طارق منور۔ ٹنگمرگ
ربِ کریم کا نظام ہی عجیب و غریب ہے۔ ہر ساعت ہر لمحے کی شان ، رتبہ، درجہ اور مرتب نشیب و فراز کے مدار میں گردش گزار رہتا ہے۔ کبھی کسی شے کو کسی اور شے سے نسبت دے کر اسکی مقدر کی لکیروں کو تابناک کردیا۔جیسے کہ ماہِ رمضان کے ایام کی فضیلت تمام باقی مہینوں سے بالا تر ہیں، اسکا ہر ہر لمحہ بہت ہی سرمایہ خیز ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول اس ماہ میں بارش کے قطروں سے زیادہ ہوتا ہے۔ رمضان کی کیفیت ،رونق اور چہل پہل کا کیا کہنا ۔ زھد و تقویٰ کے آثار ہر صایم کے رخسار سے نمایاں رہتا ہے، مسجدوں میںلوگوں کی کثرت امتیازی حیثیت کا اظہار کرتی ہے۔ صبح و شام مسلمان کلامِ الٰہی کی تلاوت اور اللہ پاک کی ذکر و فکر میں بیٹھے رہتےہیں۔ رمضان کی ہر ادا منفرد اور دلکش محسوس ہوتی ہے۔ وہ چاہے سحری ہو یا افطاری، کھانے پینے کی ضیافتوں میں برکت ہی برکت ۔ مسلمان بڑے شوق و ذوق سے اس مہینے میں اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں۔ لیکن ایک دلخراش اور دُکھ کا منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔جسکو سن کر یا دیکھ کے آب دیدہ ہوجاتا ہوں۔ وہ یہ کہ ہم اپنے عزیز و اقارب ، دوست اور پڑوسیوں کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ ہم میں وہ خبر گیری کا جذبہ شائدموت کا جام پی چکا ہے۔ اللہ کے محبوبؐ کی خاص تعلیمات تھی کہ اپنے عزیز اقارب اور پڑوسیوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ بھائی پر یہ فرض بنتا ہے کہ بہن کے گھر کی خیر خبر لیں۔ کبھی یہیں سے ہاتھوں میں سبزیاں ، سودا اور بھی روزمرہ زندگی کے اخراجات لے لیں ۔ ہم سب پر یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے دسترخوان پر دوست ، پڑوسی، رشتہ دار کو افطار اور سحری بھی کرائیں جو کہ اس ماہ کا لبِ لباب ہے کہ ہم میں ایک دوسرے کے لئے درد پیدا ہوجائے۔ ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں۔ لیکن ہم کھانے پینے کی لذتوں میں مدہوش ہوگئے، اپنا پیٹ قسم وار ضیافتوں سے سیراب کر کے اوروں کو صبر اور تحمل کا درس دیتے ہیں، یہ ظلم نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟ خدا کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں وہ بے نیاز ہے۔ جس کام کیلئے اس نے ہمیں تخلیق کیا ہے وہ اگر انجام دیتے تو اچھا تھا، مگر ہم تسبیحات کے ورد میں اپنے بنیادی فرائض بھول گئےہیں۔ ایک مشہورقول ہے کہ خدمت سے خدا ملتا ہے اور عبادت سے جنت ۔ذرا غور کریں کہ جس کی طلب میں ہم سورج کی تپش میں لمبے لمبے دنوں کے روزہ رکھتے ہیں ،وہ محبوب اسکی مخلوق کی خدمت گزاری سے ملتا ہے۔ اب آج کا حال دیکھو عبادت جیسے نماز، روزہ، حج اور عمرہ میں کوئی کمی نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن خدمت، ایثار، ہمدردی اور اخُوت کو قضا ءکر بیٹھے ہیں آج کے مسلمان ۔نیز نبی اکرمؐ اس مہینے کے بارے میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ رمضان المبارک ’’شہر المواساۃ‘‘ یعنی انسانی ہمدردی کا مہینہ ہے۔ ہر انسان چاہے وہ کسی فرقے اور کسی نسل کا ہو، اس کے ساتھ خیرخواہی کی جائے۔ ایک ہے ’’موالات‘‘جو صرف مسلمان جماعت کے ساتھ ہو اور ایک ہے ’’مواسات‘‘، ہمدردی اور خیرخواہی، جس میں دنیا کا ہر انسان شامل ہے۔ اگر وہ مظلوم ہے تو ظالم کا ہاتھ روک کر، اُس کو ظلم سے باز رکھ کر اُس مظلوم کے ساتھ ہمدردی کرنی ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا تھا کہ ’’ظالم ہو یا مظلوم، اپنے بھائی کی مدد کرو‘‘۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی مدد کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ ظالم کی مدد اُس کو ظلم سے روکنا ہے۔ طاقت اور قوت کے ساتھ ظلم کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔ گویا انسانیت پر ہونے والے مظالم، انسانیت میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنے کی فکر کرنا بھی اس مہینے کا بنیادی پیغام ہے۔ لہٰذا ہم سب خیال کریں کہ ہم پر اور بھی ذمہ داریاں ہیں۔ جن کو انجام لانا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خدمت گزاری کا جذبہ ، شوق اور ولولہ نصیب کریں۔
رابطہ۔ 8082022014