پرویز مانوس
رات کی سیاہی میں ہر چیز غائب ہو چُکی تھی ، خاموشی ہر طرف اپنے قدموں کی چاپ چھوڑتی جارہی تھی، کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی، ہلکی سی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی جس میں سگریٹ کا دھواں صاف دکھائی دے رہا تھا، ایک پرانے طرز کی کرسی کمرے میں آگے پیچھے ہل کر زندہ رہنے کا احساس دلارہی تھی جس پر مسٹر جیکب بیٹھے گہری سوچ میں گُم تھے، اُن کے آگے والے ٹیبل پر بہت سی قانون کی کتابیں کُھلی ہوئی تھیں، دفعتاً پریشانی کے عالم میں وہ کھڑے ہوکر کمرے میں ٹہلنے لگے، سگریٹ کا کش لگا کر اُنہوں نے دُھویں کا مرغولہ بلب کی طرف چھوڑا۔
مسٹر جیکب سیشن جج کے عہدے پر فائز تھے اور اس وقت ایک ایسے کیس کی سماعت کر رہے تھے جس میں ایک شخص پر الزام تھا کہ اُس نے ایک بوڑھے شخص کو رات کی تاریکی میں اپنی گاڑی سے ٹکر مار کر ہلاک کردیا تھا، مقدمہ گزشتہ ایک برس سے عدالت میں چل رہا تھا لیکن پولیس کسی چشم دید گواہ کو پیش کرنے نا کام رہی تھی، حالانکہ حادثے کے وقت وہاں سے کافی سارے لوگ گزر رہے تھے لیکن پولیس کی پوچھ تاچھ سے بچنے کے لئے گواہی دینے کے لئے کوئی تیار نہ ہوا اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی کوئی خاص مدد نہیں مل سکی تھی۔ دونوں جانب کے وکلاء نے زبردست بحث کی تھی، جرح سُننے کے بعد جج صاحب نے فیصلہ اگلی پیشی تک محفوظ رکھا تھا اور کل جج صاحب کو فیصلہ سُنانا تھا۔ اسی اُلجھن میں جج جیکب بے چینی کے عالم میں بے قرار تھے آخر تھک ہار کر وہ بستر پر دراز ہوگئے،،
تقریباً آدھی رات کے وقت جب وہ گہری نیند میں تھے اُن کے کانوں میں ایک انجانی آواز گونجی،
“جج صاحب،، ……! کس اُلجھن کے جال میں پھنسے ہوئے ہو؟ دلاور قاتل ہے اُسے سزا دیجئے.. آواز سُن کر وہ گھبرا گئے۔
کون ہو تم ؟ کون ہو؟ کون؟
میں اُس ایکسیڈنٹ کی چشم دید گواہ ہوں جس کا تم کل فیصلہ سُنانے والے ہو،،
چشم دید گواہ؟ جیکب نے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے پوچھا،،
ہاں چشم دید گواہ……..!
لیکن تم ہو کون؟
“میں وہ سڑک ہوں جس پر حادثہ ہوا تھا،” آواز نے کہا۔ “میں اس حادثے کی عینی شاہد ہوں، میرے جسم پر آج بھی اُس تیز رفتار گاڑی کے نشانات موجود ہیں۔ خون کے دھبے اب میری سطح پر خشک ہو چکے ہیں، لیکن وہ کبھی مٹ نہیں سکتے۔
میں چاہتی ہو فیصلہ سُنانے سے پہلے تم ایک بار اُس جگہ کا معائینہ ضرور کرو، تم کووہاں اُس حادثے کے تمام ثبوت مل جائیں گے۔
جج صاحب ہڑبڑا کر جاگ اٹھے۔ یہ کیسا خواب تھا؟ سڑک کی گواہی؟ یہ محض ایک خواب تھا یا اس میں کوئی حقیقت چھپی ہوئی تھی؟ وہ کچھ دیر تک سوچتے رہے، لیکن خواب کی شدت نے انہیں بے چین کردیا۔ وہ سوچنے لگے، سڑک تو بےجان اور بے زبان ہوتی ہے _ ایک سال بعد کیسے وہاں نشان موجود رہیں گے، یہ کیسا خواب تھا …خیر…..پھر وہ بے فکر ہوکر سوگئے۔
دلاور جو خواجہ التمش خان کی بگڑی ہوئی اولاد تھا، ایک رات شراب کے نشے میں دُھت کہیں پارٹی سے آرہا تھاکہ اپنی تیز رفتار کار سے ایک بوڑھے کی زندگی کا چراغ گُل کر گیا ۔
یہ سڑک، جو دن کے اجالے میں سینکڑوں انسانوں اور گاڑیوں کی گواہ بنتی ہے، رات کے وقت ایک خاموش گواہ کی مانند اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔ یہ بوڑھا آدمی، پانچ بچوں کا باپ، اپنے ساتھ نہ صرف اپنی زندگی کی سانسیں لے گیا بلکہ انصاف کی امید بھی جاتی رہی۔
حادثہ کے بعد، پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج ہوئی، لیکن کوئی عینی شاہد موجود نہ تھا۔
