سرینگر//’’آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ ہوٹل(نام مخفی) کے فنی شعبے میں تعینات کئے جاتے ہیں‘‘۔یہ اس مکتوب کے جلی حروف ہیں،جو قیصر امین بٹ کو دبئی میں مقیم ایک کمپنی سے موصول ہوا تھا،تاہم ویزا(سفری دستاویزات)کے انتظار میں قیصر دبئی تو نہ پہنچ سکا،تاہم ابدی سفر پر چل پڑا۔شہر خاص کے فتح کدل نمچہ بل علاقے سے تعلق رکھنے والا قیصر اپنے والدین اور2بہنوں طیبہ اورعفت کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہا تھا،تاہم کاتب تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔2008 میں قیصر کے کنبے کو جیسے نظر لگ گئی جب انکی والدہ مہلک بیماری میں مبتلا ہوئی،اور اس بیماری نے انہیں نگل کر بچوں کو شفقت مادری سے محروم کردیا۔3ماہ ہی گزر چکے تھے،جب قیصر کے والد جو پیشہ سے کشمیری دست کاری کے کاروبار سے منسلک تھے،کا دہلی میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال ہوا،اور بچوں کے سر سے والدین کا سایہ اٹھ گیا،اور وہ یتیم ہوگئے۔ ادھریہ تین بچے یتیم ہوگئے ،اوراُدھران بچوں کے چچاغلام محمدکی اکلوتی بیٹی اس دنیاسے رُخصت ہوگئی ۔غلام محمداوراسکی اہلیہ شہزادہ نے ماں باپ کی شفقت سے محروم تین معصوم بھائی بہنوں کواپنے گھرلایا،اوراکلوتی بیٹی سبرینہ کی جدائی کاغم بھولنے کیلئے انہوں نے 14سالہ قیصراوراسکی دوچھوٹی بہنوںکوگودلیکران کی پرورش کی ذمہ داری لی ۔غلام محمدنجار، جوکہ راجباغ میں واقع ایک نجی انگلش میڈیم اسکول میں کام کرتے ہیں ،نے اپنے سگے بھائی کے بچوں کوکبھی یتیم ہونے کااحساس تک نہ دیابلکہ وہ اوراُنکی اہلیہ نے ان تینوں بچوں کوماں باپ کاپیاردیا،اوران کوبہترتعلیم دلانے کی کوشش بھی شروع کردی ۔ کمسن بچوں کی پرورش بچھوارہ ڈلگیٹ میں رہائش پذیر انکی پھوپھی نے اٹھا لیا،اور بچوں کی نہ صرف اچھی طرح سے پرورش کی،بلکہ انہیں تعلیم کے نور سے بھی منور کیا۔قیصر نے12جماعت تک تعلیم حاصل کی،اور بعد میں تعلیم کو خیر آباد کر کے اپنی بہنوں اور پھوپی کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ قیصر کے رشتہ دار جن میں انکے چاچا اور ماموں بھی شامل ہیں،کو انکے روزگار کی فکر ہونے لگی،اور کسی طرح سے دبئی میں مقیم انکے ایک مامو زاد بھائی انجینئر زاہدنے انکی نوکری کیلئے تگ دو کرنا شروع کردی،اور بالآکر سخت عرق ریزی کے بعد قیصر کو دبئی کی ایک کمپنی میں نوکری ملی ۔ قیصر کے اس انجینئر مامو ذاد بھائی نے کشمیر عظمیٰ کو وہ مکتوب دکھاتے ہوئے کہا کہ،وہ گزشتہ دنوں دبئی سے وادی وارد ہوا تھا،اور اس کی خوشخبری قیصر کو دی تھی،جس کے بعد وہ پھولے نہیں سمایا تھا، تاہم سب رشتہ دار سفری دستاویزات کا انتظار کر رہے تھے،کب ویز حاصل ہوتا ہے،اور قیصر دبئی کیلئے اپنا رخت سفر باندھتا ہے۔