جموں// اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں کے لوگوں کو کشمیر سے علیحدہ نہیں کیاجاسکتا اور دونوں خطوں کے لوگوں کو ایکدوسرے کے قریب لانے کیلئے 149سالہ پرانی ششماہی دربارمؤ روایت کو بحال کیاجائے۔ پریس بیان کے مطابق منگل کو پارٹی دفتر گاندھی نگر جمو ں میںوفود سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ ششماہی دربار موروایت بحال کرے کیونکہ اس سے جموں اور کشمیر کے لوگوں کے درمیان بہترتعلقات قائم ہوتے ہیں اور ایکدوسرے کے کلچر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، ساتھ ہی شہر جموں میں چھ ماہ تک کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔بخاری نے کہا’’ جب دربار سرمائی راجدھانی جموں میں ہوتا ہے، ملازمین اور اُن کے اہل خانہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے جموں آتے ہیں اور اِس سے جموں کی معیشت میں چھ ماہ تک ترقی ملتی ہے۔ بخاری نے کہا’’جموں میں تجارتی سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں، تاجرطبقہ کا ماننا ہے کہ اگر دربار موروایت بحال نہ کی گئی تو اگست2019کی پیش رفت کے بعد اُنہیں جومالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے، اُس کی بھرپائی نہیں ہوپائے گی‘‘۔ثقافتی مقام کو تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہاکہ مبارک منڈی محل کو ہوٹل بنانے سے متعلق جوبھی وفود اُن سے ملے ، اُنہوں نے حکومت کے فیصلے پر برہمگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ثقافتی مقام کو ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اُن لوگوں نے فیصلہ لیا جوہماری تاریخ اور مبارک منڈی محل کی تاریخی اہمیت سے ناواقف ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ اِ س معاملے میں مداخلت کر کے اِس محل کو محفوظ کریں اور اِس کو جموں شہر کے تاریخی سیاحتی مقام کے طور ترقی دی جائے۔