محمد تسکین
بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر رام بن کے نزدیک سیری کے مقام پر ایک بھاری پسی گر نے کی زد میں آنے سے ایک مشین آپریٹر کی موت ہوئی جبکہ پسی کی زد میں آنے والی ایک آلٹو کار تباہ ہوئی اور اس میں سوار دو بچوں سمیت چھ افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا، جن میں سے دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا جس سے سڑک مکمل طور پر بند ہوگئی۔۔پولیس نے بتایا کہ منگل کو قریب اڑھائی بجے شاہراہ پر سیری اور رام بن کے درمیان وقفے وقفے سے دو بھاری پسیاں گر ائیں جس کیوجہ سے شاہراہ پر دو طرفہ ٹریفک روک دینا پڑا اور سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پسیاں گر آنے کے وقت وہاں سے گز رہی ایک آلٹو کار زیر نمبر JK02AF/2189 اور وہاں کام کرنے والی ایک ایل اینڈ ٹی مشین ملبے اور پتھروں کی زد میں آگئے ۔ انہوں نے کہا کہ پسی سے آلٹو کار سڑک سے ڈیڑھ سو فٹ نیچے دریائے چناب کے کنارے جا گری جبکہ وہاں فورلین شاہراہ کی کشادگی کا کام کر رہی مشین وہاں ہی پلٹ گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں مشین آپریٹر سمیت کل سات افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر رام بن ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں مقامی مشین اوپریٹر سرجیت سنگھ ولد شیر سنگھ ساکن سمبڑ رامبن کو مردہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کار میں سوار چھ زخمیوں میں سے دو بچے بھی شامل ہیں اوربچائوکارروائیوں کے بعد پانچ زخمیوں کو جموں منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔پولیس نے کار میں سوار زخمیوںکی شناخت محمد تاج ولد محمد اسحاق کالاکوٹ راجوری، عبدالحمید ولد صوبا، روبینہ بیگم زوجہ محمد شفیق ، سکینہ بیگم زوجہ ریاض احمد، صائمہ دختر ریاض احمداور محمد عامر ولد محمد شفیق ساکنان منگلور ضلع راجوری کے طور ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پتھر گر رہے ہیں اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے شاہراہ کی بحالی کا کام شروع کیا ۔ شاہراہ کو بحال کرتے ہی درماندہ ٹریفک کو چلنے کی اجازت دی جائے گی۔