یو این آئی
جموں//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ ملاقات کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بلڈوزر چلانے، پراپرٹی ٹیکس لاگو کرنے اور ایپ ٹیک کمپنی کو امتحانات منعقد کرانے جیسے فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ فاروق عبداللہ جموں میں آل پارٹی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں پچھلے کئی برسوں سے اسمبلی چناو نہیں ہوئے جو حیران کن ہے۔ کل جماعتی میٹنگ کے دوران فیصلہ لیا گیا کہ جموں وکشمیر لیڈروں کا ایک وفد نئی دہلی روانہ ہوگا اور وہاں مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ ملاقات کے دوران جموں وکشمیر کی صورتحال کے بارے میں انہیں آگاہی فراہم کریں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دن بھر کل جماعتی میٹنگ کے دوران سبھی سیاسی رہنمائوں کے ساتھ گفت وشنید کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسمبلی انتخابات میں تاخیر پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے۔
انہوں نے کہاکہ آئین کے تحت کسی بھی ریاست میں چھ ماہ کے اندر اندر الیکشن کرانا ناگزیر ہوتا ہے لیکن جموں وکشمیر میں پچھلے کئی برسوں سے چنائو نہیں ہو ئے۔ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں وکشمیر میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور جی 20اجلاس یوٹی میں بھی منعقد کرنے کا منصوبہ ہے لیکن اسمبلی چنائو میں تاخیر سمجھ سے بالا تر ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر حالات معمول پر آئے ہیں تو اسمبلی چنائو میں تاخیر کیوں ؟۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر کا ایک وفد قومی قیادت کو اراضی بے دخلی مہم ، بھرتیوں میں گھپلے ، پراپرٹی ٹیکس لاگو کرنے جیسے مسائل سے آگاہ کرئے گا تاکہ وہ ہمارے مسئلے کو سمجھیں اور اسے آنے والے پارلیمانی اجلاس میں مناسب طریقے سے اٹھا ئے۔ پراپرٹی ٹیکس لاگو کرنے کے بارے میں فاروق عبداللہ نے کہاکہ سرکار نے اس حوالے سے لوگوں یا لیڈر شپ کو اعتماد میں نہیں لیا۔انہوں نے کہاکہ بلڈوزر مہم کے بعد جموں وکشمیر کے لوگوں پر ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام میں الیکشن کا انعقاد ناگزیر ہوتا ہے لیکن جموں وکشمیر واحد ایسی ریاست ہے جہاں پر پچھلے کئی برسوں سے چنائو ہی نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اگر حالات پوری طرح سے معمول پر آئے ہیں جیسا کہ بی جے پی کے قدر آور لیڈر دعویٰ کر رہے ہیں تو اسمبلی چناو کرانے میں کیا حرج ہے۔اْن کے مطابق اس وقت جموں وکشمیر کے لوگوں کو گونا گوں مصائب ومشکلات کا سامنا ہے ، بے روزگاری نے سنگین رخ اختیار کیا ہوا ہے ، جائیداد ٹیکس کے نام پر لوگوں کو ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کیا گیا اس سب کو دیکھتے ہوئے ہم نے قومی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملاقات کرنے کا پروگرام بنایا ہے تاکہ انہیں جموں وکشمیر کی اصل صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