فاضل شفیع بٹ
وہ ایک کہر آلود شام کے دھندلکے میں ایک گہری سوچ میں غوطہ زن تھا ۔اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔وہ زیرِ لب کچھ بڑبڑا رہا تھا ۔وہ اپنی ماں کی آواز سے کافی خفگی محسوس کر رہا تھا۔اپنی ماں کی آواز سے اس کو بڑی کوفت ہوتی تھی حالانکہ وہ اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا تھا لیکن وہ اپنی حالیہ کیفیت سے پیچ و تاب کھا رہا تھا ۔اس نے لڑکپن یتیمی کے تھپیڑوں میں بسر کیا۔دادا اور چچا جان کے رحم و کرم سے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور اس کی ماں نے اپنے شوہر کے انتقال کے چند ماہ بعد ہی اپنی مرضی سے دوسری شادی کی تھی ۔وہ پوری طرح اپنی ماں کی چھاتی کی گرمی کو بھی پوری طرح محسوس نہ کر سکا تھا۔ جس دن اس کے دادا جان کی موت ہوئی ،اس دن اس کو اپنے یتیم ہونے کا پورا احساس ہوا ۔اس کی زندگی میں دادا جان کی موت سے ایک خلا سا پیدا ہو گیا ۔جاں گسل اذیتوں نے اس کو ایک سخت مزاج آدمی تو بنایا تھا مگر وہ دل کا اتنا ہی صاف تھا۔
وہ کبھی اپنی ماں کے گھر نہیں گیا ۔دادا جان کی موت کے بعد چاچا نے شفقت و محبت سے اپنے پاس رکھا, لیکن معلوم نہیں وہ اپنی چاچی کی آنکھوں میں کیوں کھٹک رہا تھا ۔وہ کبھی بھوکے پیٹ سوتا ،کبھی خالی پیٹ کالج جاتا ،کتابوں کے لیے پیسے مانگنے سے کتراتا۔۔۔لیکن وہ ان اذیتوں کو اپنے دل کے نہاں خانوں میں دفن کر دیتا ۔وہ تن تنہا ان حالات سے مقابلہ کر رہا تھا ۔اس نے کبھی اپنی ماں سے ان باتوں کا ذکر نہیں کیا اور اس کی ماں نے بھی کبھی اپنی اولاد سے اس کے حالات پوچھنے کی زحمت گوارا نہ کی ۔کیا پتا وہ گھر کے پیچیدہ حالات سے مجبور تھی ۔۔۔یا اس کا شوہر بد مزاج ہو ۔۔۔یا وہ اپنی بیٹیوں کی محبت میں اس قدر غرق ہو گئی تھی کہ اس نے اپنے بیٹے کو نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا ہو ۔اس نے کبھی اپنی مامتا کو اپنے بیٹے کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ وہ بے چارہ تو باپ کی محبت کے لئے ترستا ہی رہتا تھا،مگر اپنی سگی ماں نے بھی اسے اپنی محبت سے دور ہی رکھا۔
وہ اب سارے حالات پرکھ چکا تھا ۔اس نے بڑی بہادری سے حالات کا مقابلہ کیا ۔دن رات محنت کر کے خود کو اس قابل بنایا کہ وہ دو وقت کی روٹی کما سکے ۔وہ اب سرکاری ملازم تھا ۔لوگ اس کی عزت کرتے تھے ۔اس کے ماتھے سے یتیمی کا داغ اب مٹ چکا تھا اور سماج میں ایک عزت دار نوجوان کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہا تھا ۔
اسے یاد آیا جب ایک دن اس کی ماں پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس اس کے دفتر میں وارد ہوئی تھی اور آتے ہی اپنے بیٹے کو چومنے لگی اور ماں کی آنکھوں سے آنسؤں کے قطرے اس کا چہرہ بھی بھگو گئے تھے ۔وہ سالوں سے اپنے دل کے اندر سمیٹے ہوئے درد و کرب کو اپنے بیٹے کے سامنے صاف صاف لفظوں میں بیان کر رہی تھی۔اس کا بیٹا دل کا بڑا صاف تھا ۔اس نے اپنی ماں کو اپنی بانہوں میں بھینچ لیا ۔آج پہلی دفعہ وہ اپنی ماں کی محبت کو محسوس کر رہا تھا۔اس کو ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کی ماں کی چھاتی سے دودھ نکل کر اس کے اپنے جسم میں سرایت کر رہا ہو اور اس کے جسم کا ہر انگ تروتازہ ہو رہا ہے ۔ ماں کی مامتا اس کو اپنا گرویدہ بنانے میں کامیاب ہوئی ۔اس نے اپنے چاچا کے گھر کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہا اور اپنی ماں اور سوتیلی بہنوں اور سوتیلے باپ کے ہمراہ اپنی آگے کی زندگی بسر کرنے لگا ۔