زاہد احمد انجینئر نے کشمیر عظمیٰ سے مزید بات کرتے ہوئے کہا ’’قیصر اپنی بہنوں کو بہتر سے بہتر تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتا تھا،تاکہ انہیں والدین کی خلش اور کمی محسوس نہ ہو،اس لئے وہ دبئی میں کام کر کے اپنی بہنوں کی بہترین انداز سے پرورش کرنا چاہتا تھا،تاہم انہیں شاید معلوم نہ تھا کہ والدین کے بعد انکی بہنیں بھائی کی محبت اور شفقت سے بھی محروم ہوجائیں گی‘‘۔قیصر کے پھوپھا(جن کے ہاں قیصر اور انکی بہنیں رہائش پذیر تھی) غلام محمد نجار کا کہنا ہے کہ قیصر ایک ذہین،شرمسار اور با حیا نوجوان تھا،جو ہمیشہ سے ہی اپنی بہنوں کی فکر میں لگا رہتا تھا۔انہوں نے کہا کہ قیصر نے پھوپھی کو بھی نماز جمعہ پر جامع مسجد سرینگر میں نماز ادا کرنے کیلئے کہاتھا،تاہم گھریلوں مصروفیات کی وجہ سے انہوں نے منع کیا،جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قیصر احتجاجی مظاہروں میں شامل نہیں تھا،وگرنہ وہ کیوں اپنی پھوپھی کو جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کیلئے کہتا۔قیصر امین کے چاچا نذیر احمد نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا’’۔ گزشتہ3ماہ سے وہ انکے ساتھ ہی شال بافیکا کاروبار کرتا تھا،اور سخت محنت بھی کرتا تھا،کیونکہ انہیں کاروبار کا سخت شوق تھا۔ قیصر کے ماموں محمد اشرف نے سخت جذباتی انداز میں کہا ’ جب جامع میں احتجاج ہوا،تو انہوں نے قیصر کو فون کیا،تو قیصر نے کہا کہ وہ ابھی اندر ہی ہے،اور باہر نہیں نکلا‘‘۔انکا کہنا تھا کہ اصل میں کچھ لوگ احتجاج سے باہر تھے،جب فورسز کی گاڑی نے انہیں کچل دیا۔انہوں نے مزید کہا ’’ اگر قیصر عادی سنگباز یا سنگبازی میں ملوث ہوتا،تو انہیں کس طرح پاسپورٹ کا حصول ہوتا‘‘۔سینٹ سلیمان ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعدقیصراحمدنے ایس پی ہائراسکنڈری اسکول میں داخلہ لیا،لیکن اپنی اوراپنی بہنوں کابوجھ اکیلے چچاپر نہ چھوڑتے ہوئے اس نوجوان نے تعلیم کوخیربادکہہ دیا۔ سال 2016کی گرمائی ایجی ٹیشن کے دوران قیصراحمدکاایک قریبی دوست عرفان فورسزکی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا،اوردوست کی موت نے قیصرکواسقدربدل دیاکہ وہ سخت گیرآزادی پسندبن گیا۔عرفان کی المناک موت نے قیصرکی زندگی پراس قدرگہرے نقوش چھوڑدئیے کہ جہاں کہیں بھی کوئی کشمیری نوجوان فورسزگولیوںکانشانہ بن کرجاں بحق ہوجاتا،قیصراس مہلوک کی نمازجنازہ میں شرکت کیلئے پہنچ جاتا۔بقول دوست قیصرکیلئے یہ تکیہ کلا م بن چکاتھاکہ ’بے عزت زندگی سے عزت کی موت کہیں زیادہ بہترہے‘۔کہتے ہیں کہ گزشتہ جمعہ کوجب فورسزنے مرکزی جامع مسجد کے اندرٹیرگیس شلنگ کی ،اورمتعددمظاہرین کوپیلٹ فائرنگ سے زخمی کیاگیا،تواس دوران قیصرنے جامع مسجدکے نزدیک سرراہ پڑے خون کے دھبوں کوصاف کیا۔