صوفیہ یاسین
اسلام میں جس عمل پر نماز کے بعد سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ ہے زکوۃ ، یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ اس لئے ہر صاحب نصاب پر زکوٰۃ کا ادا کرنا ایک فرض عبادت ہے لیکن ساتھ ہی زکوۃ ادا کرتے وقت نیت بھی بہت ضروری ہے۔ دکھاوے کیلئے نماز، روزہ اور زکوٰۃ کا ادا کرنا یہ سب شرک اصغر ہے کیونکہ زکوٰۃ کی اصل غرض دل کی پاکی اور نفس کا تزکیہ ہے، لہٰذا جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے ان کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے۔
زکوٰۃ اللہ کی رحمت کا وسیلہ ہے، زکوۃ ادا کرنے والا سچا مومن ہے، زکوٰۃ ادا کرنے سے دولت میں اور اضافہ ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے کا مال دنیا کی حرص اور بخل کے ناپاک جذبات سے پاک ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے، زکوٰۃ گناہوں کا کفارہ اور تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے، زکوٰۃ سے ملت کے نادار افراد کی مدد ہوتی ہے، ان کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، دین کی دعوت اور اس کی سربلندی کی راہیں ہموار ہوتی ہیںاور اس سلسلے میں جو مصارف درکار ہوتے ہیں ان کا انتظام ہوتا ہے۔
حضرت خالد بن اسلمؓ کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمرؓکے ساتھ نکلے تو ایک دیہاتی نے کہا مجھے اللہ کے اس قول کا مطلب بتائیں۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا، جس آدمی نے سونا چاندی جمع کیا اور اس کی زکوٰۃ نہ دی تو اس کے لئے خرابی ہے۔ یہ آیت زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی ہے لیکن جب زکوٰۃ فرض ہوئی تو اللہ نے مال وزَر کو زکوٰۃ کے ذریعہ پاک کردیا۔ امام بخاریؒ نے روایت کی ہے کہ مال وروپیہ کی جانکاری تو مرد ہی جانتے ہیں، لیکن سونے چاندی کی جانکاری خواتین کو ہوتی ہیں۔ لہٰذا خواتین کو اپنی زیورات کا زکوٰۃ بہت احتیاط سے نکالنی چاہئے، اس سے زیور میں کمی نہیں ہوتی۔ ہاں جو عورتیں نہیں نکالتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کے زیور کو آگ میں تپا کر گلے میں طوق بناکر ڈال دیتا ہے۔ ایسا زیور آخرت میں کس کام کی، جس کی زکوٰۃ نہ دی جائے۔ اس لئے ہر خواتین کو چاہئے کہ دنیاوی زیور سے آخرت کی زیور خرید لے۔ یاد رہے!سونے پر زکوٰۃ ساڑھے سات تولہ اس سے کم پر نہیں (یہ ابن ماجہ کی روایت ہے)، چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے، اس پر اس سے کم پر زکوۃ نہیں۔(صحیح بخاری)۔اگر نقدی رقم اتنی ہوجائے کہ اس سے ساڑھے باون تولہ چاندی خرید سکے تو زکوٰۃ نکالنا فرض ہوجاتا ہے۔ اسی طرح صد قہ فطر واجب ہے، صد قہ فطر گھر کے سرپرست کو گھر کے تمام افراد ، یعنی بیوی، بچوں اور ملازموں کی طرف سے ادا کرنا چاہئے، صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوجاتا ہے، لیکن بہتر ہے کہ عید کی نماز سے پہلے ہی ادا کردیا جائے۔
[email protected]