سمت بھارگو
راجوری//جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پر مسلسل بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور پتھروں کے گرنے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہونے کے دوران تاریخی مغل روڈ نے ایک مرتبہ پھر اپنی غیر معمولی اسٹریٹجک اور عوامی اہمیت ثابت کر دی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے قومی شاہراہ کی بندش کے باعث جہاں ہزاروں مسافر، سیاح اور مال بردار گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئی ہیں، وہیں مغل روڈ وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ بن کر ابھرا ہے۔مسلسل خراب موسم اور ریاست کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود مغل روڈ زیادہ تر وقت ٹریفک کے لیے کھلا رہا، جس کی وجہ سے وادی کشمیر کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہونے سے بچ گیا۔ اس دوران بڑی تعداد میں مسافر بردار اور مال بردار گاڑیاں اسی سڑک کے ذریعے اپنی منزلوں تک پہنچ رہی ہیں، جبکہ کشمیر جانے اور وہاں سے آنے والی گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں موسلادھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھروں کے کھسکنے کے واقعات پیش آئے، جن سے کئی رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیںتاہم مغل روڈ صرف دو روز قبل مختصر وقت کے لیے متاثر ہوئی، جب ایک مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی۔
متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملبہ ہٹا کر شاہراہ کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا۔حکام کے مطابق خراب موسم کے پورے عرصے کے دوران مغل روڈ کو تمام اقسام کی گاڑیوں کے لیے کھلا رکھا گیا، جس کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں خطے کے درمیان ضروری اشیائے خوردونوش، طبی سامان اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی جاری رہی۔ اس اقدام سے نہ صرف عام شہریوں کو سہولت ملی بلکہ تجارت اور نقل و حمل کا سلسلہ بھی مکمل طور پر منقطع ہونے سے محفوظ رہا۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ سرنکوٹ فاروق خان نے بتایا کہ مسلسل خراب موسمی حالات کے باوجود مغل روڈ کو کھلا رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعمیرات عامہ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے مسلسل متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اس شاہراہ پر ٹریفک کا دباؤ تقریباً دوگنا ہو چکا ہے، تاہم انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں کی محفوظ اور منظم آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہ پر تعینات عملہ چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ یا دیگر رکاوٹ کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹریفک کو بحال کیا جا سکے۔ حساس مقامات پر مشینری بھی تیار رکھی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری ملبہ ہٹایا جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب مغل روڈ نے اپنی اہمیت ثابت کی ہو۔ گزشتہ برس مئی میں رام بن ضلع میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جموں۔سرینگر قومی شاہراہ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا، اس وقت بھی مغل روڈ ہی واحد زمینی راستہ تھا جس نے وادی کشمیر کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے برقرار رکھا تھا۔اسی طرح گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد جب وادی میں موجود بڑی تعداد میں سیاحوں نے اپنی واپسی کا فیصلہ کیا تھا تو مغل روڈ ان کے لیے سب سے اہم اور قابل اعتماد راستہ ثابت ہوئی تھی۔ ہزاروں سیاح اسی شاہراہ کے ذریعے بحفاظت جموں اور دیگر ریاستوں کی جانب روانہ ہوئے تھے، جس سے اس سڑک کی افادیت مزید نمایاں ہو گئی۔حالیہ صورتحال نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ قدرتی آفات، شدید بارشوں اور قومی شاہراہ کی بندش جیسے ہنگامی حالات میں مغل روڈ نہ صرف عوامی سہولت بلکہ اسٹریٹجک اعتبار سے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عوامی نمائندوں، سماجی تنظیموں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مغل روڈ کو آل ویدر شاہراہ میں تبدیل کرنے، اس کی توسیع، جدید حفاظتی انتظامات، مستقل دیکھ بھال اور بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قدرتی آفت یا ہنگامی صورتحال کے دوران وادی کشمیر کا زمینی رابطہ بلا تعطل برقرار رکھا جا سکے۔