یٰسین جنوعہ
جموں //جموں اور اس کے ملحقہ اضلاع میں لوہڑی کا تہوار مذہبی جوش و خروش اور عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا ۔ لوہڑی کے تہوار کوجوش و خروش کے ساتھ منانے کی پرانی روایت ہے جو موسم سرما سے بہار کی طرف منتقلی کی علامت ہے۔ یہ تہوار، موسم سرما کی سردی کو الوداع کرنے اور گرم دنوں کے آغاز کی علامت ہے جوکہ گزشتہ روز مختلف مقامات پر مذہبی جوش و خروش اور خوشی کے ساتھ منایا گیا۔ لوہڑی کو بنیادی طور پر فصل کی کٹائی کا تہوار سمجھا جاتا ہے، جو موسم سرما کی کٹائی کے موسم کے اختتام کو ظاہر کرتا ہے یہ تہوار کسانوں کے لئے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ فصلوں کی کامیاب کٹائی کا جشن مناتا ہے۔لوہڑی مکر سنکرانتی سے پہلے کی رات کو منائی جاتی ہے، جو کہ سردیوں کی زور کا حتمی روز بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ سرد ترین دنوں کے خاتمے اور دن کی روشنی کے دورانیے میں بتدریج اضافے کی علامت ہے۔
جموں میں مختلف مقامات پر مقامی لوگ روایتی ڈوگری رقص میں مصروف جبکہ مختلف مقامات پر اس سلسلہ میں منعقد کی گئی تقریبات میں خواتین اور بچے شامل تھے جنہوں نے متنوع ملبوسات زیب تن کئے، تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ایک دوسرے کولوہڑی کی مبارکباد دی ۔اس دوران مسلم کمیونٹی کے ارکان کو اس خوشی کے موقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے، اپنے ہندو ہم منصبوں کو لوہڑی کی گرمجوشی کی مبارکباد دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ اگرچہ اس قدیم طرز عمل کو جدیدیت کی وجہ سے شہری علاقوں میں چیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن یہ دیہی علاقوں میں فروغ پا رہا ہے، جس نے تہوار میں پرانی یادوں کا اضافہ کیا ہے۔ جموں کے بازار میں گھنی دھند کے باوجود بھی لوگوں کا رش رہا جبکہ تاجروں کی جانب سے بھی مختلف مارکیٹوں میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئی تھی جن کے دوران آگ جلا کر رقص کرنے کیساتھ ساتھ خوش بھی منائی گئی ۔اس دوران لوگوں نے شام کے دوران مونگ پھلی ،ریویڈیاں اور پوجا کی دیگر ضروری اشیاء کیساتھ مندروں و دیگر مذہبی مقامات پر خصوصی پوجا بھی کی ۔اس سال، سخت سردی کی وجہ سے، جموں بھر کے باشندوں نے شام کو الاؤ روشن کیااور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی ۔ہندو کیلنڈر کے مطابق، لوہڑی جنوری کے وسط میں آتی ہے، جو سورج کی طرف زمین کے سفر اور سرد ترین مہینے، پوہ کے اختتام کی نشاندہی کرتی ہے۔جموں کیساتھ ساتھ سانبہ ضلع میں بھی لوہڑی کا تہوار مذہبی جوش و خروش کیساتھ منایا گیا ۔ضلع میں اس سلسلہ میںڈائریکٹوریٹ آف ٹورازم،جموں وکشمیر کلچرل اکیڈمی اور سیول سوسائٹی کی موجودگی سانبہ کے قلعہ میں ایک تقریب منعقد کی گئی ۔اس تقریب میں مختلف ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے ڈوگرہ فن اور ثقافت کی بھرپور نمائش کی گئی۔ روایتی ڈوگرہ ملبوسات میں ملبوس طلباء نے ایک دلکش ریمپ واک کے ذریعے ثقافتی تنوع کا مظاہرہ کیا۔سانبہ میں بی ایس ایف کے جوانوں نے لوہڑی کے تہوار کے موقع پر ضلع کے سرحدی گاؤں چلیاری کی فارورڈ پوسٹ پر ایک پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر ڈی ڈی سی نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر بی ایس ایف کے جوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ فوجیوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح سرحد پر فوری طور پر ڈیوٹی سرانجام دینا ہے۔ تہوار کے موقع پر بارڈر سیکورٹی فورس کے جوانوں نے بھرپور رقص کیا۔ مونگ پھلی، ریواڑی، گجک اور دیگر اقسام کی اشیاء تقسیم کیں۔
این سی لیڈران نے تہوار پر جشن منایا
عظمیٰ نیوز سروس