اس کو یہ بھی یاد آیا کہ وہ کس طرح اپنی ساری تنخواہ اپنے سوتیلے باپ کے ہاتھوں میں تھما دیتا تھا۔ گویا سوتیلے پن کو اس نے اپنے وجود کا حصہ بننے نہ دیا تھا۔ اس نے بینک سے قرضہ لے کر اپنی ماں کے لیے ایک شاندار گھر بھی بنوایا تھا ۔ان ساری چیزوں سے اس کی ماں کا چہرہ کھل اٹھا تھا ۔ایسا لگ رہا تھا کہ اس گھر میں ڈھیر ساری خوشیوں نے ایک ساتھ جنم لیا تھا ۔اس نے اپنے سوتیلے باپ کی مرضی کے مطابق شادی بھی کر لی ۔وہ اپنی ماں سے بے انتہا محبت کر رہا تھا اور ایک فرمان بردار بیٹے کی طرح اس کی ساری خواہشات کی تکمیل بھی کر رہا تھا ۔
وہ اپنی بیوی کے ہمراہ نہایت سکون سے اس گھر میں سکونت پذیر تھا ۔اس کو یاد آیا کہ شادی کے چند ماہ بعد ہی کیسے گھر کا ماحول یکایک بدل گیا۔کس طرح اس کا سوتیلا باپ، اس کی سوتیلی بہنیں اور اس کی اپنی ماں اس کی بیوی کے خلاف زہر اگلنے لگے ۔اس کے دل کو کتنا گراں گزرا تھا جب اس کی ماں نے اس کی بیوی کو بانجھ اور چڑیل کہہ کر پکارا تھا اور اپنے بیٹے کو اس سے فوری طلاق لینے کی بات کی تھی۔
اس کو یاد ہے کہ جب ان دونوں میاں بیوی کو دھکے مار مار کر گھر سے باہر پھینک دیا گیا تھا اور اس کی سوتیلی بہنوں نے دونوں کی اچھی خاصی مار پیٹ بھی کی تھی اور اس نے خون آلود چہرے سے اس گھر کو خیر باد کہا تھا ۔آج اس کی ماں کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کی جدائی کے لئے کوئی آنسو نہ تھے ۔وہ اپنے بیٹے کو بد دعائیں دے کر بیٹےکےہی بنائے ہوئے گھر سے دفع کر رہی تھی ۔اس کی مامتا شاید اپنے گھر کی شاندار دیواروں میں دفن ہو چکی تھی ۔شاید اس کو اپنے بیٹے سے کوئی لگاؤ ہی نہ تھا بلکہ وہ اس کی دولت پر فریفتہ ہوئی تھی۔
اس کو یاد ہے کہ کس طرح اس نے بیوی کے زیورات بیچ کر باپ کی اراضی پر ایک چھوٹا سا مکان تعمیر کیا تھا اور نئے گھر میں قدم رکھتے ہی کس طرح اس کی بیوی کی کوکھ میں ایک چاند سا بیٹا کھلکھلا رہا تھا۔اب وہ بڑے اطمینان سے اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ زندگی بسر کر رہا تھا ۔شاید ماضی کے زخم اب مندمل ہو چکے تھے ۔
اس کو یاد ہے کہ کس طرح اس کی ماں نے مفلسی کا بہانہ کر کے اپنی ادویات کے لئے اسے پیسے مانگے تھے اور وہ بیوی کے در پردہ اپنی ماں کی امداد کرتا رہا حالانکہ وہ اس بات سے نابلد تھا کہ اس کی ماں ان پیسوں سے اپنی بیٹیوں کے اخراجات پوری کرتی ۔اس کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹے کو دھوکہ دے رہا ہے ۔وہ ماں اور بیوی کے درمیان میں ایک لکیر کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا, تاکہ ایک بیلنس قائم رکھ سکے۔ لیکن دو مختلف انسانوں کے بیچ کا یہ فاصلہ اس کے وجود اور شعور میں کہیں پھر سے گڑ مڑ ہوکر اسے تکلیف پہنچارہا تھا۔ اس کی ذہنی کیفیت کرب ناک تھی۔اس کو اس بات کا بھی دکھ ہے کہ اس کی دو سوتیلی بہنیں اب طلاق یافتہ ہیں ۔وہ ان کی ہر طرح سے مدد کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے دماغ میں یہ بات بار بار کھٹک رہی ہے کہ اس کی پیدائش سے لے کر جوانی تک کبھی بھی اس کی ماں نے اس کی خبر گیری کرنی مناسب نہ سمجھی لیکن سرکاری ملازمت ملنے کے فوراً بعد ہی ماں کی مامتا یکایک جاگ اٹھی تھی ۔وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اس کی ماں کو اسے واقعی محبت تھی تو وہ اس کو بددعائیں کیوں دیتی تھی؟۔۔اس کی ماں لوگوں کے سامنے کیوں اپنا دکھڑا اس طرح بیان کرتی کہ گویا وہ قصوروار ہو ۔۔۔وہ اکثر ایسا کیوں کہا کرتی کہ اس کے بیٹے نے اس کو سرِراہ چھوڑ دیا ہے حالانکہ وہ تو کبھی اس کا بیٹا تھا ہی نہیں۔ وہ اس کے لئے بس ایک بنک اکاؤنٹ یا اے۔ٹی۔ایم مشین تھا۔
