محمد تسکین
بانہال //بارڈر روڈ آرگنائزیشن کی طرف سے 2021 کے وسط میں تاریخی جواہر ٹنل کی ضروری مرمت اور تزائین و آرائش کیلئے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا جو اپنی شروعات کے چند ماہ بعدہی بند ہوگیا ہے اور تعمیراتی کمپنی کا ٹینڈر منسوخ کردیا گیا ہے۔اگرچہ گذشتہ سال سے ٹریفک کی نقل و حرکت بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل سے جاری ہے تاہم اب جواہر ٹنل کے راستے پیٹرول ڈیزل ، گیس وغیرہ کے ایندھن بردار ٹینکروں کے علاوہ بانہال اور ضلع اننت ناگ کے مختلف علاقوں کا مقامی مسافر ٹریفک ہی چلتا ہے ۔ہمیشہ مصروف رہنے والی جواہر ٹنل اور شاہراہ اب سنسانی کے مناظر پیش کر رہی ہے اور اس سڑک کے دائیں بائیں اپنا روزگار کمانے والے سینکڑوں لوگ بھی بیروزگار ہوگئے ہیں۔
ٹنل کو خوبصورت بنانے اور مرمت کرنے کیلئے ایک پروجیکٹ کو منظوری دی گئی جس کے بعد پروجیکٹ بیکن نے جولائی 2021 میں جواہر ٹنل کے اندر اور باہر تجدید و مرمت کرکے اسے ایک سمارٹ اور انٹیلیجنٹ ٹنل کے طور پر بحال کرنے کا کام ہاتھ میں لیا اور اس کا مرمتی کام بی سی سی یا بیگ کنسٹرکشن کمپنی نامی تعمیراتی کمپنی کو سونپا گیا ۔ اڑھائی کلومیٹر سے زیادہ لمبی تاریخی جواہر ٹنل کی دو سرنگوں کی تجدید اور مرمت پر قریب 80 کروڑ روپے خرچ کرنیکا منصوبہ تھا۔جواہر ٹنل کے دونوں اطراف اور اندرون کو خوبصورت بنا کر اسے سیاحتی مرکز کے طور پر ابھارنے کا ہدف تھا جو کمپنی کی ناکامی کی وجہ سے ٹینڈروں کی منسوخی کے ساتھ ہی ختم ہوگیا ہے اور پروجیکٹ دو سال سے زائید کا عرصہ گذرنے جانے کے بعد بھی تشنہ تکمیل ہے۔ پروجیکٹ بیکن حکام نے کہا کہ حفاظتی اور دفاعی نقطہ نگاہ سے اہم اور 6 دہائی پرانی ٹنل کو اپ گریڈ کرکے اسے ایک جدید ٹنل کے طور بنانے کیلئے 365 دن کی ڈیڈلائن رکھی گئی تھی اور مرمت کیلئے یہ کام تعمیراتی کمپنی بی سی سی کو الاٹ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی سی نے منصوبے کے مطابق پہلے مشرقی سرنگ کا کام ہاتھ میں لیا لیکن مذکورہ کمپنی کئی مہینوں کے بعد بھی بیکن کی پروجیکٹ رپورٹ کے مطابق کام کو انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور تعمیراتی کمپنی کو کام شروع ہونے کے چھ مہینے کے اندرہی پروجیکٹ سے باہر کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیکن کی طرف سے ٹینڈر منسوخ کرنے تک جواہر ٹنل کے اندر تعمیراتی کمپنی نے محض 2.2 (2 اعشاریہ2 ) فیصد کام انجام دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی سرنگ میں کمپنی صرف ٹ کیبل تاروں کو اکھاڑنے کا ہی کام کرپائی اور مرمت کے بنیادی کام کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا تھا جس کیوجہ سے کمپنی کوجیکٹ سے باہر کردینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جواہر ٹنل کو اپ گریڈ کرنے کیلئے جلد ہی دوبارہ ٹینڈر جاری کئے جارہے ہیں اور کوئی نئی کمپنی جواہر ٹنل کی تجدید و مرمت کے کام دوبارہ شروع کرے گی تاکہ اس ٹنل کو پلان کے مطابق خوبصورت بنایا جائے اور اس کے اندر پانی کے رسائو کو بھی بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جواہر ٹنل پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے کے آرپار متبادل شاہراہ کے طور کام کرتا رہے گا اور آج بھی پیٹرول ، ڈیزل ، ایل پی جی اور دیگر بارودی مواد سے لدھی گاڑیوں کے علاوہ بانہال اور اننت ناگ کے علاقوں کے درمیان مقامی مسافر گاڑیوں کی اچھی تعداد جواہر ٹنل کے راستے ہی آرہی ہے۔