جج صاحب اپنی کرسی پر براجمان گہری سوچ میں گُم تھے،
یور آنر۔۔۔۔! میں اس کیس سے متعلق تمام دستاویز پہلے ہی عدالت میں جمع کراچُکا ہوں _واضح رہے کہ اس کیس کا کوئی بھی چشم دید گواہ نہیں ہے، میرے مؤکل نے اقبال جرم محض پولیس اور میڈیا کے دباؤ میں آکر کیا ہے، لہٰذا میری عدالت سے درخواست ہے کہ میرے مؤکل مسٹر دلاور کو اس کیس سے برّی کیا جائے،، وکیلِ صفائی نے نہایت ہی انکساری سے کہا،،
یورآنر۔۔۔۔! یہ ایک غریب شخص کے قتل کا معاملہ ہے، ملزم کے اقبال جرم کو بنیاد بناکر اسے سزا دی جائے، دیٹ از آل مائی لارڈ۔۔۔! سرکاری وکیل نے اپنے گریبان کا روب درست کرتے ہوئے کہا،،
یورآنر۔۔۔۔! میرے مؤکل نے پولیس اور میڈیا کے دباؤ میں آکر یہ اقبال جرم کیا ہے، ورنہ وہ بے قصور ہے _ وکیلِ صفائی نے اپنے دونوں بازو ہوا میں لہراتے ہوئے کہا،،
آرڈر آرڈر……! جج صاحب نے لکڑی کا ہتھوڑا ٹیبل پر مارتے ہوئے کہا تو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
عدالت اس کیس کا فیصلہ سُنانے سے پہلے ایک بار اُس سڑک کا خود معائینہ کرنا چاہتی ہے جہاں یہ حادثہ ہوا ہے، جج صاحب کا حُکم سُن کر کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔
یورآنر۔۔۔! اس حادثے کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے، انویسٹگیشن آفیسر کی جانب سے رپورٹ بھی سبمٹ ہوچکی ہے _،وکیل صفائی نے بڑے ادب سے کہا،،
یہ عدالت کا حُکم ہے، اس معاملے میں کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، جج نے اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوئے کہا۔
پھر متعلقہ پولیس اسٹیشن کے انچارج اور فورنیسک لیبارٹری کے چند افسران کے ساتھ جج صاحب جائے حادثہ پر پہنچے تو سڑک پر دونوں جانب سے آمد و رفت روک دی گئی، پھر جج صاحب کی موجودگی میں فورنیسک لیب کے اہلکاروں نے کچھ پورڈر سا سڑک پر چھڑکا اور تھوڑی دیر کے لئے رُک گئے، اچانک سڑک سے دُھواں سا اُٹھنے لگا، جج صاحب سمیت تمام لوگ حیران کُن آنکھوں سے دھیان لگا کر سڑک کی طرف دیکھنے لگے۔
تقریبًا ایک گھنٹے کے بعد سڑک پر دلاور کی گاڑی کے ٹائروں کے نشان اُبھر آئےاور اُسی کے ساتھ سوکھے ہوئے خون کے دھبے بھی دکھائی دئیے، جج صاحب کی آنکھیں کھلی رہ گئیں _۔
جج صاحب کو یقین آگیا کہ سڑک نے اپنے خاموش وجود میں وہ سب کچھ محفوظ کر لیا تھا جو وہ اپنے آنکھوں سے دیکھ چکی تھی۔ وہ نشانات اور دھبے کسی عام حادثہ کے نہیں، بلکہ ایک سنگین جرم کے ثبوت تھے۔ دلاور کی تیز رفتاری اور بے پروائی کی وجہ سے ایک انسان کی جان چلی گئی تھی اور ابھی تک اس کے وارثوں کوانصاف نہیں ملا تھا۔
جج صاحب اپنی کرسی پر براجمان ہوئے اور ٹیبل پر رکھا ہوا پانی کا گلاس پینے کے بعد قلم اُٹھا کر فیصلہ سُنانے لگے،،
سڑک کو اس حادثے کا خاموش چشم دید گواہ تصور کرتے ہوئے اور سڑک کا بغور معائنیہ کرنے کے بعد، اُس پر دلاور کی کار کی ٹائروں کے نشانات اور سوکھے ہوئے خون کے دھبوں کو مقتول سے میچ کرنے بعد یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ واقعی دلاور کی کار سے ٹکر لگنے کی وجہ سے مقتول شیرو کی موت واقعہ ہوئی اور دلاور نے عدالت کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کی _لہذا یہ عدالت ملزم دلاور کو دفعہ IPC/304Aکے تحت دو سال کی قید اور مقتول کے ورثا کو دو لاکھ کی رقم بطورِ معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتی ہے۔
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر،کشمیر
موبائل نمبر؛9419463487