جموں //شیر کشمیر بھون میں مقدس آگ روشن کرکے لوہڑی کا تہوار مذہبی جوش و خروش کیساتھ منایا گیا ۔اس دوران پارٹی لیڈران نے مقدس آگ جلا کر تل ،گچک،گڑ ،مونگ پھلی ودیگر ضروری اشیاء نذر آتش کیں ۔اس سلسلہ میں منعقدہ تقریب میں سرکردہ کارکنان شامل ہوئے اور ایک دوسرے کو لوہڑی کی مبارکباد دیتے ہوئے خوشی اور محبت کے جذبات کوعام کرنے کی کوششیں کیں جبکہ شرکاء نے جموں و کشمیر میں امن و سکون کیلئے خصوصی دعائیں کیں ۔لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے شیخ بشیر احمد صوبائی سکریٹری جموں نے امید ظاہر کی کہ یہ تہوار ریاست میں امن اور خوشحالی کا محور ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تہوار بھائی چارے کے رشتوں کو فروغ دینے اور مزید مضبوط کرنے کی اہم ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں جو تمام مذاہب کا نچوڑ ہے۔شیخ بشیر احمد نے تہواروں کو ریاست کی شاندار اخلاقیات کا ذخیرہ قرار دیا، جو زمانہ قدیم سے بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ منائے جاتے رہے ہیں۔
لوہڑی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا نشان:چاڑک
عظمیٰ نیوز سروس
جموں //لوہڑی کا تہوار منانے کیلئے ڈوگرہ بھون جموں میں ڈوگرہ صدر سبھا کی جانب سے ایک تقریب کا اہتمام کیاگیا جس میں ڈوگرہ صدر سبھا اور سابقہ وزیر گلچین سنگج چاڑک نے کہا کہ جموں وکشمیر کیساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں لوہڑی کوفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نشان کے طورپر دیکھا جاتا ہے ۔موصوف نے کہا کہ ’ہمارے تہواروں کا متنوع ممالک کا تعلق موسموں اور زراعت سے بھی ہے ۔اس سلسلہ میں منعقد کی گئی تقریب میں سماج کے ہر ایک طبقہ کے لوگوں نے شرکت کے ایک دوسرے کو لوہڑی کی مبارکباد پیش کی ۔مقررین نے کہاکہ ملک میں صدیوں سے مذکورہ تہوار منا کر فصلوں کی کٹائی کا آغاز اور موسم سرما کے خاتمے کا اعلان کیاجاتا ہے ۔
بھاجپا ہیڈ کوارٹر تریکو ٹہ نگر میں تقریب
لیڈران نے ایک دوسرے کو لوہڑی کی مبارکباد پیش کی
عظمیٰ نیوز سروس
جموں //بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے اپنے سینئر لیڈروں کی قیادت میں پارٹی ہیڈ کوارٹر تریکوٹہ نگر میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں بھاجپا کے ریاستی صدر رویندر رینہ کیساتھ ساتھ دیگر سنیئر لیڈران نے شرکت کی ۔اس تقریب کے دوران پارٹی کے سینئر لیڈروں نے لوہڑی کی مقدس آگ کے گرد ڈھول کی تھاپ پر روایتی گانوں کی دھنوں پر رقص کیا۔ پارٹی لیڈروں نے اس موقع پر پاپ کارن، مونگ پھلی، ریوڑی، گجک وغیرہ کے روایتی مرکب سے لطف اندوز ہوئے۔اس موقع پر رویندر رینہ نے ملک کے تمام باشندوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تہوار ہر انسان کے لئے خوشی، امن اور خوشحالی لے کر آتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر لوگوں کو مکر سنکرانتی کے مقدس موقع کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔جگل کشور شرما نے کہا کہ لوہڑی کا تہوار’ماگھ ‘مہینے کے آغاز سے مطابقت رکھتا ہے، جو کہ لوہڑی کے صرف ایک دن بعد شروع ہوتا ہے جوسردی کے خاتمے کا اشارہ دیتا ہے ۔اشوک کول نے کہا کہ ’لوہڑی ‘ منانا ہمیشہ خوشگوار ہوتا ہے کیونکہ یہ پوری دنیا کیلئے خوش قسمتی کی امید میں موسم کی خوبصورت تبدیلی کے ساتھ ہمارے درمیان بھائی چارے کا اشارہ دیتا ہے۔اس تقریب میں بھاجپا ریاستی صدر رویندر رینہ ،ممبر پارلیمنٹ جگل کشور شرما اور اشوک کول کیساتھ ساتھ کویندر گپتا، نائب صدر انورادھا سنگھ، صوفی یوسف اور اسیم گپتا، جنرل سکریٹری ڈاکٹر دیویندر کمار منیال، دیویندر سنگھ رانا، وکرم رندھاوا، تلک راج گپتاکیساتھ ساتھ دیگران بھی موجود تھے ۔
لوہڑی کا تہوار رام بن میں دھوم دھا م سے منا یا گیا
ایم ایم پرویز
رام بن//ضلع رام بن میں ہندو برادری کی جانب سے لوہڑی کے موقع پر الاؤ روشن کیا گیا۔یہ تہوار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹاؤن، رام بن، چندر کوٹ بٹوٹ اور رامسو میں دھوم دھام سے منایا گیا۔ شام کو منتروں کا جاپ کرتے ہوئے شعلوں میں مٹھائیاں، پفڈ چاول اور پاپ کارن پھینک کر الاؤ کے گرد جمع ہوکر جشن منایا گیا ۔پوجا کرنے کے بعد مونگ پھلی، ریواڑی، آٹا اور کھانے کی مختلف چیزیں اس موقع پر موجود سبھی لوگوں میں تقسیم کی گئیں۔لوہڑی کو موسم بہار کے خوشگوار سیشن کا آغاز سمجھا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے سردیوں کو الوداع کہتے ہیں۔رام بن شہر کے پنجابی محلہ اور کچھ دیگر مقامات پر بچوں کو گھر گھر جاتے ہوئے بزرگوں سے لوہڑی جمع کرتے ہوئے دیکھا گیا۔