پلوامہ //پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقے میں دوران شب سرگرم جنگجو کے رہائشی مکان کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی جس کے خلاف لوگوں نے شبانہ احتجاجی مظاہرے کئے اور جمعرات کو یہاں ہڑتال کی گئی۔ پولیس نے واقعے کے حوالے سے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی جبکہ فوج نے الزامات کو مسترد کیا ۔ قصبہ پلوامہ کے گنڈباغ کاکہ پورہ علاقے میںنا معلوم فوجی اہلکاروں نے علاقے میں سرگرم جیش محمد سے وابستہ جنگجوعادل احمد عرف وقاص کے رہائشی گھر کے ارد گردبدھ اور جمعرات کی درمیانی رات چاروں طرف گھاس لگانے کے علاوہ مکان کے تمام باہری کھڑیوں اور دروازے پر مٹی کا تیل چھڑک کرآگ لگا دی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ابھی گھاس ہی جل رہا تھا جس کا دھواں اور آگ کے شعلے بھڑک اٹھے جس کی روشنی نزدیکی مکانوں کے اندر داخل ہوئی جسکی وجہ سے لوگ بیدار ہوئے اور جنگجوکے مکان کے نزدیک پہنچنا شروع ہوئے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ مکان کی طرف جارہے تھے تووہاں سے فوجی وردی میں ملبوس دو اہلکارفرار ہو رہے تھے جس کے ساتھ ہی علاقے کی تمام آبادی جن میں مرد و زن گھروںسے باہر آئی اور واقعے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔ مقامی لوگوںنے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آگ مقامی فوجی کیمپ کے اہلکاروں نے لگا کر جنگجو کے افراد خانہ کو زندہ جلانے کے علاوہ پوری بستی کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی ۔آبادی کا کہنا ہے کہ اگر مقامی لوگ فوری طور بیدار نہ ہوتے تو مکان، اس میں موجود اہل خانہ اور بستی راکھ میں تبدیل ہوجاتے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ آگ کی ایک ویڈیو بھی سماجی رابطہ سائٹوں پر وائرل ہوئی ہے جس ’’میں لوگ چلا چلا کر لوگوں سے ویڈیو کوشئیر کرنے کے علاوہ فوج اور ایس اوجی اہلکاروں پر آگ لگانے کے الزامات عائد کررہے ہیں ‘‘۔جمعرات کی صبح مقامی لوگوں نے واقعے کے خلاف احتجاج کر کے علاقے میں مکمل ہڑتال کی جس کے دوران کاکہ پورہ میں تمام قسم کی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں جبکہ ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا۔ادھر سرینگر میں مقیم فوجی ترجمان کرنل راجیش کالیانے فوج پر لگائے گئے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کیا کہ واقعے میں فوج ملوث نہیں ہے‘‘۔