یواین آئی
سیئول// جنوبی کوریا میں ہولوگرافک پولیس کی تعیناتی کے تجربے کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق جنوبی کوریا میں جرائم کی روک تھام کے لیے دل چسپ تکنیکی اقدام کا مثبت نتیجہ نکلا ہے، جس کے تحت بے جان پولیس افسران تعینات کیے گئے۔سیئول کے پارک میں ایک لائف سائز تھری ڈی ہولوگرام پولیس اہلکار نصب کیا گیا ہے جو شام 7 بجے سے رات 10 بجے تک فعال رہتا ہے، یہ اہلکار سیاحوں کو پیغام دیتا ہے کہ تشدد یا ہنگامی صورت میں پولیس فوری کارروائی کرے گی اور یہاں ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔یہ ایک تھری ڈی ہولوگرام ہے جو شہریوں کو ذہنی اطمینان فراہم کرنے اور بدنظمی کی روک تھام کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، یہ ہولوگرافک پولیس نظام دراصل ’’اسمارٹ پولیسنگ‘‘ کی جدید مثال ہے۔ اس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کی بغیر حقیقی موجودگی کے بھی عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کیا گیا ہے۔دل چسپ امر یہ ہے کہ یہ ’حقیقی پولیس اہلکار‘ نہ ہونے کے باوجود جرائم روکنے میں کردار ادا کر رہا ہے، اور اسے آبادی والے علاقوں کے قریب کھڑا کیا گیا ہے تاکہ شہریوں میں تحفظ کا احساس اجاگر کیا جا سکے۔اس ہولوگرام میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سے چلنے والا کیمرا لگا ہوا ہے جو لوگوں کو شناخت کرتا ہے، اور اس سے وقتاً فوقتاً آواز نکلتی رہتی ہے، اور حقیقی افسران اس ہولوگرام کے سیٹ اپ کو مانیٹر کرتے ہیں، اس سے پولیس کے لیے ایک کامیاب منصوبہ ثابت ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سے معاشرے میں بہت زیادہ نگرانی اور کنٹرول کا احساس ابھرتا ہے (جو اصطلاح میں ڈسٹوپین سسٹم کہلاتا ہے) تاہم، اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ سیئول کے ایک پولیس افسر کم ہیون ڈان نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ شہر کے اْن علاقوں میں جہاں ہولوگرام نصب کیا گیا ہے، جرائم میں 22 فی صد تک کمی آئی ہے، اور یہ نظام فوری نوعیت کے جرائم کو روکنے میں اثرانداز ہو رہا ہے۔