیا کی تھکاوٹ اور تکالیف سے میرے گھر اور میرے دارِ رحمت میں پہنچ کر آرام حاصل کریں گے۔ چہارم، اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہےاورپنجم ، جب رمضان کی آخری رات ہوتی ہے، ان روزہ داروں کو بخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: کیا یہ(آخری رات) شبِ قدر ہے؟ حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا: نہیں! بلکہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو اسے مکمل مزدوری دی جاتی ہے۔
ماہ مبارک کے چار نام ہیں ۔ ’’ماہ ِرمضان، ماہِ صبر، ماہِ مواسات اورما ہِ و سعتِ رزق۔‘‘ مزید فرماتے ہیں :’’ روزہ صبرہے جس کی جزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی مہینے میں رکھا جا تا ہے۔اس لئے اسے ماہ صبرکہتے ہیں۔مواسات کے معنٰی ہیں بھلائی کرنا، چونکہ اس مہینے میں سارے مسلمانوں سے خاص کر اہل قرابت(یعنی رشتے داروں ) سے بھلائی کرنا ثواب ہے، اس لئے اسے ما ہ مواسات (خیرخواہی)کہتے ہیں، اس میں رزق کی فراخی بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی نعمتیں کھالیتے ہیں ،اسی لئے اس کا نام ماہِ و سعت ِرزق بھی ہے۔ مختلف مورخین اور بزرگان دین نے لفظ رمضان کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔ اسلامی سال کے نویں مہینہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رمضان ’’رمض‘‘ سے ماخوذ ہےاور رمض کامعنی’’جلانا‘‘ہے۔ گویا یہ مہینہ انسان کےگناہوں کو جلا دیتا ہے، اس لئے اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ یا اس لئے یہ نام رکھا گیا ہے کہ یہ’’رمض‘‘ سے مشتق ہے جس کا معنی’’گرم زمین سے پائو ں جلنا‘‘ ہے۔ چونکہ ماہِ صیّام بھی نفس کے جلنے اور تکلیف کا موجب ہوتا ہے، لہٰذا اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ رمضان گرم پتھر کو بھی کہتے ہیں، جس سے چلنے والوں کے پائو ں جلتے ہیں۔ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا تھا اس وقت موسم سخت گرم تھا۔ یہ ماہ برکتوں اور نیکیوں کا موسم بہار ہے اور اہل ایمان اس ماہِ مبارک میں عبادات کے ذریعے اپنے رب کی رضا و خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ اس مہینےمیں کئی ایسے واقعات پیش آئے جس کی وجہ سے اس مہینے کی اہمیت مزید بڑھ گئی اور یہ ماہ روحانی اعتبار سےنہایت قدر ومنزلت کا حامل ہے۔ اس ماہ مقدس میں آسمانی کتب کا نزول بھی ہوا ہے۔
یکم رمضان 471ھ کو شیخ عبدالقادِر جیلانی ؒ کی ولادتِ ہوئی اور یکم رمضان 428 ہجری کو معروف ایرانی فلسفی ، ریاضی دان اور طبیب بوعلی سینا ؒکا 58 برس کی عمر میں ایران کے شہر ہمدان میں انتقال ہوا۔ 2 رمضان کو حضرت موسیٰ ؑپر توریت نازل ہوئی اور3 رمضان 11 ہجری کو رسول ِرحمت ؐ کی دختر سیدہ فاطمہؓ کا وِصال مدینہ میں ہوا ۔ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے طور و طریق ، اخلاق و کردار ، طرز گفتگواور لب ولہجہ میں رسول اللہؐ کے مشابہہ حضرت سیدہ فاطمہؓ سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا ؓ تین رمضان کو اپنے خالق حقیقی سے ملیں۔ 10دس ماہ رمضان ہجرت سے تین سال قبل اسلام قبول کرنے والی پہلی خاتون اور حضرت رسول اکرمؐ پہلی شریکِ حیات سیّدنا خدیجہ الکبریٰ ؓ کاوصال مکہ مکرمہ میں ہوا ۔چونکہ اُس وقت نماز جنازہ فرض ہوئی نہیں تھی ،اس لئے صرف کفن دےکر آپ کی تدفین کی گئی۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا: ’’اپنے زمانہ کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد ہیں اور مریم بنت عمران ہیں۔‘‘ 12 ماہ رمضان المبارک کو حضرت عیسیٰؑپر انجیل نازل ہوئی اور15ماہ رمضان 3ہجری کو حضرت سیّدنا امام حسنؓ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی، آپؓ نواسہ رسول اللہؐ اور جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ 17ماہ رمضان المبارک کو کفراور اسلام کے درمیان پہلا معرکہ غزوہ بدر ہوا۔ یہ اسلامی تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ تھا جس میں 313 مسلمانوں پر مشتمل افراد نے اپنی سے کہیں گنا زیادہ مخالفوں کو شکست دی۔ اس معرکہ میں کل 14 صحابہ کرام ؓ جن میں 6 مہاجر اور 8انصار تھے، شہید ہوئے اورسترقریش کافر مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے ۔ 17ماہ رمضان 58 ہجری میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ 67 سال کی عمر شریف میں مدینہ منورہ میں اپنے مالک حقیقی سے جاملی۔ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓکی دختر اور رسول رحمتؐ کی محبوب ترین رفیقہ حیات، عالمہ، عابدہ، محدثہ ہیں۔18 رمضان کو حضرت داؤدؑ پر زبور نازل فرمائی گئی اور19 رمضان کوخلیفہ چہارم امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضیٰ ؓ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئےاور21 ماہ رمضان 40 ہجری کو جامِ شہادت نوش فرمایا، آپ ؓرسولِ اللہؐ کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں ۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا ،میں شہرِ علم ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔ پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے، وہ دروازے کے پاس آئے۔20 ماہ رمضان 8 ہجری میں دین اسلام کی دوسری فتح جب پیغمبر اسلام ؐکی جائے پیدائش مکہ المکرمہ فتح ہوا کہ لاثانی قائد عظیمؐکی قیادت میں مسلمانوںکو بغیر خون خرابے کے فتح ملی ،جس نے دشمن ِاسلام پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ انہیں مقابلے کرنے کی ہمت ہی نہ رہی ۔ یہ دنیا کی تاریخ میں اسلام کی عظیم ترین فتح ہے اور اسی فتح سے تقویت پاتے ہوئے خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کا جھنڈا 22 لاکھ مربع میل تک لہرایا گیا۔27 رمضان میں قرآن پاک نازل ہوا۔ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہؐ سے پوچھا کہ اگر میں لیلتہ القدر کو پالوں تو کیا کہوں؟ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اس طرح کہو۔’’ اے اللہ! تو معاف فرمانے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے پس تو مجھے معاف فرمادے۔‘‘دنیا میں بہت سے نامور انسان گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کمال تجربوںکی بنا پر اپنانام پیدا کیا ،انہی میں تاریخ اسلام کے دو راہنماءجنہیں تاریخ میں طارق بن زیاداور شاہ سیف الدین قطرز کے نام سے مشہور ہیں ۔ طارق بن زیاد کی قیادت میں اسلامی لشکر نے27 رمضان 92 ہجری کی یادگار صبح، اندلس( اسپین) فتح کیا۔اس مردِ حُر کا لشکر5 رجب92ھ اندلس کے ایک پہاڑ پر ا ُترا، جو بعد میں’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے منسوب ہوا۔ انگریزی میں اسے’’جبرالٹر‘‘ کہتے ہیں۔ اس لشکر میںتین سو عرب تھے اور باقی افراد بربر قوم کے تھے۔ یہ معرکہ 20 سے 27 رمضان المبارک تک جاری رہا اور اسی معرکے میں دشمن فوج کا سپہ سالار کنگ روڈریک بھی مارا گیا۔ پھر مسلمانوں نے 8 صدیوں تک اندلس میں حکومت کی۔شاہ سیف الدین قطر زنے 25 رمضان 658 ہجری میں جو جنگ منگولوں سے فلسطین کے مقام عین ِجالوت میں لڑی، تاریخ میں یہ معرکہ عین جالوت کہلاتا ہے۔ یہ جنگ مصر اور منگول کے درمیان ہوا۔ اس جنگ میں تاریخ کی بڑی سلطنت ِمنگول کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ منگول سلطنت ہلاکو خان کے زمانے تک آدھی دنیا کو تباہ کر چکی تھی۔ سمر قند سے دمشق تک مسلم دنیا اس دور میں زیادہ متاثر ہوئے۔ یہاں تک ان کے حوصلے بڑھے اور وہ مصر پر حملہ آ ٓ ور ہوئے۔یہ جنگ مملوک افواج اور منگولوں کے درمیان تاریخ کی مشہور ترین جنگ مانی جاتی ہے ،جس میں مملوک شاہ سیف الدین قطرز(یا قطز) اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے اُس زمانے کےدنیا کے بڑے حصے پر حکومت کرنے والے حاکم اور اپنے سے سینکڑوں گنا طاقتور منگولوں کو بدترین شکست سے دوچار کردیا۔اس شکست کے بعد منگول پھر کبھی نہیں سنبھل پائے اور آخرکار اُن کے زیر تسلط تمام علاقے آزاد ہوگئے۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ 2ہجری، ماہ رمضان میں رسولِ اللہؐ کی دختر حضرت رقیہ کا وِصال ہوا۔ آپؓ کانکاح خلیفہ سیوم حضرت عثمان غنی ؓ سے ہوا تھا۔
[email protected]