بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بقایاجات نے سنگین مالی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں پر واجب الادا رقم بڑھ کر 3,747 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے شعبہ بجلی پر غیر معمولی دبائو پڑ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو اسمبلی میں تفصیلی اعداد و شمار ایوان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ مجموعی بقایا رقم 3,74,735.42 لاکھ روپے ہے، جس میں کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت 2,31,022.41 لاکھ روپے اور جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت 1,43,713.01 لاکھ روپے شامل ہیں۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سب سے بڑا نادہندہ سامنے آیا ہے، جس پر 1,30,043 لاکھ روپے واجب الادا ہیں، جبکہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ 58,059.72 لاکھ روپے کے بقایاجات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ سیکورٹی اداروں میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس پر 29,638.45 لاکھ روپے، فوج پر 19,719.94 لاکھ روپے جبکہ سرحدی حفاظتی فورس پر 1,116.87 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔محکمہ داخلہ پر 22,306.46 لاکھ روپے جبکہ محکمہ مکانات و شہری ترقی کے ذمہ 14,449.47 لاکھ روپے ہیں۔ حیران کن طور پرمحکمہ بجلی خود 10,756.53 لاکھ روپے جبکہ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن پر 2,277.51 لاکھ روپے کے واجبات ہیں۔بلدیاتی ادارے بھی اس بوجھ میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں، جہاں میونسپل اداروں پر 24,163.80 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ محکمہ مال وریلیف پر 8,227.62 لاکھ روپے، صحت و طبی تعلیم پر 11,989.31 لاکھ روپے اوردیگر محکموں میں محکمہ سیاحت4,759.05 لاکھ روپے، محکمہ تعلیم 2,866.40 لاکھ روپے، محکمہ تعمیرات عامہ1,951.21 لاکھ روپے اور محکمہ دیہی ترقی 1,062.95 لاکھ روپے کا فیس ادا کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔اعداد و شمار میں مرکزی ایجنسیوں اور پبلک سیکٹر اداروں جیسے این ایچ پی سی، این ایچ اے آئی، ریلوے، پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا، بی ایس این ایل اور پرساربھارتی کے بقایاجات بھی شامل ہیں، جبکہ جے ڈی اے، یو ڈی اے، سڈکو اور ایس آر ٹی سی جیسے ادارے اور کارپوریشن بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکام) نادہندہ محکموں اور اداروں سے بقایاجات کی وصولی کیلئے سرگرم عمل ہے اور اس عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ واجبات کی یہ بھاری رقم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جموں و کشمیر کا پاور سیکٹر شدید مالی دبائو سے گزر رہا ہے، جہاں بڑی مقدار میں ادائیگیاں سرکاری اور ادارہ جاتی استعمال میں پھنس کر رہ گئی ہیں، جس کے حل کیلئے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