اس کو یاد ہے کہ کس طرح اس نے اپنی سوتیلی بہن کی شادی پر بیوی سے منت سماجت کر کے اچھی خاصی رقم ان کو فراہم کی تھی۔وہ اپنی ماں اور سوتیلی بہنوں کا اب بھی خیال رکھ رہا تھا لیکن ساتھ میں وہ ایک درد وکرب کے عالم میں جی رہا تھا ۔اس کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اس کی ماں اس کا حال احوال پوچھنے کے لئے کبھی فون نہیں کرتی بلکہ جب بھی اس کو روپیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ایک نیا روپ دھار کر نحیف اور رقت آمیز لہجے میں بات کیا کرتی۔
اس کی بیوی واقعی ایک نیک سیرت عورت تھی جو سب جان کر بھی خاموشی سے یہ تماشہ دیکھ رہی تھی ۔لیکن وہ خود سے خفا تھا ۔اس کو معلوم تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ سے بے ایمانی کر رہا ہے ۔وہ اپنی قلیل تنخواہ کا نصف حصہ ماں کے اہل خانہ پر صرف کرتا تھا۔ اب وہ لوگوں کا مقروض ہو چکا تھا۔اس کی مالی حالت بھی غیر مستحکم ہوچکی تھی ۔اس کے دل و دماغ میں یہ بات مسلط تھی کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے لیکن وہ سوچ رہا تھا کہ کیا واقعی ایسی ماں کے پاؤں تلے بھی جنت ہو سکتی ہے جس نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو نظر انداز کیا ۔۔۔؟
اب اس کومگر سب باتوں کا ادراک ہو چکا تھا ۔۔۔ اس کی ماں نے اس کو ہمیشہ فریب میں رکھا تھا ۔۔۔۔وہ اب اچھی طرح محسوس کر رہا تھا کہ اس کی ماں کی مامتا اس کی بیٹیوں تک ہی محدود تھی ۔۔۔اور اس کی ماں کو اپنے بیٹے سے کوئی دلی لگاؤ نہ تھا ۔۔۔اور اس کی ماں کی نظر محض اس کی دولت پر مرکوز تھی۔۔۔۔یہ سب بھی اسے پریشان کرتا تھا, دکھ دیتا تھا کہ ایک ماں ایسے کیسے ہوسکتی ہے۔
شام کا اندھیرا اب اور زیادہ گہرا ہو چکا تھا ۔سیاہ اندھیرے میں ایک دلسوز آواز گونج رہی تھی ۔۔وہ تھرتھرا رہا تھا ۔۔۔۔وہ کپکپا رہا تھا۔اس کے ہونٹ سوکھ چکے تھے ۔یہ نحیف آواز اس کی ماں کی آواز تھی جسے شاید روپیوں کی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔ اسے پل بھر کو محسوس ہوا کہ یہ آواز ایک پروفیشنل گداگر کی آواز ہے۔۔۔۔۔ اسے لگا کہ اس کی ماں کا اپنے بیٹے کے ساتھ رشتہ فقط دریوزہ گری کا رشتہ ہے۔ ایک لینے والے ہاتھ کا رشتہ ایک دینے والے ہاتھ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ایک گاہگ کا رشتہ ایک بنک کے ساتھ۔۔۔۔۔جس میں نہ کہیں کوئی جذبہ تھا نہ کسی احساس کی گرمی۔۔۔
وہ جیسے لمبے تھکا دینے والے کسی صحرائی سفر کے بعد اپنی منزل پہ آ پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس نے خود کو جنھجوڑا۔۔۔۔اپنے وجود کو ہلایا۔۔۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے اہل خانہ کو اب مزید فریب نہیں دے سکتا۔۔۔اس نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کر اپنے کانوں کے سوراخوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس دیں۔۔۔وہ اس آواز سے مانوس ہو چکا تھا۔۔۔اب وہ مزید اس آواز کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔وہ فریب میں لپٹے ہوئے لینے دینے کے کاروبار سے دستبردار ہوچکا تھا۔
���
اکنگام، انت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419041002