نیوز ڈیسک
جموں// جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں کے گاندھی نگر علاقے میں واقع پینتھرس پارٹی کے دفتر کو انتظامیہ نے سیل کیا۔معلوم ہوا ہے کہ پیر کی صبح اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ کے آفیسران گاندھی نگر جموں پہنچے اور وہاں پینتھرس پارٹی کے دفتر کو سربمہر کیا۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پینتھرس پارٹی کے دفتر کیوں سیل کیا گیا۔بتادیں کہ گزشتہ روز ہی ہرش دیو سنگھ نے عام آدمی پارٹی کو خیر باد کہہ کر پینتھرس پارٹی کو پھر سے فعال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیشنل پینتھرس پارٹی ولکشن سنگھ نے 30-بی گاندھی نگر پارٹی دفر سیل کرنے کی سخت مذمت کی ہے جسے نیشنل پینتھرس پارٹی کے پارٹی دفتر اور پروفیسر بھیم سنگھ کی بیوہ جے مالا کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے دفتر کو سیل کرنا انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر انسانی، امتیازی اور آمرانہ عمل ہے۔ سنگھ نے کہا کہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو حکومت کو یہ اختیار دیتا ہو کہ وہ متعلقہ کو نوٹس جاری کیے بغیر کسی قابض کو بے دخل کر دے۔ سنگھ نے کہا کہ ہرش دیو سنگھ کے نیشنل پینتھرس پارٹی میں دوبارہ شامل ہونے کا اعلان کرنے کے بعد بی جے پی زبردست دباؤ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پورے ملک میں اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے تاکہ لوگوں کی حقیقی آواز کو دبایا جائے اور حکومت کے ان کے آمرانہ رویہ پر سوال اٹھانے والا کوئی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سستے ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر بی جے پی جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے حوصلے پست نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کے خلاف ان کے کام پر قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
جموں میں پینتھرس پارٹی کادفتر سربمہر | پارٹی سیخ پا،قانونی چارہ جوئی کا انتباہ دیا